کامران اکمل کی آج سالگرہ،یادگار سنچریز،شاندار پرفارمنس ایک جواب کی متلاشی

عمران عثمانی
Image By insidesport
پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ اور خاص کر ٹی 20 فارمیٹ میں مسلسل رنزکے انبار لگانے والے کامران اکمل آج 39 سال کی عمر میں بھی اپنے پیارے ملک کی نمائندگی کی خواہش رکھتے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کی طرح وہ بھی یہ نہیں جانتے کہ 35 سال کی عمر میں انہیں کیوں ڈراپ کیا گیا،حالانکہ وہ مسلسل پرفارم کر رہے تھے۔53 ٹیسٹ میں 30 سے زائد کی اوسط سے2648 رنز،6سنچریز،12 ہاف سنچریز بطور وکٹ کیپر ایک اعلیٰ ریکارڈ تھا۔157ایک روزہ میچزمیں 26کی اوسط سے 3226رنزبھی معمولی نہ تھے،یہاں بھی 5سنچریز کے ساتھ10 ہاف سنچریز تھیں،58 ٹی 20ا نٹر نیشنل میچزمیں 987اسکوربھی قابل ذکر ہے۔تینوں فارمیٹ میں 450 سے زائد کیچز،اسٹمپ بھی انکی پروفائل کا حصہ ہیں۔کامران اکمل نے پاکستان سپر لیگ میں رنزکےا نبار لگاڈالے،وہ مسلسل ٹاپ اسکورر بھی رہے،ان کی ٹیسٹ،ڈومیسٹک اور محدود اوورز کی پرفارمنس صرف ایک جواب کی متمنی رہی ہے کہ انہیں اتنا کچھ کرنے کے باوجود موقع کیوں نہیں ملا.
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل آج 39 سال کے ہوگئے ہیں۔1982میں آج یعنی 13 جنوری کو پیدا ہونے والے کامران اکمل نے 15 سال کی عمر میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا تھا۔فرست کلاس کرکٹ کے آغاز کے 5برس بعد انہیں 2002میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع اس وقت ملا جب ٹیم کے ریگولر وکٹ کیپر راشد لطیف ان فٹ ہوگئے ۔بہت کم عرصے میں انہوں نے بطور وکٹ کیپر ایک کامیاب بیٹسمین کی پہچان کروالی۔2005کے موہالی ٹیسٹ میں ان کی یاد گار سنچری ہی تھی کہ جب انہوں نے پاکستان کو شکست سے بچالیا۔
کامران اکمل کے بیٹ پرا س سےا گلا سال بھی بھارت تھا جب انہوں نے اوپر تلے 2سنچریز ہوم گرائونڈز پر بناڈالیں،اہم بات یہ بھی تھی کہ انہوں نے بطور وکٹ کیپر تیز ترین سنچری بھی اسکور کرڈالی۔کیا یہ کوئی معمولی بات تھی کہ ان کی سنچری کی بدولت ہی قومی ٹیم 39 رنز6وکٹ سے 341رنزکے مجموعہ پر پہنچ گئی۔
2011ورلڈ کپ میں کمزور پرفارمنس کی وجہ سے وہ ڈراپ ہوئے،اس کے بعد 2ورلڈ ٹی 20 میں وہ شامل ہوئے لیکن 2017 تک انہیں ڈراپ کئے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔2010میں آخری ٹیسٹ اور 2017میں محدود اوورز کی کرکٹ میں آخری بار پاکستان کی نمائندگی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں