بابر اعظم ٹاپ اسکورر لیکن حسن علی نے آخری لمحات میں کون سا میدان مارا

رپورٹ: عمران عثمانی

پاکستان اور جنوبی افریقا کی ٹی 20سیریز کی فاتح پاکستانی ٹیم نکلی،یہی نہیں بلکہ اس نے 2018 کے بعد پہلی بار اپنے ملک یا عرب امارات کے باہر پہلی ٹی 20 سیریز جیتی ہے،3 سال بعد کسی تیسرے ملک میں ٹی 20 ٹرافی اٹھانا کوئی معمولی بات نہیں ہے،اسی طرح بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان نے اوور آل مسلسل چوتھی سیریز جیتی ہے.تینوں فارمیٹ میں ھریف ٹیم جنوبی افریقا ہی رہی ہے کیونکہ پاکستان نے سال کے شروع میں اپنے ملک میں ٹیسٹ اور ٹی 20 سیریز جیتی اور اس کے فوری بعد اس نے جنوبی افریقا میں ون ڈے اور ٹی 20 سیریز کی ٹرافیز اپنے نام کی ہیں.

حالیہ ٹی 20 سیریز میں مین آف دی سیریز کا ٹائٹل جیتنے والے بابر اعظم اس سیریز میں اوور آل ٹاپ اسکورر رہے،انہوں نے 4اننگز میں 52سے زائد کی اوسط سے 210 اسکور کئے.ایک سنچری اور ایک ففٹی بنائی،ہائی اسکور 122تھا.ایڈن مارکرم 179 رنزکے ساتھ دوسرے اور محمد رضوان 147کے ساتھ مجموعی لسٹ میں تیسرے نمبر پر رہے.جانی میلان 127 اور کلاسین110کے ساتھ اگلی پوزیشن پر آئے ہیں،دونوں ممالک کی جانب سے ان کے علاوہ کوئی بھی بیٹسمین 100 اسکور نہیں کرسکا.فخر زمان نے 3اننگز میں 95 اور محمد حفیظ صرف 55 اسکور ہی کرسکے،فہیم اشرف 42 اور حیدر علی 4 میچزکی 3 اننگز میں 29 تک ہی جاسکے.آصف علی کا مجموعی اسکور 5ہی رہا ہے.

یہ ہے پاکستانی بیٹنگ لائن کا کمال،آسان میچ میں ڈرامائی جیت،سیریز بھی اڑالی

بائولنگ میں حسن علی نے آخری دن میدان مار لیا.انہوں نے18 اعشاریہ 71کی اوسط سے 7وکٹ لے کر پہلی پوزیشن لے لی،جنوبی افریقا کے ولیمز نے بھی 7آئوٹ کئے لیکن ان کا ایوریج 21سے زائد رہا.محمد نواز نے 5 اور فہیم اشرف وتبریز شمسی نے 4،4 وکٹیں لیں.اس طرح پاکستانی بائولنگ لائن کی عملی کاٹ کم ہی دکھائی دی.کہنے کو تو پاکستان نے 1-3سے یہ سیریز جیت لی ہے لیکن حقیقت میں بائولنگ لائن کی کمی واضح دکھائی دی ہے ،اسی طرح مڈل آرڈر بیٹنگ بھی ناکام گئی ہے.

بابر اعظم کے لئے مارکرم آج بڑا خطرہ کیسے،بیٹنگ و بائولنگ میں دلچسپ کشمکش،کس کے لئے مسئلہ

فتح کے پاکستانی کپتان نے کہا ہے کہ جنوبی افریقا میں جیتنا آسان نہیں تھا لیکن یہ کسی ایک فردکا کارنامہ نہیں ہے بلکہ یہ ٹیم ورک ہے جس میں سب کا ہی بنیادی کردار ہے.