کپتان کوکیا ملا،رمیز راجہ بابر اعظم ملاقات بنتی تھی؟

0 25

بدھ کے روز یہ خبریں نمایاں رہی ہیں کہ بابر اعظم اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے متوقع چیئرمین پی سی بی کے مابین ایک ملاقات لاہور میں ہوئی ہے۔ویسے تو یہ سوال بھی ہوگا کہ اس ملاقات کی اس وقت آئینی حیثیت کیا ہے۔پی سی بی چیئرمین شپ سنبھلانے سے قبل بابر اعظم کیا ہدایات لینے گئے اور ایسا کیا ضروری تھا۔قانون تو بڑا لفظ ہے،۔اخلاقی طور پر کیا یہ سب ٹھیک ہے۔یہاں خبریں تو یہ آنی چاہئے تھیں کہ چیف سلیکٹر محمد وسیم اور کپتان بابر اعظم کی ملاقات،نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز سمیت ورلڈ ٹی 20 پلان پر گپ شپ۔ایسا ہونے کی بجائے چیف سلیکٹر نے ٹیم جاری کردی۔ادھر بابر اعظم اپنے نئے چیئرمین سے ملاقات کرکے آگئے۔اب بھلے ہزار بار یہ کہیں کہ مجھے ڈائریکشن مل گئی۔آزادی مل گئی۔اپنے فصیلے کروں گا۔سمجھوتہ نہیں کروں گا۔یہ سب اس تناظر میں بے وقعت باتیں ہوجاتی ہیں۔یہ پاکستان ہے۔یہاں ہوتا کیا ہے

یس سر،جی سر

یہاں یہی کلچر ہے۔چڑھتا سورج باد شاہ ہے۔کوالیفیکیشن کے لئے زبان کا چلنا وہ بھی چوتھے گیر میں ضروری ہے۔بہت سوں کو ابھی بڑا اعتراض ہوگا ،خاموش ہیں،۔کسی کے تعلقات ہیں تو کسی کے فوائد۔سچ تو کوئی ایک آدھا بولے گا۔وہ شاید بول چکا۔کوئی سنے تو اسے علم ہوگا کہ ہوکیا رہا ہے۔اثرات کیا پڑیں گے۔سادہ لفظوں میں یہ کہ جب ٹاپ سے بے قاعدگی چلے تو جڑوں میں وہ بیٹھ جاتی ہے۔اب بتائیں کہ یہ ملاقات کیا اب ضروری تھی؟13ستمبر کے بعد بھی ہوسکتی تھی۔باقی رہ گئی ڈائریکشن کی بات تو 2 مطلب نکلتے ہیں۔چیف سلیکٹر محمد وسیم نے اگر من مانی کی ہے تو ان کے اعلان کردہ کھلاڑیوں میں سے مرضی کے 11 سلیکٹ ہوجائیں گے۔اگر انہوں نے بھی رمیز راجہ کی ہدایات پر عمل کیا ہے تو پھر بابر،رمیز کی ملاقات کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

بظاہر چیف سلیکٹر رمیز راجہ کی سوچ کے مخالف

چیف سلیکٹر نے بظاہر رمیز راجہ کی سوچ کی مخالفت کی ہے اور صہیب مقصود کو ڈراپ کردیا ہے جو رمیز راجہ کے نزدیک گزششتہ 6 ماہ سے ٹیم کے لازمی جزو تھا۔اعظم خان اور شرجیل خان ٹیم میں شامل ہیں تو بابر نے ملاقات کے بعد سنادیا ہے کہ فٹنس و دیگر مسائل پر سمجھوتا نہیں ہوگا۔گویا یہ 11میں شاید نہیں ہونگے۔سرفراز احمد کا ڈراپ کرنا بھی رمیز کی سوچ کی مطابقت رکھتا ہے۔خیر وہ کسی بھی وقت طلب ہوسکتے ہیں۔

نیوزی لینڈ سیریز پر اثرات

اس ملاقات کے ثمرات جلد ہی ظاہر ہونگے۔کیویز ٹیم کمزور ہے۔بنگلہ دیش میں آج ہارچکی ہے۔60پر ڈھیر ہوئے ہیں۔ان کا پاکستان میں یہی حال ہونا چاہئے۔نہ ہوا تو پھر رمیز،بابر کی ملاقات کا اس روز جو حال کیا جائے گا۔وہ ابھی سے سوچا جاسکتا ہے۔بات یہ ہے کہ ایک روزہ اسکواڈ مختلف ہے۔اس لئے اس کا شور بھی کم ہے اور اس وقت اس کی اہمیت بھی زیادہ نہیں ہے۔اصل بات ہے ٹی 20 اسکواڈ کو لانے کی۔مجھے لگتا ہے کہ کیویز کے خلاف وہی ہونگے جو ورلڈ کپ کھیلنے جائیں گے۔

ورلڈ ٹی 20 کی اصل ٹیم یہ ہوگی

شرجیل خان بھی باہر ہوسکتے ہیں۔اوپننگ کے لئے محمد رضوان اور بابر اعظم ہی ہونگے۔خراب کارکردگی کے باوجود فخرزمان ساتھ ہونگے۔شرجیل خان باہر ہونگے۔اسی طرح فخر ایک بیک اپ بھی ہونگے،ضرورت پڑنے پر پلیئنگ الیون کے رکن بھی۔اس کے بعد صہیب مقصود کو واپس لایا جاسکتا ہے۔خراب کارکردگی کے بعد بھی حیدر علی بھی لائے جاسکتے ہیں۔محمد حفیظ بھی ہونگے۔آصف علی بھی ساتھ ہونگے۔محمد نواز کو بھی رکھا جائے گا۔فہیم اشرف کے ساتھ حسن علی ہونگے۔شاداب خان کے ساتھ عماد وسیم ہونگے۔شاہین آفریدی کے ساتھ محمد حسنین اور حارث رئوف ہونگے۔عثمان قادر بھی لازمی ہونے چائیں اور شاہ نواز دھانی کو بھی ٹکٹ مل سکتا ہے۔مرضی مصباح الحق کی نہیں۔بابر اعظم کی چلے گی۔یہ بات کسی حد تک درست ہے

بڑی بریکنگ نیوز کا انتظار

باقی ہمارے ہاں ڈومیسٹک کرکٹ کےپرفارمرز شان مسعود،آغا و دیگر کا کیا کریں،منیجمنٹ ابھی وہی ہے۔نیوزی لینڈ جیسی کمزور ٹیم کے خلاف بھی کسی کو چانس دینے کو تیار نہیں ہوتی۔ایک بات اور بھی ہے۔ورلڈ ٹی 20 کی ٹیم دیکھ کر مصباح اپنے رکنے یاجانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔اس کے لئے الگ سے آنے والی ایک بڑی بریکنگ نیوز کا انتظار کیجئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.