کرکٹ سے امن پیغام،طالبان نے میچ کھلادیا،قومی ہیروز شریک،پیک اسٹیڈیم سے خاتون غائب

0 33

کابل سے کرک سین رپورٹ

یہ ایک ناقابل یقین بات تھی۔ایسا سوچنا بھی محال تھا۔جمعہ کو جو کچھ نظروں نے دیکھا،۔حیران کن تھا۔اچھا بھی لگا اور بہت کچھ اچھا ہوتے محسوس ہوا۔بات ہی کچھ ایسی تھی۔مغربی دنیا شاید اس کا یقین دیر سے کرے۔لگتا ایسا ہے کہ اگلامنظرنامہ اب یہی ہوگا۔سب کچھ بہتر ہوگا اور اتفاق سے ہوجائے گا۔کرکٹ کھیل ہی ایسا ہے۔بڑےا ختلافات چٹکیوں میں حل کردیتا ہے۔یہ کرکٹ میچ ہی تھا۔جس نے افغانستان اور طالبان کے پرچموں کو ایک ساتھ کردیا۔فضا میں دونون جھنڈے یوں تھے کہ جیسے ایک ہی ہوں۔حالانکہ گزشتہ 18روز سے نئے افغانستان میں یہ مسئلہ بھی زوروں پر تھا

افغانستان میں طالبان کی زیر نگرانی کرکٹ میچ

جمعہ 3 ستمبر 2021 کو دنیا کے لئے کرکٹ میدان سے بھی ایک پیغام گیا،یہ پیغام جاری کرنے والے کوئی اور نہیں طالبان ہی تھے۔جن پر الزام لگتا ہے کہ وہ پہلے کی طرح ہونگے۔تبدیل نہیں ہونگے۔ایسا کچھ نہیں ہوا۔لگتا ہے کہ طالبان نے سوچ بدل لی ہے۔نتیجہ میں دنیا کے لئے کرکٹ کا سہارا لے لیا گیا۔ایک میچ کھلا کر بتادیا کہ اتفاق و اتحاد یہ ہوتا ہے۔سوچ ایسے بدلتی ہے۔ہم پر اب یقین کرلو۔ہم سے تعلقات استوار کرلو۔ہمیں اپنے سے بہتر مہذب جان لو۔کابل کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹی 20 میچ کھیلا گیا،۔اس میں افغانستان کے تمام قومی کھلاڑی شریک ہوئے۔ہ وہ کرکٹرز جنہوں نے اگلے ماہ ورلڈ ٹی 20 کے لئے عرب امارات جانا ہے۔

دوستانہ،پیار بھرا،امن کا پیغام کرکٹ میچ کے ساتھ

کابل میں افغانستان کے قومی کرکٹرز کو 2 ٹیموں میں تقسیم کیا گیا تھا۔نام بھی پیارے تھے۔ایک ٹیم کا نام تھا ۔پیس ہیروز۔دوسری ٹیم کا نام تھا پیس ڈیفنڈ۔اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھرا تھا۔ایک اور بات دلچسپی سے خالی نہ تھی۔گرائونڈ میں میچ کے دوران افغانستان کے 2 مختلف جھنڈے دکھائی دیئے،۔ایک جھنڈا افغانستان کا اپنا تھا۔دوسرا جھنڈا طالبان کا تھا۔اگست کے دوسرے عشرے سے طالبان افغانستان پر کنٹرول کرچکے ہیں۔شروع میں انہوں نے افغان پرچم اتارنے اور اپنے پرچم لہرانے کا کہا تھا۔اسے مستقبل میں قومی پرچم کا کا درجہ دینے کی بات کی گئی تھی۔اس سے پورے ملک میں بے چینی پھیلی۔پوری دنیا نے تشویش سے دیکھا تھا۔پھر خاموشی رہی۔

کرکٹ نے دونوں پرچم ایک کردیئے

اب کرکٹ میچ نے دونوں پرچم کو سند دے دی۔وہ منظر دیدنی تھا۔جب کابل میں کرکٹ میچ جاری تھا۔اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھرا تھا۔سکیورٹی کرنے والے کوئی اور نہیں طالبان تھے۔جن کے پاس اسلحہ بھی تھا اور حفاظت کا سازو وسامان بھی۔کوئی ناخوشگوار بات نہیں ہوئی ۔ایسا لگا کہ جیسے یہ عام حالات کا میچ تھا۔اتنی عوام اور آزادی کے ساتھ تو سابق افغان حکومت بھی کوئی میچ نہیں کرواسکی تھی۔

طالبان رہنما کا دلچسپ رد عمل

اتنا بڑا میچ تھا۔سکیورٹی بھی ویسی تھی۔چنانچہ افغانستان میں کمانڈرز بھی موجود تھے۔ایسے میں ایک کمانڈر اس سارے عمل کے نگران تھے۔انہوں نے نے دلچسپ رد عمل دیا۔کہتے ہیں کہ یہ ایک اچھا تجربہ تھا۔میچ دیکھنے کا مزا آیا۔یہ ایک اور حوالہ سے بھی بڑا لمحہ تھا کیونکہ میں خود ایک کرکٹر رہا ہوں۔میں نے دلچسپی سے میچ دیکھا ہے۔

کابل اسٹیڈیم میں 4000تماشائی،خاتون کوئی نہیں

ایک بات اور بھی دیکھنے والی تھی۔جمعہ کی نماز سے قبل کھیلے گئے ٹی 20 میچ کو دیکھنے قریب 4000تماشائی آئے تھے۔دلچسپ بات یہ تھی کہ ان میں ایک بھی خاتون نہیں تھی۔یہ ایک اتفاق تھا یا سب کے ذہن میں تھا کہ ایسا ہی کرائوڈ ہوگا۔دلچسپی کی ایک اور بات بھی موجود تھی۔میچ کے دوران نغمے اور گیت بھی چلائے گئے۔ایسا شو تھا جیسے ایک فیسٹیول ہو۔

افغانستان میں کرکٹ اور مستقبل

افغانستان میں رواں صدی میں کرکٹ شروع ہوئی۔انضمام الحق سمیت پاکستان کے کئی سابق پلیئرز کوچز رہے۔پھر ایسا وقت آیا کہ افغان ٹیم ایک یونٹ بن گئی۔ہوری دنیا میں بہتر ٹیم سمجھی جانے لگی۔نتیجہ میں اسے آئی سی سی نے ٹیسٹ سٹیٹس بھی دے دیا۔اہم بات یہ بھی ہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم آج ان8 خوش نصیب ٹیموں میں ہے جو ورلڈ ٹی 20 براہ راست کھیل رہی ہے۔سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسی ٹیموں کو ایک درجہ پیچھے رہ کر کوالیفائنگ ایونٹ کھیلنا ہے۔اس سے لگتا ہے کہ ملک میں کرکٹ کامستقبل روشن ہے۔افغانستان مین کرکٹ پروان چڑھے گی۔اسے سرکارعی سطح پر لیاجائے گا۔آنے والے دنوں میں فٹبال کے کھیل کو بھی توجہ ملے گی۔

کرکٹرز خوش،لائف تسلی بخش

افغاسنتان کے قومی کرکٹرز نے اس تجربہ کے بعد خوشی کا اظہار کیا ہے اور اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ایک خوف کہیں ضرور موجود تھا جو ختم ہوا۔اس فرینڈلی میچ نے بہت اعتماد دیا ہے،اب زندگی سہل ہوگئی ہے۔بہتر انداز میں لائف گزرے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.