تابش خان کی 36 سال کی عمر میں ٹیسٹ کیپ،عامر سہیل کا دبنگ موقف آگیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل نے 36 سال کی عمر میں تابش خان کو کھلانے کے فیصلے کی حمایت کردی ہے اور کہا ہے کہ کچھ حصوں میں کومخواہ کا واویلا مچا ہے جو غلط ہے،پلیئر کو 36 سال کی عمر میں کھلانا دراصل کسی پرانی غلطی کا اعتراف بھی تو ہوسکتا ہے اور اگر تابش خان پرفارم کرجائیں تو انہیں اس وقت تک کھلایا جائے جب تک کہ وہ کھیل سکتے ہیں.

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلے جارہے دوسرے کرکٹ ٹیسٹ کے دوسرے دن کے کھیل پر اپنے تبصرے میں سابق کپتان عامر سہیل نے کہا ہے کہ ایک ایک کرکے پلیئرز ذمہ داری لے رہے ہیں لیکن ابھی بھی ضرورت ہے کہ پلیئرز کو ایک دوسرے کی گیم کا علم ہونا چاہئے،اس سے اچانک گرنے کا معاملہ نہیں ہوگا،مڈل آرڈر میں پرابلم چل رہی ہے ،محدود اوورز کرکٹ کے ساتھ اب ٹیسٹ کرکٹ میں بھی یہی مسئلہ آرہا ہے.

کورونا نے کیوی کرکٹر کو جکڑلیا،بھارتی کھلاڑیوں کے لئے 18 روزہ قید

عامر سہیل کہتے ہیں کہ بائولنگ لائن اچھی جارہی ہے،اسپنرز کا بھی اچھا حصہ ہے،میں سمجھتا تھا کہ اس میچ میں لیگ اسپنر کو موقع دینا چاہئے تھا،آف اسپنر اور لیفٹ آرم اسپنر کھلاکر اپنے دعوے کی نفی کی ہے،عثمان قادر کو اب پوری ذمہ داری دینی ہوگی.عامر سہیل نے کہا ہے کہ تابش خان کو موقع ملا ہے،یہ ٹھیک ہے کہ 36 سال کی عمر میں تابش کا موقع ملا ہے،یہ بات درست ہے کہ ہم اس عمر میں ٹیسٹ کیپ نہیں بانٹ سکتے لیکن بہر حال انہیں کھلاکر انہیں یہ بتایا گیا ہے کہ ان کو موقع مل گیا ہے،بہت جگہ پر واویلا مچا ہوا ہے کہ بوڑھے کھلاڑی کھلائے جارہے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان کو کھلا کر اچھا کیا،جب یہ فارم میں تھے،موقع نہیں ملا لیکن خواہش ہے کہ تابش اچھا پرفارم کرے اور جب تک کھیل سکتا ہے،وہ کھیلے.

ٹیسٹ کرکٹ میں میرے جیسے پلیئرز نہیں،عرب امارات کیا کیا کروائے گا،شعیب اختر کی کڑوی باتیں

عامر سہیل نے آخر میں پوری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا ایس اوپیز پر عمل کریں،حالات خاصے خراب چل رہے ہیں لیکن احتیاط کر کے اپنے دائیں،بائیں کے لوگوں کی حفاظت یقینی بناسکتے ہیں.