آسٹریلوی کرکٹرز وارنر اور سلیٹر مالدیپ بار میں گتھم گتھا،خبر لیک ہونے پر عجب موقف

آسٹریلیا کے سابق اور موجودہ کرکٹر کے درمیان مالدیپ میں مار کٹائی اور ایک دوسرے پر حملے کی خبروں کے چرچے ہیں.غیر ملکی میڈیا میں اس جھگڑے کو نمایاں جگہ ملی ہے اور کئی گھنٹوں بعد دونوں جانب سے کمزور تردید سامنے آئی ہے.

ڈیوڈ وارنر آسٹریلیا کے حاضر سروس اوپنر ہیں جبکہ بھارتی آئی پی ایل میں کپتانی بھی کر رہے تھے،بعد میں ان کی جگہ کیوی کپتان کین ولیمسن کپتان بنائے گئے تھے لیکن اس کے بعد لیگ نہیں چل سکی.مائیکل سیلٹر آسٹریلیا کے سابق کرکٹر ہیں اور آئی پی ایل میں کمنٹری کر رہے تھے.دونوں ہی بھارت سے مالدیپ چلے گئے تھےجب کوروناکی وجہ سے لیگ ملتوی ہونے کا فیصلہ ہوا تھا.

غیر ملکی میڈیا نے ان دونوں کے حوالہ سے ایک خبر بریک کی ہے کہ مالدیپ کے مقامی بار میں دونوں میں کسی بات پر جھگڑا ہوگیا ہے اور بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی،دونوں نے ایک دوسرے پر گھونسے مارے اور حملہ کیا ہے،خبریں چلنے کے کئی گھنٹوں بعد دونوں نے باری باری میڈیا کے خاص نمائندے کو ٹیکسٹ میسجز کئے ہیں.

مائیکل سلیٹر نے لکھا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے،میں اوروارنر بہت اچھے دوست ہیں جبکہ ڈیوڈ وارنر نے لکھا ہے کہ ایسا کوئی ڈرامہ نہیں ہوا ہے.

کرک سین تجزیہ کے مطابق اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو دونوں کو متعلقہ میڈیا ادارے کے خلاف کارروائی کی بات کرنی چاہئے تھی جو کہ انہوں نے نہیں کی ہے،معاملہ کی تردید کے ساتھ مسئلہ ختم کرنے کی کوشش کی ہے،ایسا لگتا ہے کہ بار میں قیام پذیر دونوں دوستوں میں کسی بھی بات پر ٹھیک ٹھاک جھگڑا ہوا ہے جس کی رپورٹنگ انٹر نیشنل میڈیا تک ہوئی ہے اور بعد میں احساس ہونے پر دونوں نے معاملہ ختم کرنے کی کوشش کی ہے.سلیٹر نے تو اپنے وزیر اعظم کے بارے میں بھی سخت الفاظ کہے تھے جب آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے آئی پی ایل کھیلنے والوں کے ہاتھوں پر خون لگے ہونے کی بات کی تھی.