اور اب ٹی 20سیریز،ٹیسٹ تاریخ جیسی 2حیران کن مماثلت،کون تگڑا،کون ہلکا،مکمل جائزہ

عمران عثمانی
Image By Twitter/pcb
جنوبی افریقا کے خلاف ٹی20سیریز ،پہلا میچ 11فروری2021،دوسرا ٹی20میچ،13فروری21 20،تیسرا ٹی20میچ،14فروری.لاہور
پاکستان کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز تو جیت لی ہے ،اب ٹی 20 سیریز کا مشن ہے۔قذافی اسٹیڈیم لاہورکامیدان تیار ہے،دونوں اسکواڈز کی باقی ماندہ فوج بھی لاہور پہنچ چکی ہے۔پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان 3ٹی 20میچزکی سیریز کاپہلا میچ 11فروری کو کھیلا جائے گا۔
کرک سین نے ٹیسٹ سریز سے قبل دونوں ممالک کے ٹیسٹ ریکارڈز وہسٹری کا جائزہ پیش کیا تھا اور بڑی تفصیل سے ہر ہر سیریز کا نقشہ کھینچا تھا،اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اب دونوں ممالک کی ٹی 20 تاریخ پر بھی ایک نگاہ دوڑاتے ہیں۔
پاکستان اور جنوبی افریقا کی ٹی20 تاریخ کی ٹیسٹ تاریخ سے مماثلت کچھ یوں بھی بنتی ہے کہ اس فارمیٹ میں اب تک کھیلے گئے میچزمیں پروٹیز کو سبقت حاصل ہے۔2007سے 2019تک کھیلے گئے14میچزمیں سے8میں جنوبی افریقا کامیاب ہوا ہے جب کہ پاکستان کو 6میچزمیں کامیابی ملی ہے۔میگا ایونٹس سے ہٹ کر دونوں ممالک کی باہمی ٹی 20 سیریز پر نگاہ ڈالیں تو اب 6باہمی سیریز ہوچکی ہیں۔اب اس سیریز کے چیپٹر میں بھی ٹیسٹ سیریز سے بڑی مماثلت بنتی ہے کہ جیسے حالیہ سیریز سے قبل کھیلی گئی 11سیریزمیں سے پاکستان محض واحد جیت سکا تھا،اسی طرح آنے والی ٹی 20 سیریز سے قبل پاکستان 6میں سے صرف ایک ہی سیریز اپنے نام کرسکا ہے۔
ٹی 20 سیریز کےباب میں اہم ترین بات یہ ہے کہ اب تک کھیلی گئی 6سیریزمیں سے پاکستان میں کوئی نہیں ہوئی،اس طرح 2021کی ٹی 20 سیریز پاکستانی سرزمین کی باہمی ٹی 20 ٹرافی کی ڈیبیو سیریز ہوگی۔پاکستان نے واحد سیریز 2012-13کے سیزن میںجنوبی افریقا میں جیتی تھی،جبکہ متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی 2سیریز پروٹیز کے نام رہیں اور اس نےاپنے ملک میں 2 ٹرافیز جیتیں،ایک سیریزڈرا رہی۔پاکستان نے 8سے 9برس قبل جو واحد سیریز جیتی تھی،اس کے بعد سے وہ3سیریز کھیل چکا ہے،2میں ناکام گیا،ایک ڈرا کرسکا ہے۔ا ب تک کھیلے گئے آخری ٹی20میچ میں گرین شرٹس کامیاب رہے،انہوں نے 6فروری 2019کو سنچورین میں 27رنزسے جیت اپنے نام کی تھی۔
دونوں ممالک کے بیٹسمینوں کی کارکردگی دیکھی جائے تو ایک سیریز کے سپر ہیروبابر اعظم رہے ،انہوں نےجنوبی افریقا میں 2سال قبل 3ٹی 20میچزمیں 151رنزبنائے،اب تک کوئی بھی ایک سیریزمیں ان سے زائد اسکور نہ کرسکا۔فاف ڈوپلیسی،عمر اکمل اور حفیظ باہمی مقابلوں میں 2،2 ففٹیز کرکے ہاف سنچریزمیں ٹاپ پر ہیں۔3فروری 2019کو جوہانسبرگ میں بابر اعظ م کی کھیلی گئی 90رنزکی اننگ دونوں ممالک کی ٹاپ انفرادی کوشش ہے۔عمر اکمل کے 9میچزمیں 255 اسکور مجموعی بیٹنگ ریکارڈ مین سب سے زیادہ ہیں۔حفیظ کے10میچزمیں 230 دوسری پوزیشن ہے اور دونوں ہی باہر ہیں۔پاکستان کا کم اسکور 9وکٹ پر 98 اور پروٹیز کا 100ہے،ہائی اسکور میں پاکستان 195کے ساتھ آگے اور پروٹیز 192کے ساتھ پیچھے ہیں۔ایک سیریز میں بائولنگ کے چیپٹر میں جنوبی افریقا کےہینڈرکس 3میچز میں 8وکٹ کے ساتھ ٹاپ پر ہیں۔3مارچ 2013کوسنچورین میں عمر گل کی6رنزکے عوض 5وکٹ کی بائولنگ بہترین انفرادی گیند بازی ہے۔ڈیل اسٹین 7اور سعیدا جمل 9میچز میں 12،12 وکٹ کے ساتھ مجموعی وکٹ ٹیکرز میں آگے ہیں۔دونوں ممالک میں شاہد آفریدی11میچز کھیل کر زیادہ میچ کھیلنے والے واحد بیٹسمین ہیں۔
ٹی 20 کے یہ اعدادوشمار نہایت ہی دلچسپ ہیں،کہیں کون اور کہیں کون آگے ۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ تاریخ کی کمزورترین پروٹیز ٹیم پاکستان کے سامنے ہے۔نامور پلیئرز اس میں شریک نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں