پی سی بی چیف آپس میں لڑپڑے،عامر نے کوچز کی آفر ٹھکرادی،پریٹی پر امید

عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس خراب ہے تو پریشانی ہے لیکن دوسری طرف بورڈ کو چلانے والی ٹاپ لیڈر شپ کے حالات بھی خراب ہوگئے ہیں. اوپر سے رہی سہی کسر محمد عامر نے جوابی انٹرویو میں ہیڈ کوچ اور بائولنگ کوچ کو پھر سے ہدف بنا کر نکال دی ہے.
پاکستان کے نجی میڈیا چینل کے مطابق چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان اور چیئرمین پی سی بی احسان مانی میں اختلافات بڑھ گئے ہیں. رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ چیئرمین پی سی بی مانی چیف ایگزیکٹو وسیم کے کام میں مداخلت کر رہے ہیں اور سی ای او کے اختیارات اتنے لا محدود ہیں کہ بورڈ کی جانب سے کرکٹ بال خریدنے کی منظوری بھی چیئرمین سے لینی پڑتی ہے.
وسیم خان کو انگلینڈ سے 3 سالہ معاہدے پر لایا گیا تھا جو اگلے ماہ مکمل ہوگا لیکن لگتا ہے کہ اس سے قبل ہی کھڑاک ہوجائے گا.

دوسری طرف ریٹائرمنٹ لینے والے محمد عامر نے ہیڈ کوچ مصباح اور بائولنگ کوچ وقار یونس کو کڑا جواب دے دیاہے. دونوں کی پریس کانفرنس کے رد عمل میں عامر نے کہا ہے کہ پرفارمنس کی بنیاد پر مجھے سائیڈ پر کرنے کی باتیں میڈیا کے لئے ہیں اور جبکہ مجھے انہوں نے ذہنی طور پر خوب ٹارچر کیا .آہستہ آہستہ سائیڈ لائن کرتے گئے. نتیجہ میں میں مجبور ہوگیا. مصباح اور وقار کے ہوتے ہوئے کھیلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. عامر نے کہا ہے کہ انہوں نے مجھے کہا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر واپسی کروں .کچھ بھی ہوجائے ان کے ہوتے نہیں کھیلوں گا.یہ دونوں اپنے وقت کے اچھے کھلاڑی ضرور تھے لیکن کوچنگ ایک مختلف شعبہ ہے. کھڑے کھڑے بنا سیکھے یہ نہیں آسکتا اس لئے کہ پہلے کوچنگ کی تعلیم حاصل کرنی ضروری ہے.
دوسری جانب آئی پی ایل فرنچائز کی مالکہ پریٹی زنٹا نے گزرے سال کے مقابلے میں نئے سال میں بہتری کی امیدیں ظاہر کی ہیں اور کرکٹ سرگرمیوں کے معمول پر آنے کی امید ظاہر کی ہے لیکن پاکستان میں کرکٹ معاملات مزید خراب ہونے جارہے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں