پاکستان کے 33ویں ٹیسٹ کپتان بابر اعظم۔۔اظہر علی کامایوس کن ریکارڈ،صرف2فتوحات

پاکستان کے 33ویں ٹیسٹ کپتان بابر اعظم۔۔اظہر علی کامایوس کن ریکارڈ،صرف2فتوحات

عمران عثمانی

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نئےکپتان کا انتخاب ہوگیا ہے،اظہر علی 2 بار کپتان بنائے جانے کے بعد دوسری بار برطرف کئے گئے ہیں،نئے قائد کے لئے قرعہ فال بابر اعظم کے نام نکلا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان سے آج کرکٹ کے بڑوں کی ملاقات،اظہر علی کے لئے خاص پیغام
کرک سین نے دورہ انگلینڈ میں اظہر علی کے طرز انداز کو دیکھتے ہوئے 16ستمبر کو سب سے قبل یہ خبر بریک کی تھی کہ اظہر علی کے لئے خفیہ پیغام تیار ہے،اس کے بعد اکتوبر میں ان کی رخصتی کی خبریں آئیں جبکہ 6نومبر کو ان کی فراغت و انکی جگہ نئے کپتان کے انتخاب کی کنفرم خبر دے دی تھی.
پاکستان کےٹیسٹ کپتان،نائب کپتان تبدیل،ہیڈ کوچ کے پاس بھی وقت کم،بریکنگ نیوز
بابر اعظم پاکستان کے تینوں فارمیٹ کے کپتان بنادیئے گئے ہیں،پی سی بی نے بابر اعظم کو محدود اوورز کی کرکٹ میں تو ایک سال تک کی کپتانی کا باقاعدہ اعلان کیا ہے لیکن طویل فارمیٹ کے لئے ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔
کپتان کی تبدیلی،یہ پی سی بی کی بڑی نالائقی ہوگی اگر۔۔۔راولپنڈی ایکسپریس نے کیا وارننگ دی
بابر اعظم کی عمر اور کیریئر کے ساتھ ان کی فارم دیکھی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ پی سی بی طویل الوقتی کپتان کا انتخاب چاہتا ہے،پاکستان کرکٹ کا یہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی جز وقتی کپتان بنائے گئے ہیں تو وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔2010سے 2017تک مصباح کی کپتانی میں پاکستان بہت حد تک کامیاب بھی رہا،ایک وقت میں عالمی نمبر ون بھی بنا تھا لیکن اس کے بعد قیادت اظہر علی،سرفراز احمد اور پھر اظہر علی کےپاس گئی اور ٹیم ناکام ہوتی گئی۔اظہر علی نے 9ٹیسٹ میچز میں کپتانی کی اور پاکستان صرف 2میچز جیتا جبکہ4میں اسے شکست ہوئی،3میچز ڈرا کھیلے،ان کے مقابلے میں سرفراز احمد اور زیادہ ناکام گئے۔13ٹیسٹ میچز میں سے 8ہارگئے،صرف ایک ڈرا کھیل سکے اور4میں فتح کا ذائقہ چکھ سکے۔
اظہر عکی کی سلطنت تباہ،پاکستان کا نیا ٹیسٹ کپتان مقرر،کرک سین کا2 ماہ پرانا تجزیہ سچ ثابت
پاکستان کے پہلے کپتان عبد الحفیظ کاردار تھے،23میں سے 6جیتے تو 6ہارے لیکن1952سے 1958تک ابتدائی عرصہ میں ان کی کپتانی کامیاب ہی رہی،1969تک فضل محمود اورحنیف محمد نے 10 اور 11میچزمیں کپتانی کی لیکن زیادہ کامیاب نہیں رہے ان سے کم میچز میں متعدد کپتان بنے لیکن نہیں چل سکے۔1975تک انتخاب عالم نے 98فیصد17میچز میں قیادت کی لیکن اکلوتی فتح ناکافی تھی۔1976سے 1979کے درمیان مشتاق محمدنے 19میں سے 8فتوحات کے ساتھ اچھا وقت گزارا۔1980سے 1992کے دوران جاوید میاں داد نے 34میں سے14میچز جیتے اور 6ہارے جبکہ عمران خان نے 48میں سے 14جیتے اور 8ہارے۔یہایک سنہرا دور رہا۔پھر سب سے زیادہ لمبی کپتانی انضمام نے 31میچز میں کی لیکن فتح و ناکامی 11-11سے برابر رہی اور پھر مصباح نے56میچز میں ریکارڈ کپتانی کی ،اگر 26میچز جیتے ہیں تو 19میں بڑی ناکامی بھی ساتھ رہی۔
کم عمری میں ہی بابر کوکپتان بنانے کا سوچ لیا تھا، احسان مانی
1952سے 2020تک وسیم اکرم،وقار یونس،سلیم ملک،معین خان،حنیف محمد،ماجد خان،وسیم باری،راشد لطیف،عامر سہیل،رمیزراجہ وغیرہ نے بھی قیادت کا مزا چکھا لیکن ان سمیت اور بھی کپتان کامیاب نہیں ہوسکے۔
بابر اعظم پاکستان کی 68 سالہ ٹیسٹ تاریخ کے 33 ویں کپتان بنے ہیں،عمر بھی کم ہے اور وقت بھی بہت ہے،دیکھنا ہوگا کہ وہ اس میدان میں کرسکتے ہیں۔
بابر نے اظہر علی کو تھینک یو بول دیا،کپتان بننے پر خوش
پاکستان نے آخری ٹیسٹ سیریز اظہر علی کی قیادت میں انگلینڈ میں کھیلی اور 0-1سے ہاری تھی،جبکہ زمبابوے کے خلاف محدود اوورز کی سیریز بابراعظم کی قیادت میں ایک دن قبل ہی جیتی ہے،اگلی سیریز اب نیوزی لینڈ میں ہے،جہاں 33ویں کپتان بابر اعظم کی قیادت کا طویل فارمیٹ میں پہلا امتحان ہوگا.

اپنا تبصرہ بھیجیں