پاکستان کرکٹ کا ایک اور روشن باب ،باپ کے بعد بیٹا بھی بیٹ کیری کرگیا

عمران عثمانی
Image By cricketcountry/Getty Images
ایک وقت تھا کہ کرکٹ پاکستانی کھلاڑیوں کے کارناموں کے بغیر پھیکی تھی اور ریکارڈز بک کے ہر دوسرے صفحہ پر کسی نہ کسی پاکستانی کھلاڑی کانام ملتا تھا،کل کے دن کی مناسبت سے حنیف محمد کی ریکارڈ ساز اننگ کا ذکر تھا،آج 24 جنوری کے حوالہ سے بھی پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں نرالا باب درج ہے۔
ایک ایسا کارنامہ جسے تاریخ ہمیشہ یادی رکھے گی کیونکہ یہاں نہلے پہ دہلا بھی ہوا تھا۔
حنیف محمد مرحوم کی 970منٹ کی ریکارڈ اننگ کی تکمیل کا دن،63برس قبل کے میچ کا مکمل احوال
ذکر ہے لاہور ٹیسٹ کا،بھارتی ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی،سیریز کا 5واں ٹیسٹ 23 جنوری 1983 سے لاہور میں شروع ہوا۔پاکستان 6میچزکی سیریز میں پہلے ہی 3 میچ جیت کر ناقابل شکست برتری حاصل کرچکا تھا۔عمران خان اور سنیل گاواسکر کپتان تھے۔پہلے دن مدثر 99 پر ناٹ آئوٹ تھے.پاکستان کا اسکور 5وکٹ پر 224رنز تھا.میچ کے دوسرے روز پاکستانی اننگ 323پر تمام ہوئی۔اہم بات یہ تھی کہ اوپنر مدثر نذر نے 152رنزکی ناقابل شکست اننگ کھیلی،اس طرح وہ بیٹ کیری کرنے میں کامیاب ہوئے،یہ بیٹ کیری ایک کارنامہ تھا لیکن اس میں اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے اپنے والد نذر محمد کی پیروی بھی ساتھ کرلی کیونکہ نذر محمد بھی بیٹ کیری کرچکے تھے۔پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں اس کے بعدپاکستان کے 2کھلاڑی بیٹ کیری کرسکے ہیں۔
نذر محمد نے بھی بھارت کے خلاف یہ اعزاز حاصل کیا۔1952 میںوہ لکھنو ٹیسٹ میں ناٹ آئوٹ آئے تھے۔مدثر نذر نے 1983میں اپنے والد کی یاد تازہ کی جبکہ پاکستان کے تیسرے کھلاڑی سعید انور تھے،انہیں بھی اتفاق سے یہ اعزاز بھارت کے خلاف حاصل ہوا۔کولکتہ میں 1999کے ٹیسٹ میں وہ ناقابل شکست رہے تھے۔اگلے پاکستانی اوپنر عمران فرحت تھے جنہوں نے 2009میں نیوزی لینڈ کے خلاف نیپئر ٹیسٹ میں یہ تاریخ رقم کی۔
پاکستان کے ان 4اوپنرز کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی بیٹ کیری نہیں کرسکا ہے۔1983 کا لاہور ٹیسٹ بارش کے سبب ڈرا رہا تھا،پہلی اننگ میں 85رنز دے کر 8وکٹ لینے والے کپیل دیو میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے ۔بھارت نے 3وکٹ پر 235 رنزبنائے تھے کہ میچ آگے نہیں چل سکا۔
24 جنوری 1962 کا دن حنیف محمد کے ایک اور کارنامہ کی بدولت یاد گار ہے جب انہوں نےانگلینڈ کے خلاف ڈھاکا میں میچ کے آخری دن دوسری اننگ میں بھی سنچری بنادی۔پہلی اننگ میں 111رنزبنانے والے حنیف محمد نے دوسری اننگ میں 104رنزکر کے پاکستان کو یقینی شکست سے بچالیا۔حنیف محمد نے دونوں اننگزمین کل ملا کر894منٹ بیٹنگ کی۔انگلینڈ جس نے پاکستان کے خلاف پہلی اننگ میں لیڈ بھی لی تھی اور دوسری اننگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو216پر آئوٹ کرکے صرف 171کا ہدف سیٹ کروایا تھا وہ حنیف محمد کی لمبی بیٹنگ کی وجہ سے نہ بناسکا کیونکہ وقت ختم ہوگیا تھا اور میچ ڈرا رہا تھا،اس کے بعد انگلینڈ کو پاکستان میں پہلی کامیابی کے لئے 19 ٹیسٹ میچز کا انتظار کرنا پڑا اورقریب 39 سال بعد اسے2000میں کامیابی ملی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں