نامی گرامی تجزیہ نگار غلط،پاکستان کو شکست،کرک سین سچ ثابت

0 40

یہ لکھنا اتنا آسان ہر گز نہیں تھا کہ پاکستان انگلینڈ کی تاریخ کی کمزور ترین ٹیم سے ہارجائے گا .سامنے کے تمام پلیئرز ہٹ گئے تھے. آدھے کھلاڑی ایکنامی گرامی تجزیہ نگار ,ون ڈے نہیں کھیلے تھے. کپتان بھی اچانک لایا گیا تھا اور انگلینڈ کا کمبی نیشن تباہ ہوگیا تھا .ایسے میں سیکڑوں ایک روزہ کرکٹ کا تجربہ رکھنے والی ٹیم کی ہار کی کوئی بات نہیں کر رہا تھا. انضمام الحق نے تو صاف بول دیا تھا کہ پاکستان کے چانسز بہت بڑھ گئے ہیں. اسی طرح چہار سو سکندر اعظم بننے کا چرچا تھا لیکن کرک سین نے ایک رات قبل لکھا تھا کہ
کرک سین پاکستان کو فیورٹ قرار نہیں دے رہا
کرک سین پاکستان کو فیورٹ قرار نہیں دے رہا اور اس کی شکست کے آثار نمایاں ہیں اور اس سے قبل ایک موقع پر یہ بھی لکھا تھا کہ درست ٹیم کی سلیکشن نہ ہونے سے ٹیم کے لئے 50 اوور ز کھیلنا بھی ممکن نہیں ہوگا اور حال سری لنکا والا ہوگا. پھر وہی ہوا،پاکستان 35 اوورز کی بیٹنگ کھیل سکا،141کرسکا اور پھر ہدف 28 اوورز سے بھی زائد کھیل سے قبل پورا کرواکے 9وکٹ کی شکست کی ذلت آمیز کالک ملواگیا.
تو اب کیا ہوا
انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف پہلا ایک روزہ میچ بڑے باوقار انداز میں وکٹ سے جیت لیا ہے. کارڈ ف میں اس نے گرین کیپس کو بری طرح سرنڈر پر مجبور کردیا. بین سٹوکس نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا درست فیصلہ کیا.ایسا لگا کہ پاکستانی ٹیم کے طوطے اڑگئے. پہلے اوور میں 2 وکٹیں گنوادیں. ٹیم نے سنبھلنے کی کوشش ہی نہ کی.حال ہی میں سری لنکا بھی تینوں ون ڈے میچ ہارا تھا. لوگ اس پر تنقید کر رہے تھے لیکن وہ تو پہلے میچ کی حد تک پاکستان سے بہتر ہی رہا کہ 141 جیسے قلیل اسکور پر فارغ نہیں ہوا. یہ بابر اعظم الیون ہی تھی جو 141 پر لیٹ گئی. بابر اور امام الحق صفر پر گئے. محمد رضوان نے 9 بالز پر 13 کرکے کچھ دبائو کم کرنے کی کوششیں کیں لیکن 17کے اسکور پر وہ بھی دغا دے گئے. 9 رنز کے اضافہ سے ڈیبیو کرنے والے سعود شکیل بھی چلتے بنے.پاکستان 26 پر 4 وکٹ گنواچکا تھا.
پانچ سال بعد ٹیم میں واپسی مگر
پانچ سال بعد ٹیم میں واپسی کرنے والے صہیب مقصود نے فخر کا دامن پکڑا اور پاکستان کو قریب مشکل چکر سے نکال دیا.پاکستان 19 ویں اوور میں 80 تک جانے والا تھا کہ 32 بالز پر 19 اسکور کرنے والے صہیب مقصود 79 کے ٹوٹل پر پاکستان کو 5 واں نقصان دے گئے.وہ اپنی حماقت سے رن آئوٹ ہوئے .یہ وکٹ پاکستان کی کمر توڑ گئی. یہ ایسی جہالت تھی جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے .اب ساری امیدیں فخر زمان سے وابستہ تھیں لیکن وہ بھی سبق لینے کو تیار نہیں تھے. پاکستان کا اسکور ابھی 90 ہی ہوا تھا کہسیٹ بیٹسمین فخر زمان بھی دغا دے گئے.5 چوکوں کی مدد سے 47 رنز بنانے والے لیفٹ ہینڈڈ بیٹسمین کا کیچ دینا سمجھ سے باہر تھا .اب پاکستان کے نام نہاد آل رائونڈرز حسن علی اور فہیم اشرف کا ظہور ہورہا تھا لیکن یہ ایسے ٹلے ثابت ہوئے جو تیسرے درجے کے بائولرز کے سامنے تنکا ثابت ہوئے. 101 کے اسکور پر فہیم 5 اور 123 کے نمبر پر حسن 6 کرکے اپنی روانگی کا ٹکٹ کٹواگئے. شاداب خان نے اس دوران تیز بیٹنگ کرکے کچھ اسکور بٹورے لیکن ان کی اننگ بھی 30 پر تمام ہوگئی. پیچھے نام نہاد پیسرز بچے تھے جو کچھ بھی نہ کرسکے.پاکستان کی پوری ٹیم 35 اوورز اور 2 بالز پر صرف 141 کرکے چلتی بنی.انگلینڈ کی طرف سے ثاقب محمود کامیاب ترین گیند بازرہے. انہوں نے 42 رنز کے عوض 4 جبکہ کریگ اوور ٹون نے 22 اور پارکنسن نے 28 رنز کے عوض 2،2 وکٹیں لیں.کریگوری نے 11 رنز دے کر ایک آئوٹ کیا.
نا اہلی ونالائقی کا اندازا
انگلینڈ نے 142 رنز کا تعاقب شروع کیا تو حال ہی میں اے کیٹگری کے ساتھ سنٹرل کنٹریکٹ لینے والے حسن علی نئی بال سے بھی بے کار ہوتے دکھائی دیئے. شروع کے 3 اوورز میں 23 رنز کی مار کھائی. اوپنر فل سالٹ 7 رنز بناکر شاہین اور صہیب کا گٹھ جوڑ بنے لیکن دوسرے اوپنر ڈیوڈ میلان ٹی 20 طرز کی کرکٹ کھیل کر اسکور بناتے گئے. بابر اعظم کی نا اہلی ونالائقی کا اندازا اس بات سے لگائیں کہ اتنے کم ٹوٹل کے دفاع میں 9 اوورز تک بائولرز تبدیل نہ کئے اور 50 سے زائد اسکور بنوالئے .پھر حارث اور فہیم کی آمد سے کیا تبدیلی ہونی تھی.کچھ بھی نہ ہوا کیونکہ ڈیوڈ میلان سیٹ ہوگئے تھے اور زیک کرولی کو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ وہ نمبر ون بیٹسمین تو کیا وہ تو پہلا میچ کھیل رہے تھے،انہوں نے جس انداز میں بیٹنگ کی،نہایت ہی قابل ستائش ہے.انگلینڈ کے سی کیٹگری کے بیٹسمینوں کو پاکستان کے نام نہاد اے کیٹگری بائولرز کو کھیلنے میں کسی وقت بھی مشکلات پیش نہیں آئیں،یہ ہوتا ہے اعتماد اور یہ ہوتی ہے بیٹنگ.دونوں نے 100رنزکی شراکت 15 اوورز سے بھی کم وقت میں مکمل کرلی،انگلینڈ نے 142 رنزکا ہدف22 ویں اوورز میں صرف ایک وکٹ پر پورا کرلیا.ڈیوڈ میلان نے 69 بالز پر 68 اور زیک کرولی نے 50 بالز پر58 ناٹ آئوٹ کئےدونوں میں دوسری وکٹ پر 120 کی شراکت بنی.شاہین آفریدی نے 5 اوورز میں 22رنز دے کر ایک وکٹ لی،حسن علی کو4اوورز میں 33 کی مار پڑی.حارث رئوف نے 28 رنز کے لئے 4اوورز کئے،اسی طرح فہیم اشرف نے بھی 5اوورز میں 33 رنزکی مار کھائی،شاداب خان کو تو 3 اوورز میں22 کا پٹکا لگا.پاکستان 169 بالز قبل 9وکٹ سے ہارگیا.
مصباح الحق کے منہ پر طمانچہ
پ میں ہیڈ کوچ کے روپ میں موجود مصباح الحق کے منہ پر طمانچہ کی بات کریں تو شاید زیادتی ہوگی لیکن اگر یہ کہا جائے کہ ان کے سامنے تھرڈ کلاس درجہ کے پلیئرز ان کے پورے کیمپ کو بہاگئے ہیں تو کیا اوقات باقی بچی ہے.کرک سین اتنے دنوں سے ایسے ہی نہیں لکھ رہا تھا کہ 47 سالہ باہمی ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ بڑی ہی سفاک ہے،پاکستان مسلسل ناکام ہے اور سی کیٹگری ٹیم کے آنے کے بعد بھی لکھا تھا کہ پاکستان کے ہارنے کے امکانات زیادہ ہیں،کیونکہ پاکستانی ٹیم منیجمنٹ اور ٹیم سلیکشن درست نہیں ہے اور پر فارمنس کا پیمانہ حقیقی نہیں ہے.
کرک سین کی میچ کے آغاز سے 17 گھنٹے قبل کی پیش گوئی کے لئے یہ بھی پڑھیں
پہلا ون ڈے آج،بابر اعظم کون سے بڑے ریکارڈ کی جانب،پلیئنگ الیون ومیچ کی پیش گوئی

Leave A Reply

Your email address will not be published.