انگلش سر زمین پر 2 ایشیائی ٹیمیں ناکام،تیسرا نمبر پاکستان کا لگ گیا،سری لنکا ایک فائدہ اٹھاگیا

0 10

سری لنکا کرکٹ ٹیم انگلینڈ میں ایک روزہ سیریز کی وائٹ واش شکست سے بچ گئی،کیا ہی اتفاق ہے کہ ٹیم 50 اوورز پورے نہ کھیلنے اور 166پر ڈھیر  انگلش سر زمین پر 2 ایشیائی , ہونے کے باوجود شکست کی ہزیمت سے محفوظ رہی اورساتھ میں مسلسل دوسری کلین سویپ کالک سے بچ گئی،یہ کارنامہ تھا نہیں لیکن آخر کار اس جیسا ہوگیا کہ تاریخ میں درج ہوگا کہ سری لنکن ٹیم دورہ انگلینڈ میں رواں سال کی سیریز میں 3میچزکے مقابلہ میں 0-2 سے ہاری ہے،اس شکست سے بچائو کا سری لنکا کو براہ راست تھوڑا فائدہ ہوا ہے لیکن پاکستان کو کوئی اچھی ہوائیں نہیں پہنچی ہیں.
برسٹل میں تیز ترین بارش
واقعہ یہ ہے کہ برسٹل میں ہونےوالی تیز ترین بارش نے پہلی اننگ کےبچے وقت کے باوجود میچ دوبارہ شروع نہیں ہونے دیا،نتیجہ میں انگلش ٹیم جوابی بیٹنگ کے لئے بھی نہیں آسکی اور اس طرح میچ بے نتیجہ ختم کردیا گیا.انگلش ٹیم نے ٹاس جیر کر مہمان ٹیم کو پہلے کھلایا تھا اور آئی لینڈرز بد سے بد تر ہوتے گئے والی مثال ثابت ہوئے اور ابتدائی 2میچزکی نسبت اس میچ میں تو سب سے قلیل اسکور 166پر ڈھیر ہوگئے،اس کے لئے انہوں نے صرف 41اوورز اور ایک بال کھیلی .دسون شناکا 48رنزکے ساتھ نمایاں رہے .42پر 4 اور 63پر آدھی ٹیم گنوانے والی ٹیم پھر کب سنبھل سکتی تھی ،تھوڑی مدد شناکا نے دی تو تو اتنا مجموعہ بن گیا.ٹام کرن نے 35رنزکے عوض 4کھلاڑی آئوٹ کئے.5کھلاڑی ڈبل فیگر کو بھی نہ پہنچ سکے.
انگلینڈ کو آسان ہدف
انگلینڈ کو آسان ہدف بنانا تھا لیکن بارش کی وجہ سے اس کی اننگ شروع کرنے کا سپنا ہی پورا نہ ہوسکا،20اوورز کی اننگ بھی ممکن نہیں تھی،اس لئے میچ ممکن نہ ہوسکا اور سیریز 0-2 کی اسکی فتح پر تمام ہوگئی،اگر چہ سیریزکی ٹرافی پر اس کا غلبہ رہا لیکن 166پر ڈھیر ہونے والی آئی لینڈرز ٹیم فتح نہ ملنے کے باوجود فائدے میں رہی ہے اور انگلش ٹیم کو ناقابل شکست رہتے ہوئے بھی بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے،وہ خسارہ کیا ہے؟جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ایک روزہ کرکٹ کی ہر سیریز ہی ورلڈ کپ سپرلیگ کا حصہ ہے ،اور ورلڈ کپ سپرلیگ ورلڈ کپ 2023 تک جانے کا زینہ ہے،اس کی ٹاپ 8ٹیمیں برارہ راست کوالیفائی کریں گی،باہر ہونے والی سائیڈز کو کوالیفائر ایونٹ کھیلنا پڑے گا.انگلش ٹیم جس نے جب یہ ایک روزہ سیریز شروع کی تو اس کے پوائنٹس40 تھے اور سیریز کے اختتام پر اس کے پوائنٹس 65 ہوگئے ہیں،چنانچہ آج کی فتح نہ ملنے،بارش ہونے اورمیچ بے نتیجہ ہونے کی وجہ سے اسے 5پوائنٹس کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کیونکہ انگلینڈ کیمپ کا پلان یہ چل رہاتھا کہ رواں سیزن میں سری لنکا اور پاکستان کے خلاف 100فیصد فتوحات کے ساتھ اپنے پوائنٹس کی سنچری مکمل کر لی جائے ،اب ایسا اس سیریز میں ممکن نہ ہوگا،پاکستان سے تینوں میچزجیتنے کے باوجود بھی اسے 95 پر اسٹاپ لگانا پڑے گا.اس طرح انگلش ٹیم ایسے 5پوائنٹس سے محروم ہوئی ہے جو یقینی طور پر ہی اس کے تھے.
شکست سے بچائو کے 2 فائدے
دوسری جانب سری لنکا کو 166پر ڈھیر ہونے کے باوجود شکست سے بچائو کے 2 فائدے پہنچے ہیں،پہلا تو یہ کہ ٹیم کلین سویپ سے بچ گئی ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اسے بونس میں 5پوائنٹس مل گئے،جو سرے سے اسکے نہیں تھے،آئی لینڈرز اس خدائی انعام سے 13ویں و آخری پوزیشن سے یکدم 11ویں پوزیشن پر آگئے ہیں،میچ سے قبل اس کا 8پوائنٹس کے ساتھ 13واں اور آخری نمبر تھا لیکن جیسے ہی 5پوائنٹس جمع ہوئے ہیں تو اسکے پوائنٹس کی تعداد 13 ہوگئی ہے،اس طرح وہ زمبابوے کے 10 اور جنوبی افریقا کے 9پوائنٹس سے آگے نکل گئے ہیں،اب پروٹیز ٹیم 13ویں و آخری پوزیشن پر چلی گئی ہے.اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر انگلینڈ12میچزکے بعد 65پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں،50پوائنٹس پاکٹ میں ڈالے بنگلہ دیش کا دوسرا نمبرہے،پاکستان اور آسٹریلیا کے 40،40 پوائنٹس ہیں لیکن نیٹ رن ریٹ میں برتری کی وجہ سے پاکستان تیسرے نمبر پر ہے،اب انگلینڈ کے 5پوائنٹس ضائع ہونے سے پاکستان کو ایک مشکل مگرنادر موقع ملا ہے کہ وہ انگلینڈ سے تینوں میچزجیت کر 70پوائنٹس کر کے پہلے نمبر پرآجائے لیکن اگر اس انداز کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں البتہ کم سے کم ایک کامیابی اسے 50 پوائنٹس تک لے جائے گی اور نیٹ رن ریٹ بہتر ہوا تو پوزیشن بھی دوسری جائے گی.آسان صورت میں 2 فتوحات سے دوسری پوزیشن پکی اور 3 کامیابیوب کے ساتھ پہلا نمبر کنفرم ہوجائے گا.  انگلینڈ نے سری لنکا کے خلاف 3ٹی 20 میچز جیتے اور 2 ایک روزہ میچز میں بھی وہ ناقابل شکست رہا،اس طرح وہ پاکستان کے لئے بدستور بڑا خطرہ ہے.دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس وقت ایشیا کی 3 ٹیمیں انگلش سر زمین پر موجود ہیں،بھارتی ٹیم نے سب سے قبل ان وکٹوں پر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ٹائٹل کے لئے نیوزی لینڈ سے پنجہ آزمائی کی لیکن ایجز بول کی پچ ،کنڈیشن اسے راس نہ آئیں اور ٹیم کی بیٹنگ لائن ناکامی کی تصویر ثابت ہوئی اور بھارت ناکام ہوگیا.نیوزی لینڈ چیمپئن بن گیا،یہ اس سیزن میں ایشیا کی پہلی مگر بڑی ٹیم بھارت کی پہلی جزوی لیکن ٹائٹل کے حساب سے سب سے بڑی ناکامی تھی،ایک ا ور امتحان اس کا انگلینڈ میں باقی ہے جب وہ اگست میں انگلینڈ کے خلاف 5 ٹیسٹ میچزکی سیریز کھیلے گی. 
سری لنکا کو مکمل ناکامی
اس سیزن میں دوسری ایشیائی ٹیم سری لنکا نے قسمت آزمائی کی تو اسے بھی مکمل ناکامی ہوئی ہے،دونوں سیریز ہاردٰیں،5 میچز کی مسلسل ناکامی اس کے گلے کا طوق بن گئی،اب تک تک دونوں ایشیائی ٹیمیں انگلینڈ میں ناکام ہیں .اب تیسری ٹیم کا نمبر لگ گیا ہے اور وقت بھی قریب آگیا ہے.8جولائی سے پاکستان اس سیزن میں انگلش میدانوں میں اترنے والی تیسری سائیڈ بنے گی.پھر پاکستان کو بھی سری لنکا کی طرح 6میچز کھیلنے ہونگے .گرین شرٹس کو پہلی 2 ٹیموں بھارت اور سری لنکا سے مختلف نتائج دینے ہونگے کیونکہ پاکستان بھی ناکام ہوا تو ایشین ٹیموں کی ناکامی کی ہیٹ ٹرک ہوگی.ایک اور دلچسپ بات کرک سین یہاں کرے گا کہ پاکستان،سری لنکا اور بھارت کو یکساں 6،6 میچز کھیلنے کو ملے ہیں.سری لنکا اور پاکستان کو 3،3 ٹی 20 اور 3،3 ایک روزہ میچز جب کہ بھارت کو 6 ٹیسٹ میچز مل گئے،ایک ٹیسٹ اس نے نیوزی لینڈ کے خلاف کھیل لیا ہے اور 5 ٹیسٹ میچزکی سیرز انگلینڈ سے باقی ہے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.