ویسٹ انڈیز میں 59 برس بعد جب پاکستان پہلی ٹیسٹ سیریز جیتا

0 50

تحریر : عمران عثمانی
ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کا گزشتہ صدی میں طوطی بولتا تھا،1970سے 1990 تک اس کی ٹیم ناقابل شکست تھی،اپنے ملک میں محفوظ قلعہ میں ہوتی تھی ور دنیا کے ہر ملک کا قلعہ اس کے گھر میں جاکر فتح کیا کرتی تھی.پاکستان کرکٹ ٹیم کا سنہری دور بھی 1980سے 1990کے درمیان تھا جب اس کی ٹیسٹ ٹیم نے بھارت اور انگلینڈ میں تاریخی فتوحات اپنے نام کیں لیکن ویسٹ انڈیز میں 1988 کی ٹیسٹ سیریز وہ بدقسمتی سے جیت نہیں سکا کیونکہ ناقص امپائرنگ اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی تھی.اس دور میں اگر کسی نے ویسٹ انڈیز کو ویسٹ انڈیز میں جاکر آنکھیں دکھائی تھیں تو وہ گرین کیپس کی ٹیم تھی.عمران خان کی قیادت میں پاکستان کا طوطی اسی طرح ہی بولتا تھا کہ جیسے ویسٹ انڈیز کا تھا جب کہ نیوزی لینڈ کو عمران خان بی ٹیم قرار دیتے تھے.انگلینڈ،بھارت،سری لنکا کو ہراچکے تھے،آسٹریلیا میں بھی ایک بار سیریز برابر کھیل آئے تھے مگر آسٹریلیا کا قد کاٹھ اس وقت پاکستان کے مقابل کہیں چھوٹا تھا،ان تمام باتوں کے باوجود پاکستان ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز جیت نہیں سکا،90کے عشرے کی پاکستانی ٹیم ک دنیا میں دھوم تھی جب اس نے انگلینڈ میں اوپر تلے 2 ٹیسٹ سیریز جیت لیں.بھارت میں بھی ایک کامیابی اپنے نام کی لیکن ویسٹ انڈیز میں پھر بھی ٹیسٹ سیریز جیتی نہیں جاسکی.نئی صدی شروع ہوئی تو ویسٹ انڈیز کا زوال بھی شروع ہوگیا لیکن پاکستانی ٹیم پے در پے سیریز کھیلنے کے باوجود زوال پذیر کیریبین ٹیم کو مات نہیں دے سکا،حتیٰ کہ 2017 کا سال آگیا .
فتوحات،میچزکی تعداد
فتوحات،میچزکی تعداد کے اعتبار سے پاکستان کے لئے ٹیسٹ تاریخ کے کامیاب کپتان کا ٹائٹل لینے والے مصباح الحق کیریئر کے اختتامی دنوں پر تھے اور وہ پاکستان کی قیادت کر رہے تھے،تجربہ کار بیٹسمین یونس خان ان کے ساتھ تھے،پاکستانی ٹیم نے 3میچزکی ٹیسٹ سیریز کھیلنی تھی،یہ چیلنج ہمیشہ کی طرح موجود تھا کہ پاکستان 1985سے لے کر 2017 تک کالی آندھی کو اس کے ہاں زیر نہیں کرسکا،چنانچہ ناممکن مشن کا آغاز کنگسٹن جمیکا میں پہلے ٹیسٹ میچ کے ساتھ ہوا.21 اپریل 2017کے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں میزبان ٹیم 286 اسکور کرگئی جو کسی طرح بھی کم نہیں تھے71پر 5 وکٹ گنوانے والی ٹیم کو شین ڈراوچ اور جیسن ہولڈر کی ففٹیز نے انرجی فراہم کی تھی.پاکستان کی جانب سے محمدعامر نے تباہ کن بائولنگ کی اور 44رنزکے عوض 6 کھلاڑی آئوٹ کئے.پاکستان نے جوابی اننگ میں پاکستان کے لئے کئی یاد گار اننگز دیکھنے کو ملیں.بابر اعظم نے 72کئے تو یونس خان نے 58 اور سرفراز احمد نے قیمتی 54 رنزجوڑے لیکن اصل ہیرو کپتان مصباح الحق تھے جو 99 پر ناٹ آئوٹ واپس آئے ،پاکستان نے 407رنزبنائے تھے اور 121رنزکی اہم برتری لی تھی.نتیجہ میں کیریبین سائیڈ 152 پر باہر گئی،اس بار یاسر شاہ نے 63رنزکے عوض 6 وکٹ لئے تھے.پاکستان نے 32 رنزکاہدف 3وکٹ پر مکمل کیا تھا اور 3میچزکی سیریز میں اہم برتری لے لی تھی.
ویسٹ انڈیز کو شکست بھولی نہیں تھی
ویسٹ انڈیز کو یہ شکست بھولی نہیں تھی،چنانچہ اس نے اپریل 2017 کے آخر میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پلٹ کروار کیا اور 106رنزکی جیت اپنے نام کی لیکن پاکستان کی یہ شکست پاکستانیوں کو ہضم نہیں ہوئی تھی کیونکہ یہاں ایسا کچھ ڈرامہ ہوا جو سب کی سمجھ سے باہر تھا.روسٹن چیزکی سنچری کی مددسے ویسٹ انڈیز نے 312 اسکور جوڑے.محمد عباس نے 4 اور محمد عامر نے 3 آئوٹ کئے،پاکستان نے جواب میں 393 اسکور بناکر پھر برتری لی،اظہر علی کی سنچری کے ساتھ مصباح کے ایک بار پھر 99 اسکور تھے،وہ مسلسل دوسری بار اس فیگر پر رکے،پہلے ٹیسٹ میں ناٹ آئوٹ تھے تو اب کی بار خود ہی آئوٹ ہوگئے.ویسٹ انڈین ٹیم دوسری اننگ میں 268 پر شکار کی گئی کیونکہ یاسر شاہ نے ایک بار پھر کمال دکھایا اور94 رنزدے کر 7 آئوٹ کئے.پاکستان کو اب صرف188 رنزکا ہدف ملا تھا لیکن ٹیم کی بیٹنگ لائن نے وہ کردکھایا جو اس کی خاص پہچان ہے اور یاپھر ایسا لگا کہ ویسٹ انڈیز میں چونکہ کبھی ٹیسٹ سیریز جیتی نہیں ہے،چنانچہ جیتنی بھی نہیں ہے،اس لئے 36 رنز تک جاتے جاتے 7 وکٹ گنوادیئے،بعد میں سرفراز احمد نے 23 اور محمد عامر نے 20 کرکے ٹیم کا ویسٹ انڈیز کے خلاف کم اسکور کا سابقہ ریکارڈ خراب ہونے نہیں دیا لیکن پھر بھی 81 پر ڈھیر ہونا ذلت آمیز تھا،ویسٹ انڈیز 106رنز سے جیت کر سیریز برابر کرچکا تھا ،شینن گبرائیل نے 11رنزدے کر 7 آئوٹ کئے.
مصباح اور یونس کی آخری سیریز
ویسٹ انڈیز کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ میچ 10مئی سے شروع ہوا.اس بار پاکستان نے پہلے بیٹنگ کی اور اظہر علی کی ایک اور سنچری کی وجہ سے 376 رنزبنائے لیکن ساتھ میں بابر اعظم،مصباح الحق اور سرفراز احمدکی ہاف سنچریز بھی معاون بنیں .میزبان ٹیم 247 پر آئوٹ ہوگئی.عباس نے 5 وکٹ کے لئے 46 رنز دیئے تو یاسر شاہ نے 3 وکٹوں کے لئے126 رنزکی مار کھائی.پاکستان نے دوسری اننگ 8وکٹ پر 174 اسکور کرکے ڈکلیئر کردی،یوں ویسٹ انڈیز کو 304رنزکا ہدف ملا،اس کا حال بھی گزشتہ ٹیسٹ کے پاکستان کی طرح رہا کہ 100رنز سے پہلے7 وکٹیں گر چکی تھیں،اس کے بعد روسٹن چیزکی سنچری کے باعث ویسٹ انڈیز ٹیم 202رنز تک پہنچ گئی اور 101 رنز سے ٹیسٹ میچ ہارگئی.یاسر شاہ نے 92رنزکے عوض 5 آئوٹ کئے اور وہ مین آف دی سیریز رہے کیونکہ انہوں نے 25 وکٹیں پوری سیریز میں لیں تھیں.پاکستان نے یہ ٹیسٹ سیریز تو جیت لی لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنے کی ہوگی یہ کپتان مصباح الحق اور یونس خان کی آخری سیریز تھی،اس کے بعد یہ پاکستان کے لئے نہیں کھیلے تو ان 2 بڑے بیٹسمینوں کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی پاکستان کی فتح ممکن ہوئی.
پاکستان کی تاریخ میں پہلی کامیابی
یوں پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار ویسٹ انڈیز کو اس کے ملک میں ٹیسٹ سیریز ہرانے کا اعزاز حاصل کیا.کپتان مصباح الحق تھے جو آج ہیڈ کوچ ہیں،اس لئے بابر اعظم کو بطور کپتان پاکستان کا یہ اعزاز بھی برقرار رکھنا ہے اور مصباح کو تو اسے بہتر کرنا ہوگا ،اگر پاکستان جیت گیا تو اس حوالہ سے انکا نام ہمیشہ کے لئے تاریخ کا حصہ ہوگا کہ کیریبین میدانوں میں پاکستان کی ابتدائی2 سیریز کی فتح میں مصباح کا کردار تھا.
پاکستان اور ویسٹ انڈیزکی اس آخری ٹیسٹ سیریز کا سبق یہ ہے کہ قومی ٹیم کو ایک مستند اسپنر کے ساتھ جانا ہوگا،آپ نے دیکھا کہ یاسر شاہ پوری سیریز میں میزبان ٹیم کے لئے مسئلہ بنے رہے تو 35 سالہ لیگ اسپنر یاسر شاہ ٹیم سے ڈراپ کئے جانے کے بعد واپس آئے ہیں،ان کا مسئلہ گزشتہ 2 سال سے یہ چل رہا ہےکہ فلاپ شو کرتے ہیں،ان کے بیک اپ کے لئے ان کی عمر کے نعمان علی موجود ہیں ،دیکھنا ہوگا کہ یہ دونوں کتنے موثر رہتے ہیں،باقی فہیم اشرف اور حسن علی کی پیس بائولنگ کے ساتھ ایک میچ تو جیتا جاسکتا ہے،سیریز جیتنا مشکل ہوگا.
یہ بھی اس کے ہی متعلق ہے
ٹیسٹ سیریز،6 باب میں ویسٹ انڈیز اور 2 میں پاکستان کو خسارہ،دلچسپ تحقیق

Leave A Reply

Your email address will not be published.