پھر بابر اور فواد فولاد،باقی سب فلاپ،اظہر علی کی نہ چلی،اسپنرز تاحال وکٹ سے محروم

0 32

کرک سین کی خصوصی رپورٹ
پاکستان کی ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی بیٹنگ لائن تمام ہوئی.2 ٹیسٹ کی 4 اننگز مکمل ہوگئیں.تمام ٹاپ آرڈرزکے لئے یہ دورہ بھی ڈرائونا خواب رہا.اس طرح قومی ٹیم اور سسٹم ٹیسٹ کرکٹ کے لئے بہترین سائیڈ نہ دکھا سکا.کنگسٹن جمیکا میں دوسرے ٹیسٹ کا آخری روز اگر چہ باقی ہے.پاکستانی بائولرز کے پاس کرنے کو بہت کچھ ہے.دوسرے نتیجہ میں ویسٹ انڈین بیٹسمینوں کے ہاتھوں میں رنز بٹورنے کے مواقع ہے.پاکستان کے بیٹسمین فارغ ہوئے.دیکھنا ہوگا کہ سیریز سے فراغت ملی یا کارکردگی پیش کرنے میں بھی فارغ ہی رہے.
پاکستانی اوپنرز کا وہی حال
پاکستانی اوپنرز کا حال وہی رہا،جس کی ان سے توقع رہتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ خوف ہوتا ہے.ان میں سے ایک عمران بٹ ہیں.انہوں نے ایک 2 کیچ کیا لئے،کسی عقل مند نے بول دیا کہ کیا سلپ فیلڈر ملا ہے.ایسے سلپ فیلڈر کو کیا کرنا ہے جو اوپنر بھی ہو اور مسلسل فلاپ ہو.ویسٹ انڈیز کے خلاف موصوف دونوں ٹیسٹ میچزکھیلے ہیں.ان کو 4 اننگز ملی ہیں.49 اسکور کرسکے.اس کے لئے سوا12کی اوسط رہی.وکٹ پر ٹکنا ہی نہیں آیا.93 بالیں کھیل سکے.ہائی اسکور 37 تھا.وہ بھی آخری اننگ میں اس لئے بناگئے.جلدی کھیلنا مجبوری تھا.
ایک اور اوپنر ہوتے ہیں.ان کا نام عابد علی ہے.موصوف ہوم گرائونڈز میں کمزور ٹیموں کے خلاف اوپر تلے سنچریز کیا کرگئے.نابالغ میڈیا نے انہیں سپر اسٹار بنادیا.پی سی بی اس کی چکا چند میں آگیا.لازمی جزو بنادیئے گئے.ایک سال سے ناکام چلے آرہے ہیں.اس سیریز کی4 اننگز کھیلیں .112 بالوں کے لئے وکٹ پر قیام کیا.73 اسکور بن سکے.ہائی اننگ 34 کی تھی.گویا دونوں اوپنرز نہلے پہ دہلا ثابت ہوئے.
اظہر علی کی مکمل ناکامی،پاکستان کے لئے شاید بہتری
ایک اور بیٹسمین ہیں.ان کی ایک خوبی رہی ہے.ہر سیریز میں ناکام جاتے ہیں،پاکستان کے لئے شکست یقینی بنواتے ہیں،پھر ایک اننگ میں لمبی باری کھیل کر اگلے 6 ماہ کے لئے لازم ہوجاتے ہیں.نام اظہر علی ہے.ایک عرصہ سے یہی روٹین ہے.تسلسل سے اسکور نہیں.دنیا انہیں آئوٹ آف فارم بھی کہتی ہے.ایک اننگ کی وجہ سے فارم میں واپسی کی امیدیں باندھتی ہے.اس بار ان کی یہ روایت بھی ٹوٹ گئی.شاید اچھا ہو.ان کے لئے نہیں بلکہ پاکستان کے لئے.اس لئے کہ اس بار وہ بھی 2 ٹیسٹ میچزکی 4 اننگز کھیل گئے.15 کی اوسط سے 62 ہی اسکور بنائے.ان کا ایک کمال رہا.اتنی مختصر اننگز کے لئے وہ 175 بالیں ضرور کھیل گئے.گویا وکٹ پر رکنے کا موقع ملا بھی تو سوائے وقت کے ضیاع کے کوئی اسکور نہیں بناسکے.
مڈل آرڈر میں نام نہاد آل رائونڈرز
اصل میں تو 2،2 ہیں .ایک کا نام حسن علی ہے.دوسرے فہیم اشرف ہیں.آنکھیں بند کریں.ذرا سوچیں کہ ٹیسٹ اسکواڈ کے پیس اٹیک مین فہیم اشرف کا بھی اہم رول ہے.پہلے بات کرتے ہیں حسن علی کی.قائد اعظم ٹرافی کے 3میچز میں کیا چلے کہ تینوں فارمیٹ میں لائے گئے.اے کیٹگری بھی مل گئی.اس سیریز کا نتیجہ بھی پھر جان لیں.4 اننگز میں 17 کی اوسط سے صرف 68 اسکور بناسکے ہیں.تاحال ان کی 49 اوورز کرکے صرف 4 وکٹیں ہیں.دوسرے آل رائونڈر فہیم اشرف ہیں.انہوں نے بیٹنگ میںکچھ اچھی جھلک دکھائی.100 اسکور پھر بھی نہ مکمل کرسکے.4 اننگز میں 99 اسکور ہے.ہائی اننگ 44رہی.بائولنگ میں وہ بھی حسن علی کے ہم نوا ہیں.4ہی کھلاڑی آئوٹ کرسکے.
حسب سابق بوجھ اٹھانے والے 2 ہی کھلاڑی
فواد عالم اور بابر اعظم کا وہی کردار،ایک سال سے ہر فارمیٹ میں یہی چل رہے.باقی سب ناکام ہیں.بیٹنگ ایوریج میں فواد عالم کا پہلا نمبر ہے.انہوں نے 90کیا وسط سے 2ٹیسٹ کی 3 اننگز میں 180 رنزبنائے.124 کی بڑی اننگ بھی ساتھ ہے.ایک ففٹی بھی بنائی تھی.رنزکے اعتبار سے بابر اعظم کا پہلا نمبر ہے.2 میچز کی 4 اننگز میں 193 رنزبنائے ہیں.2ففٹیز شامل ہیں .49سے کم ایوریج ہے.ان 2 کے علاوہ کوئی بیٹسمین 100 بھی مکمل نہیں کرسکا.محمد رضوان سے امیدیں ہوتی ہیں.یہ سیریز ان کے لئے بھی مشکل رہی.وہ 2 میچز کی 4اننگز میں 94اسکور بناسکے.اسی وجہ سے پاکستان کی بیٹنگ لائن پر زیادہ دبائو آیا.
پاکستانی بیٹنگ لائن کا یہ مسئلہ پرانا ہے،اس طرح بڑی سیریز جیتی نہیں جاسکتی ہیں.مسلسل ناکامیاں ہیں.پھر بھی ٹیم میں شامل ہیں.فواد عالم کی سالہا سال بعد واپسی ہوئی.انہوں نے بوجھ اٹھالیا ورنہ تو سب کچھ ختم ہوتا.ادھر حالت یہ ہے کہ منیئجمنٹ مڈل آرڈر میں فہیم اشرف کے ساتھ گزارا کر رہی ہے.یہاں بھی ایک اچھا بیٹسمین اور یا پھر اس سے بہتر آل رائونڈر درکار ہے.کہانی فہیم اشرف سے شروع ہوتی ہے اور حسن علی پر ختم ہوجاتی ہے.
اکیلے شاہین کامیاب،باقی ناکام،اسپنرز ایک وکٹ بھی نہ لے سکے
بائولنگ می شاہین آفریدی دونوں سائیڈز کے ٹاپ وکٹ ٹیکر ہیں.مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکیلے ہین،ان کے ساتھ ان جیسی نہ سہی،ان کے برابر وکٹیں لینے والا کوئی نہیں ہے.انہوں نے اب تک 14 وکٹیں لی ہیں.ویسٹ انڈیز کے 9 کھلاڑی ابھی باقی ہیں.وہ مزید بھی آئوٹ کرسکتے ہیں.ایک جانب ایک بائولر کی 14 وکٹیں ہیں تو دوسری جانب ان کا ساتھ دینے والے کی ان سے آدھی بھی نہیں ہیں.محمد عباس 6 وکٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں.حسن اور فہیم کی 4،4 وکٹیں ہیں.ایک اور مزے کی بات ہے.3 اننگز مکمل ہوگئی ہیں.چوتھی اننگ شروع ہے.تاحال پاکستان کا کوئی اسپنر ایک وکٹ بھی نہیں لے سکا.لگتا ہے کہ یہ ایک اور ریکارڈ بننے جارہا ہے.
یہ بھی اسی سے متعلق ہے
دوسرا دن ضائع،3 دن میں پاکستان کی جیت کے 2 اور ہارنے کا ایک پلان،بریکنگ نیوز

Leave A Reply

Your email address will not be published.