آسٹریلیا کا ٹی 20میں کرکٹ جنازہ،قلیل اسکور،رینکنگ میں بدترین تنزلی

0 24

کرکٹ کی دنیا نے یہ وقت بھی دیکھ لیا
کرکٹ کی دنیا نے یہ وقت بھی دیکھ لیا ہے کہ اپنے آپ کو دنیا سے برتر جاننے والے آسٹریلین کا کیسے دھڑن تختہ ہوا ہے،ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے خلاف آخری ٹی 20میچ میں وہ کم ترین اسکور پر آئوٹ ہوگئے،یہ کالک بھی ملنی باقی رہ گئی تھی کیونکہ بس اسی بات کی اب کمی تھی،ایک بات اور جو 2 مسلسل دوروں میں دیکھنے کو ملی ہے،وہ یہ کہ ویسٹ انڈیز میں بھی آسٹریلیا کو 5 میچزکی سیریز میں 1-4 کی شکست ہوئی ہے اور اب بنگلہ دیش میں بھی ایسا ہی ہوا کہ شکست کا نتیجہ 1-4 کی صورت میں سامنے آیا ہے.
پیر کو ڈھاکا میں کھیلے گئے میچ میں بنگلہ دیش نے پہلے کھیل کر 8 وکٹ پر صرف 122 رنزبنائے جو کسی طرح بھی زیادہ اسکور نہیں تھے،محمد نعیم کے 23 اسکور سب سے زیادہ تھے،اس سے اندازا لگالیں کہ باقی سب ان سے نیچے رہے اور آسٹریلیا کو میچ جیتنے کا موقع فراہم کردیا.دوسری جانب مہمان ٹیم بھی شاید جیتنے نہیں ہارنے آئی تھی کہ نہ اسکور کا دبائو تھا اور نہ بڑے ہدف کا خوف ،120 بالز پر 123 اسکور کیا مسئلہ ہوسکتے تھے لیکن شاید مسئلہ نہیں بلکہ مسائل ہی تھے کہ آسٹریلین اپنی تاریخ کے کم ترین اسکور 62پر ڈھیر ہوگئے اور اس کے لئے انہوں نے 14 اووز بھی پورے نہیں کھیلے.بس ایک کپتان میتھیو ویڈ ہی تھے جو 22 کرگئے،ان کے علاوہ 9 کھلاڑی ڈبل فیگر کو بھی نہ پہنچ سکے.

شکیب الحسن کی جادوگری

یہاں شکیب الحسن کی جادوگری بھی چلی کہ انہوں نے 4اوورز کے قریب کی بائولنگ میں صرف 9رنز دے کر 4 وکٹیں لیں ،ان کے علاوہ محمد صفی الدین نے 2 وکٹیں لیں.بنگلہ دیش نے 5واں ٹی 20میچ60 رنز سے جیت لیا،شکیب صرف میچ ہی نہیں بلکہ سیریزکے بہترین پلیئر بن گئے.

آسٹریلیا کی تباہی کا اندازا

آسٹریلیا کی تباہی کا اندازا اس بات سے لگالیں کہ 8واں اوور جاری تھا.38 اسکور تھے اور 2 آئوٹ تھے لیکن پھر اگلے 6 اوورز بھی نصیب نہ ہوئے اور 24 رنزکے اضافہ سے ٹیم یہ گئی اور وہ گئی،یہ ٹی 20 انٹر نیشنل کرکٹ میں آسٹریلیا کو کم ترین اسکور ہے جو اس کے ماتھے کا جھومر بن گیا ہے،یہ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کی لسٹ میں چوتھا کم ترین مجموعہ تھا اور یہ اوور آل 17واں قلیل اسکور بھی ہے اور یہ سب آسٹریلین کے ساتھ ہوگیا .
ورلڈ ٹی 20 کے سال میں آسٹریلیا کی یہ نہایت ہی مایوس کن کارکردگی ہے کہ آخری 10میچزمیں سے 8 میں اسے ناکامی ہوگئی ہے اور صرف 2 فتوحات ملی ہیں،ٹیم اب چھٹے نمبر سے 9ویں رینکنگ پر چلی گئی ہے جس کے بعد اس سے ورلڈ ٹی 20میں کیسی پرفارمنس کی امید کی جاسکتی ہے.اس فتح کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں جشن ہے،کرکٹ کے مداحوں نے سر عام خوشیاں منائی ہیں.
آسٹریلیا کو بے شک بڑے اسٹارز کی خدمات حاصل نہیں تھیں لیکن اس کے باوجود یہ شکست قابل گرفت ہے کیونکہ ورلڈ ٹی 20 متحدہ عرب مارات میں ہونا ہے اور وہاں کی کنڈیشنز بھی اسپنرز کی مدد گار ہونگی،اس نکتہ نگاہ سے آسٹریلیا کو آگے بھی بڑی شکستیں ہوسکتی ہیں جو اس کے لئے مسئلہ بنیں گی،ابھی ان کے کھلاڑی ملک کی نمائندگی کی بجائے پرائیویٹ لیگز کی جانب متوجہ ہیں.
یہ بھی دیکھیں
چوتھا ٹی20 آسٹریلیا جیتا یا بنگلہ دیش ہارا،فیصلہ آپ پر

Leave A Reply

Your email address will not be published.