پاکستان کی ورلڈ ٹی20 ٹیم فائنل،2 بڑے نام باہر،انضمام الحق کی رمیز کی پہلی مخالفت

0 30

رپورٹ :عمران عثمانی

اس وقت اہم ترین سوال یہ ہے کہ ورلڈ ٹی 20میں کون جائے گا۔گرین کیپس کی نمائندگی کا حق کسے ملے گا۔سچی بات یہ ہے کہ ورلڈ ٹی 20کے لئے ٹیم کا اعلان ہونے والا ہے۔72 گھنٹے یا حد 96 گھنٹوں میں پاکستان کی خوش قسمت ٹیم سامنے ہوگی۔ورلڈ کپ کوئی بھی ہو،کھیلنا اعزاز ہوتا ہے۔ورلڈ ٹی 20 دیکھا بھی زیادہ جاتا ہے۔مختصر فارمیٹ ہے۔وقت کم لگتا ہے۔کھلاڑی لمحوں میں دنیا کا مشہور ترین پلیئر بن جاتا ہے۔پاکستان کے چیف سلیکٹر محمد وسیم قرعہ فال نکالنے والے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلنے والے ورلڈ کپ کھیلیں گے

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اب کسی نئی مہم جوئی کا وقت نہیں بچا۔اب تک جو ٹیم کھلائی گئی ہے،اس میں سے ہی پلیئرز لئے جائیں گے۔تجربہ کا وقت گزر گیا۔اتفاق ایسا ہے کہ اگلے 4 دن میں ورلڈ ٹی 20 کے لئے ٹیم کا اعلان ہونا ہے۔داتھ میں وہ ٹیم بھی سامنے آئے گی جو ہوم گرائونڈ میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کھیلے گی۔ورلڈ ٹی 20 سے پہلے پھر انگلینڈ سے بھی 20 میچز ملیں گے۔ملین ڈالرزکا سوال یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف کون سلیکٹ ہوگا۔نتیجہ میں وہی ورلڈ ٹی 20 کپ کھیلنے جائے گا۔

ملین ڈالرز کا سوال،کون خوش نصیب

ورلڈ ٹی 20 کے لئے 15 رکنی اسکواڈ ہوگا۔باقی 3سے 4 پلیئرز ہر بورڈ اپنے خرچ پر لے کر جائے گا۔یوں 18سے 19پلیئرز ہونگے۔پھر وہی سوال ہوگا۔کون ورلڈ ٹی 20 کا خوش نصیب ہوگا۔سب سے پہلے اوپنرز کی بات کریں تو وہ طے شدہ ہیں۔باقی مڈل ٓرڈر مسئلہ ہے۔پیسرز اور اسپنرز بھی کور ہیں۔مڈل آرڈرز سب سے اہم ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق نے بھی اسی مسئلہ کی نشاندہی کی ہے،صرف آج سےنہیں بلکہ ہمیشہ سے یہی کہتے آئے ہیں۔تازہ ترین ویڈیو میں جو کہ اپنے آفیشل یو ٹیوب چینل پر آئی ہے۔سابق چیف سلیکٹر کہتے ہیں کہ

انضمام نے رمیز راجہ کی مخالفت کردی

مڈل آرڈر میچ فنشرز ہوتے ہیں۔کئی ٹیمیں ایڈوانٹج اس لئے نہیں اٹھاپاتیں۔میں یہ بھی سنتا رہتا ہوں کہ سینئرز نہیں ہونے چاہئیں۔میں اس کو نہیں مانتا۔جو سلیکٹ ہوگیا بس فائنل۔اب ورلڈ کپ کے بعد کوئی تجربہ کرلیں۔انضمام نے نام لئے بغیر صاف بولا ہے کہ کسی سینئر کے خلاف محاذ آرائی غلطی ہوگی۔در اصل انضمام الحق نے یہ جملے بول کر محمد حفیظ اور شعیب ملک کی موجودگی اور رمیز راجہ کی مستقل تنقید کی جانب اشارہ کیا۔مستقبل کے چیئرمین پی سی بی ہمیشہ عمر رسیدہ پلیئرز کو ناکلنے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔اب بھی یہ قیاس آرائیاں ہیں کہ حفیظ کا کیریئر جاسکتا ہے۔شعیب ملک تو پہلے ہی ٹیم سے باہر ہیں۔انضمام الحق نے ایک قسم کی رمیز راجہ کی رائے کی مخالفت کی اور کہا ہے کہ کیا یہ کوئی انڈر 19 یا انڈر 16 ٹیم بن رہی ہے کہ مذاق کیا جائے یا مذاق اڑایا جائے۔

فخرزمان !خدا حافظ

پاکستان کی ورلڈ ٹی ٹی20 کے لئے ٹیم کیا ہونی چاہئے۔سابق چیف سلیکٹر نے کہا ہے کہ اوپنرز کے لئے فخرزمان،،بابر اعظم،شرجیل خان،شان مسعود اور محمد رضوان ہیں۔رضوان اتنے عرصہ سے اوپنر آرہا ہے۔اس کے ساتھ اب فخر زمان ہونگے؟وہ ٹی 20 مین ناکام جارہے ہیں۔شان مسعود کے حوالہ سے انضمام کہتے ہیں کہ سب سے اچھے شان مسعود ہیں۔عقل سے کھیلتے ہیں۔جب سے میں نے دیکھا وہ اچھا کھیلتا۔میں ہوتا تو اسے سلیکٹ کرتا۔شرجیل خان بھی واپس آگئے ہیں۔ابھی فارم میں نہیں ہوں۔3سال کے بعد آیا ہے۔یہ مفید رہے گا۔شرجیل ضرور ہوگا۔انضمام نے واضح کیا کہ شان مسعود،شرجیل،بابر اور رضوان ہونے چاہئیں۔فخرزمان خدا حافظ۔

مڈل آرڈرز کے خوش نصیب کون

پاکستان کا سنگین مسئلہ رہا ہے۔وجہ یہ ہے کہ سب سے سینئر پلیئر حفیظ کی فارم نہیں رہی۔حفیط ویسے اچھا پلیئرہے۔حفیظ کو اس لئے ووٹ دیتا ہوں کہ یہ جس وقت اسکور کرتا ہے۔پاکستان جیت جاتا ہے۔پھر بائولنگ بھی کرتا ہے اور یہ ہونگے۔شعیب ملک پر بحث ہے۔بات یہ ہے کہ مڈل آرڈر میں حیدر سمیت سب تجربے ناکام رہے۔جب وہ ناکام رہے ہیں تو شعیب ملک پر واپسی کرلیں۔اگر یہ نوجوان حیدر،آصف،صہیب اور اعظم خان اچھے ہوتے تو پھر شعیب کی بات نہ ہوتی۔انضمام نے چھٹے نمبر کے لئے محمد آصف کو لازمی قرار دیا ہے۔حالانکہ آصف بڑے عرصے سے ناکام ہیں۔انضمام کہتے ہیں کہ ان کو ہونا چاہئے۔

سرفراز احمد بھی باہر

وکٹ کیپرز میں رضوان ہی ہونگے۔15پلیئرز میں 2 وکٹ کیپرز نہیں جائیں گے۔اس کا صاف مطلب ہے کہ ورلڈ ٹی 20 کےلئے رضوان ہی جائیں گے۔سرفراز احمد کی چھٹی ہوگی۔یہ زیادہ بحث والی بات ہی نہیں ہیں۔اگر اسپنرز کو دیکھا جائے تو شاداب خان ہونگے۔عماد وسیم ہونگے۔عثمان قادر ہونگے،دونوں نے تھوڑا مایوس کیا۔گزشتہ دنوں عماد کو نظر انداز کیا گیا،اسے کھلانا چاہئے۔محمد نواز کا سوچا جاسکتا ہے۔عماد کو پریشر کا پتا ہے کہ کیسے ہینڈل کرنا ہے۔

دھانی کے امکانات بھی کم

شاہین آفریدی،حسن علی محمد حسنین،حارث رئوف،محمد وسیم جونیئر،شاہ نواز دھانی اور ارشد اقبال ہیں۔اب سلیکٹ کون ہونگے۔شاہین اور حسن تو پکے ہیں۔حارث اتنے اچھے نہیں جارہے ہیں۔حارث کے پاس 2 سال کا تجربہ ہوگا۔وسیم جونیئر کے بارے میں انضمام نے اچھی رائے دی ہے کہ ریورس سوئنگ کرسکتا ہے،فیلڈر بھی اچھا ہے۔ہٹر بھی خوب ہے۔ارشد اقبال اور دھانی کے بارے میں یہ کہوں گا کہ ان کو موقع کیوں نہیں دیا گیا۔اب ان کو فوری ورلڈ کپ کھلایا گیا تو ان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔محمد عامر کو بھی سوچا جاسکتا تھا،اس نے ریٹائرمنٹ لے رکھی ہے۔یہ ایسی بات نہیں تھی۔ان کو کھیلنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔خالی احتجاج کرتے اور کھیلتے۔کیونکہ ان کے پاس تجربہ تھا ملک کےکام آتا۔آل روئنڈرز مین فہیم اشرف ہیں۔وہ بھی 18 سے 19 پلیئرز میں آجائیں گے۔

پاکستان ورلڈ ٹی 20 جیت سکتا؟

پاکستانی ٹیم کی کمال بات یہ ہے کہ ہماری ٹی20 کی پرفارمنس اچھی ہے۔سلیکشن اچھی ہو تو ہم ورلڈ کپ جیت جائیں گے۔اس لئے کوشش کرنی ہوگی۔نیوزی لینڈ کے خلاف سلیکٹ کردہ پلیئرز کھلائے جائیں ۔انہیں بھر پور اعتماد دیاجائے۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.