کراچی کنگز کی شکست کی بڑی وجہ بابر اعظم قرار،کپتان عماد وسیم بھی ذمہ دار،امپائر سے الجھ پڑے

عمران عثمانی

دفاعی چیمپئن کراچی کنگز اسلام آباد کے خلاف ریکارڈ شراکت کا اعلیٰ ریکارڈ قائم کرکے،ایک بیٹسمین کی جانب سے شاندار سنچری کے باوجود کیوں ہار گئی،یہ ہے وہ سوال جو کراچی کنگز کے مداحوں کے لئے کسک چھوڑ گیا ہے،اہم بات یہ نہیں ہے کہ پی ایس ایل 6 میں پہلے بلے بازی کرنے والی ٹیم مسلسل ہار رہی ہے،یہ چھٹا میچ تھا کہ جب ایسا ہوا لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کراچی کنگز اتنے گولڈن مواقع کے باوجود کیوں ہار گئی۔اس ٹیم میں پاکستان کے کل وقتی کپتان بابر اعظم کھیل رہے ہیں لیکن کپتان کے طور پر نہیں بلکہ ایک عام کھلاڑی کے طور پر شریک ہیں،قیادت عماد وسیم کر رہے ہیں تو کیا یہ معاملہ اب کھل کر سامنے آنے والا ہے،اس کا فیصلہ وقت کرے گا لیکن ایک بات دیکھنے میں آئی ہے کہ مسلسل تیسرے روز تیسری ٹیم کے کپتان اپنا حوصلہ چھوڑتے دیکھے گئے،ایک موقع پر عماد وسیم نے جب بال کی تو بیٹسمین کی ہٹ دوسرے اینڈ پر کھڑے بیٹسمین سے ٹکرا کر نکل گئی،بیٹسمینوں کے رنز لینے پر عماد وسیم سارا غصہ امپائر پر نکالتے چلے گئے،ان کا کہنا یہ تھا کہ جب بال بیٹسمین کو لگ گئی ہے تو رنز نہیں بن سکتے لیکن امپائر نے سنی ان سنی کردی۔
شرجیل کی سنچری حجت نہ تاریخی پارٹنر شپ،روایت قائم ،اسلام آباد نے کراچی کو پچھاڑ دیا
دوسری اہم بات یہ دیکھی گئی کہ دونوں جانب سے ناقص فیلڈنگ دیکھنے کو ملی۔تیسری خاص بات یہ تھی کہ نوبالز پر کھلاڑی آئوٹ ہوتے رہے اور تیسری قابل ذکر بات یہ رہی کہ شرجیل خان نے شاداب کے ایک اوور میں 4چھکے لگادیئے۔
نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں دفاعی چیمپئن کراچی کنگز ٹیم اچھے آغاز اور شر جیل کی سنچری،پہلی وکٹ پر 176رنزکی شراکت کے باوجود کیوں ہار گئی تو اس کی سیدھی سادھی 2 ہی وجوہات تھیں۔
پہلی وجہ تفصیلی ہے کہ کراچی کنگز نے اپنی اننگ کا آغاز نہایت محتاط کیا،پہلے اوور میں 4،دوسرے اور تیسرے اوور میں 5،5رنزبنے،اب اسکور14تھا۔5اوورز میں 30 تھا،شرجیل نے 13بالز پر 5 اوربابر نے17گیندوں پر 25کئے۔اندازا کریں کہ کراچی کے شروع کے 6اوورز میں شرجیل کا انفرادیا سکور بھی 6تھا اور گیندیں17 کھیل چکے تھے،اس کے مقابلے میں بابر 19 بالز پر 27کرچکے تھے ،وہ سیٹ تھے اور ٹھیک جارہے تھے۔9ویں اوور میں شرجیل نے شاداب کو 4چھکے لگاکر اپنامعاملہ صاف کردیا۔80 اسکور تھا،بابر کے 27بالزپر34 اور شرجیل کے 27بالز پر 45اسکور تھے۔اگلے 5اوورز میں 48رنزبنے تو 14 اوورز میں اسکور 128 اور 15ویں اوورر میں 12 بنے تو اسکور 140 تھا۔بابر اعظم دھیرے دھیر بوجھ بن رہے تھے،ان کا اسٹرائیک ریٹ ڈائون ہوتا جارہا تھا۔بابر نے 14ویں سے 16اوور کے دوران صرف 6رنزبنائے۔دونوں نے 17واں اوور ضائع کردیا اور6رنزکئے۔18ویں اوور میں 13رنزبنے،اسکور اب بناکسی نقصان کے 176تھا۔19ویں اوور میں بابر اور شرجیل اوپر تلے گئے،اب بابر کی اننگ کا جائزہ لیں کہ شروع میں وہ شرجیل سے بہت تیزکھیل رہے تھے،سیٹ ہونے کے بعد اور سست ہوتے گئے،آخری6اوورز میں بابر نے 2 اوورز جتنی بالیں کھیلیں اور اتنے ہی اسکور کئے،یہ اتنا بڑا نقصان تھا کہ ٹیم 220سے 230رنزبنانے کا موقع گنواگئی۔بابر کی اننگ 54بالز پر 62تک محدود رہی،اس کے مقابلے میں شرجیل نے 59بالز پر 105کئے۔بابر کا اسٹرائیک ریٹ انٹر نیشنل کرکٹ کے معیار سے بہت دور رہا،ان کی یہ ہاف سنچری کراچی کنگز پر بھاری پڑی،سیٹ ہونے کے بعد انہیں کم سے کم 54 بالز پر 80سے زائدا سکور کرنے چاہئے تھے لیکن نہیں کئے،یہ سلو بیٹنگ کراچی کنگز کے کم اسکور ہونے اور میچ نہ جیتنے کا سبب بنی۔
دوسری بڑی وجہ عماد وسیم کا اپنے بائولرز کا بہتر استعمال نہیں تھا۔جس وقت یونائیٹڈ کے 4کھلاڑی 82پر آئوٹ ہوگئے تھے،وہاں پر محمد نبی سے اٹیک کروانا ضروری تھا کیونکہ نبی خطرناک گیند باز ہیں لیکن انہیں وہی گھسے پٹے فارمولے کے تحت 14ویں،16 اور 18ویں اوور کی تھیوری پر رکھا گیا۔نتیجہ سامنے ہے۔دفاعی چیمپئن ٹیم کی یہ شکست کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ اسے آسانی سے بھلایا جاسکے۔