ایشیا کے676 ٹیسٹ اور 370کا ہدف، کس کو مل گئی طاقت،کس کی جیت،جواب حاضر

تجزیہ:عمران عثمانی
Image By Twitter/espncricinfo
کرکٹ دنیا کی نگاہیں راولپنڈی پر مرکوز ہیں جہاں پاکستان اور جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیموں کے مابین سیریز کا دوسرا ٹیسٹ فیصلہ کن موڑ میں داخل ہوگیا ہے،جنوبی افریقا 370کے بڑے ہدف کے تعاقب میں ہے اور اب 243رنز کی دوری پر ہے جبکہ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کی 9وکٹیں باقی ہیں۔
آج کے لئے گولڈن سوال یہ ہے کہ پیر کو راولپنڈی میں کیا ہوگا؟جنوبی افریقا ہدف حاصل کرلے گا یا پاکستان اسے قابو کرلے گا؟
پروٹیز کو چوکرز کہا جاتا ہے لیکن میں نے پاک جنوبی افریقا کی تمام 11 سیریز پر الگ سے آرٹیکل لکھے تھے اور ان کے ریکارڈز کی روشنی میں یہ واضح کیا تھا کہ پاک جنوبی افریقا سیریز کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پاکستانی چوکرز ثابت ہوئے ہیں۔چنانچہ ملین ڈالرز کا سوال یہ ہے کہ پنڈی ٹیسٹ کے آخری روز کون چوک کرے گا،چوکرز کون ہونگے؟
راولپنڈی اور چنائی ٹیسٹ،انضمام الحق نے دونوں میچز کے حتمی نتائج بتادیئے
آپ نے انضمام و رمیز کو ابھی پڑھا ہے،دونوں نے ملی جلی بات کی ہے ،انضمام کی گفتگو میں تو واضح ہے کہ پاکستا ن کو کوئی مسئلہ نہیں اور رمیز مکمل طور پر ایسی بات کر رہے ہیں کہ جو کریڈٹ لینے والی نہیں ہوگی کہ اگر پروٹیز کی شراکت چل گئی،اگر پاکستانی بائولرز ناکام ہوگئے تو ایک تاریخی فتح دیکھنے کو ملے گی۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ اگراس سیریز کےآئوٹ آف فارم بیٹسمین فاف ڈو پلیسی کا ہی بیٹ چل گیا تو میچ چائے کے وقفہ تک ختم ہوجائے گا۔اگر کوئی نہ آئوٹ ہوا تو یقینی طور پرجنوبی افریقا ہی جیتے گا۔
سوال یہ ہے کہ اگر کو درمیان سے نکال کربتائیں کہ کون جیتے گا؟
رمیز راجہ نے جنوبی افریقا اورپاکستان کی فتح کے چانسز صاف صاف بتادیئے،بڑا اشارہ بھی دے دیا
راولپنڈی ٹیسٹ ایشیائی سر زمین پر کھیلا جانے والا 676 واں اور چنائی ٹیسٹ 677 واں میچ ہے،ایشیا کی تاریخ میں کھیلے گئے 675 ٹیسٹ میچز میں 395 رنزکا بڑا ہدف پہلی بار اتوار کو ویسٹ انڈیز نے بنگلہ دیش میں حاصل کرلیا ہے،چنانچہ اب ایشیائی وکٹوں کا خوف،5ویں مشکل دن کا پہاڑہ اور اسپنرز کے جال کی بات بےا ثر دکھائی دینے لگی ہے۔پروٹیز تو 395سے کم 370کی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔
تاریخی جائزہ لیا جائے تو گزشتہ ایک عشرے سے جنوبی افریقا 9بار 200یا اس سے تھوڑے زائد کے ہدف کے تعاقب میں ناکام ہوا ہے،200سے زائد تک کا ہدف چوتھی اننگ میں اس نے آخری بار 2011میں آسٹریلیا کے خلاف مکمل کیا تھا۔دوسری جانب پاکستانی ٹیم کو دیکھیں تو اس کا ماضی کا ریکارڈ شاندار ہے کہ اس نے متعدد بار 200 یا اس سے تھوڑے زائد ہدف کے تعاقب میں کسی ٹیم کو آگے جانے نہیں دیا لیکن حال کا حال خراب ہے،گزشتہ سال انگلینڈ میں پاکستان چوتھی اننگ میں 277 رنزکرواکر ٹیسٹ میچ ہارگیا تھا تو یہ بدترین مثال زیادہ پرانی نہیں ہے۔
1994 میں پاکستان نے کراچی میں 315کا ہدف 9وکٹ پر حاصل کرکے ایشیائی وکٹوں پر ریکارڈ بنایا تھا لیکن اب 370 کا ہدف اگر ممکن ہو اتو یہ ایشیا کی وکٹوں پر 5واں بڑا ہدف ہوگا۔
پاکستانی بائولنگ اٹیک میں وہ کاٹ ہے ؟یاسر شاہ کی بائولنگ میں وہ جادو ہے؟پورے بائولنگ اٹیک میں کچھ ایسا کرنٹ ہے کہ آپ آنکھیں بند کر کے یہ کہہ سکیں کہ ناممکن ہے کہ جنوبی افریقا یہ سب حاصل کرلے گا؟
ہر گز نہیں،یہ وہی ٹیم ہے جو چند ماہ قبل انگلینڈ کو 277رنز کرواگئی تھی،اس لئے یقین سے نہیں کہہ سکتے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ 5واں دن ہے۔بڑا ہدف ہے،اسپنرز کے لئے کچھ نہ کچھ مدد موجود ہے اس لئے پاکستان کی شکست نہیں بنتی۔پروٹیز یہ بات بخوبی جانتے ہیں،انہوں نے ایک فیصلہ کرلیا ہے کہ چڑھ کر کھیلنا ہے،سیدھے بیٹ کا خوبصورتی سے استعمال کرنا ہے اور انہوں نے پہلا گھنٹہ ایسا ہی کھیلنا ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسکور 127 سے 190 تک پہنچ جائے گا،اس کے بعد پیچھے 200 سے بھی کم اسکور ہونگے،اعتماد ڈبل ہوجائے گا اور پاکستانی ٹیم پر دبائو بڑھ جائے گا،وہ اسی اعتماد میں اضافہ کرتے جائیں گے اور بابر اعظم اینڈ کمپنی کو دبائومیں لاتے جائیں گے،نتیجہ پھر ایک اور تاریخی شکست کے ساتھ رقم ہوگا۔پھر پاکستانی آج کیچز بھی چھوڑسکتے اور مواقع بھی گنواسکتے،فاف ڈوپلیسی کو بھی بھگتیں گے،دبائو میں یہی کچھ ہوتا ہے۔پاکستان جنوبی افریقا کے خلاف کبھی بھی مسلسل 2 ٹیسٹ نہیں جیت سکا۔پاکستان 2003 سے ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکا،اس لئے میری خواہش ہے کہ پاکستان جیتے اور ضرور جیتے لیکن پروٹیز کے اعتماد میںہزار گنا اضافہ ویسٹ انڈیز نے 395 کا ہدف عبور کرکے کردیا ہے،چٹاگرام بھی راولپنڈی کی طرح ایشیا میں ہے اور پروٹیز کے پاس ایک اور اعتماد بھی ہے۔وہ اعتماد کیا ہے؟پروٹیز لنچ تک 3وکٹیں کھوبھی گئے تو بھی ایک اعتماد موجود ہوگا.وہ کیوں اور کیا÷
اس کا ذکر آج میچ کے بعد ہوگا اور ساتھ ہی کچھ یاد دہانی کے ساتھ ہوگا۔تیار رہیں ،آج راولپنڈی میں ایک سنسنی خیز نتیجہ سامنے آسکتا ہے۔
خواہش یہ ہے کہ پاکستان جیتے اور ضرور جیتے لیکن۔۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں