آسٹریلوی بائولرز بھی بال ٹیمپرنگ میں ملوث،کرافٹ کا نیا راکٹ فائر،آئی سی سی کا امتحان

تجزیہ : عمران عثمانی

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ٹیم کے 3 کھلاڑی کپتان سمیت بال ٹیمپرنگ جیسے جرم میں ملوث ہوں اور جن کے لئے ہتھیار تیار کیا جارہا ہو،وہ بے خبر ہوں؟

یہ ناممکن سی بات ہے کیونکہ جنہوں نے گیند استعمال کرنی ہے وہی بہترین ڈائریکٹر ہوسکتے ہیں کہ بال کی حالت ایسی کی جائے اور ویسی کی جائے تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل ہوں،چنانچہ اداکاروں نے اس کے مطابق ہی کام کرنا ہوتا ہے.3 سال بعد آج اگر آسٹریلیا کے کیمرون بین کرافٹ اس بات کا اعتراف کر رہے ہوں کہ 2018 کے نیو لینڈز ٹیسٹ میچ میں بائولرز بال ٹیمپرنگ کی کارروائی سے آگاہ تھے تو اس میں نئی بات کیا ہے؟

اس میں نئی بات دراصل ایک اور ہے جسے کرکٹ آسٹریلیا ایک بار پھر کور کرنے کی کوشش کررہا ہے.آگے بڑھنے سے قبل ذرا اس واقعہ کی یاد تازہ کرلیں کہ مارچ 2018 میں کیپ ٹائون ٹیسٹ میچ کے دوران آسٹریلیا کے اوپنر بین کرافٹ بال ٹیمپرنگ کرتے پکڑے گئے تھے،آسٹریلیا نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اپنے کپتان سٹیون اسمتھ،اوپنر ڈیوڈ وارنر کو ایک ایک سال کے لئے جبکہ بین کرافٹ کو 9ماہ معطلی کی سزا سناکر چیپٹر کلوز کردیا تھا.

یہ سوال تو اس وقت بھی تھا کہ نامی گرامی،رینکنگ میں نمبر ون بنے،اپنے آپ کو دنیا کے بہترین بائولرز سمجھنے والے آسٹریلیا کےپیس اٹیک کے کردار اس سے کیسے مبرا ہوگئے؟انہیں کیسے کلین چٹ مل گئی تھی،بال ٹیمپرنگ کوئی بھی کر رہا تھا لیکن جن کے لئے کی جارہی تھی وہ کیسے اس بھیانک پلان سے لاعلم ہوسکتے تھے.

اب جبکہ انگلینڈ کے ایک صحافی نے کائونٹی کرکٹ کھیلنے والے بین کرافٹ سے یہ اگلواہی لیا ہے کہ بائولرز اس کارروائی کا علم رکھتے تھے تو بات سچ ثابت ہوئی کہ اس وقت کرکٹ آسٹریلیا نے اپنے بائولرز کو بچانے کے لئے تیز ترین کارروائی کرکے چیپٹر بند کردیا،ورنہ 7کھلاڑی معطل ہوتے تو ذرا سوچیئے کہ آسٹریلیا کرکٹ کا کیا تصور ابھرتا؟

کرکٹ آسٹریلیا نے آج بین کرافٹ کے انٹر ویو کے بعد پھر دہری لائن اختیار کی ہے کہ بورڈ آج بھی حقائق سے پر کارروائی کے لئے تیار ہے،جس کے پاس کچھ ایسی معلومات ہیں،وہ سامنے آئے اورہمیں رپورٹ کرے.

کرکٹ آسٹریلیا 90 کے عشرے میں میچ فکسنگ میں ملوث ہونے والے اپنے کرکٹرز کو خفیہ سزا دے کر اپنی ناک اونچی رکھی تھی،اسی طرح اس نے 2018 میں بظاہر تیز تر،بظاہر اپنے کپتان کو معطل کرکے دنیا سے داد سمیٹی تھی کہ انصاف ہوا ہے لیکن حقیقت میں اس نے بڑے نقصان سے بچنے کے لئے چھوٹا نقصان برداشت کیا تھا.مچل سٹارک،جوش ہیزل ووڈ،پیٹ کمنز،مچل مارش اورنیتھن لائن جیسے بائولرز بال ٹیمپرنگ والی بال سے لائن مار رہے تھے.

بین کرافٹ کے واضح اعتراف کے بعد کہ ان کے بائولرز اس کارروائی کا ادراک رکھتے تھے،نزید کون سی ایسی معلومات رہ گئی ہے کہ جس کا کرکٹ آسٹریلیا سہار الینے کی کوشش کر رہا ہے اور بات کو گھمانے کی کوشش کر رہا ہے.عقلی ومنطقی طور پر یہ بات پہلے دن سے طے تھی کہ بائولرز کو بھی علم تھا،وہ بھی اس جرم میں شامل تھے،3 سال قبل انہیں بچایا گیا تھا تو آج ایک انٹر ویو پر انہیں کون کٹہرے میں لائے گا.اصل بات یہ ہے کہ کیچڑ دوسروں پر اچھالنا آسان ہوتا ہے ،جب اپنے پر اس کی چھینٹیں پڑتی ہیں تو اصلیت تب کھلتی ہے.

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو کرافٹ کے اس انٹرویو کا نوٹس لینا چاہئے اور آسٹریلیا کے بائولرز کو شامل تفتیش کرکے ان کرداروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے،ورنہ یہ بات مزید زور پکڑے گی کہ کوئی پاکستانی یاانگلینڈ،بھارت سے ہٹ کر کسی اور ملک کا کھلاڑی یا کیس ہو تو اس کا پیمانہ اور ہوتا ہے اور اپنوں پرجب بات آتی ہے تو پیمانہ ہی معطل ہوجاتا ہے.