پاکستان اور ویسٹ انڈیز میں حماقتوں کا بھی مقابلہ،بریتھویٹ سنچری کیسے چھوڑ گئے

0 39

تبصرہ : عمران عثمانی
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں میں سبائنا پارک میں ایک جانب ٹیسٹ میچ کا مقابلہ ہے تو دوسری جانب حماقتوں اور بے وقوفیوں میں بھی ریس جاری ہے،دونوں ٹیموں میں کچھ نفسیاتی مسائل ہیں،جلد ہی ایسے ہوجاتے ہیں کہ جیسے سب کچھ حاصل کرلیا،کچھ نقصان ہوجائے تو ایسے پزل ہوتے ہیں کہ جیسے سب کچھ کھودیا اور پھر جب کچھ پانے کا وقت آئے تو ایسی غلطی کرجاتے ہیں کہ پکاپکایا پھل ضائع کرنے پر تلے ہوتے ہیں،چنانچہ یہ ٹیسٹ میچ وہی جیتے گا جو غلطیوں اور حماقتوں میں ہارے گا.
آدھی ٹیم کے شکار کے بعد پاکستانی ٹیم کی بے فکری
ویسٹ انڈیز کے خلاف جمیکا ٹیسٹ کا دوسرا دن شروع ہوا تو 2پر 2 وکٹ کھونے والی ٹیم کو پاکستانی بائولرز اور فیلڈرز نے آسان لے لیا تھا،ان کا یقین تھا کہ یہ 150کی مار ہیں،چنانچہ باڈی لینگویج بھی یہی کچھ بتارہی تھی اور پھر جب پاکستان نے 100 پر 5 آئوٹ کردیئے تو انہیں لگا کہ اب ایک بال کی مار ہیں لیکن وہ بھول گئے کہ سامنے ویسٹ انڈیز کے سابق اور موجودہ کپتان کریز پر کھڑے ہیں.بابر اعظم نے اس وقت زیادہ چالاکی نہیں دکھائی اور روایتی انداز میں فیلڈنگ لے کر اپنے بائولرز کو روبوٹ کے مطابق چلاتے رہے جس سے ویسٹ انڈیز نے 96 رنزکی قیمتی شراکت بناکر میچ پر قابو پالیا.
سنچری سے محرومی،حقیقی بے وقوفی
ویسٹ انڈیز نے جب 5وکٹ پر 196 اسکور کر لئے تھے تو جیسن ہولڈر بے فکری سے کھیلنے لگے اور فہیم اشرف کی آف اسٹمپ سے باہر جاتی بال کو چھیڑنے کی پاداش میں کیچ دے گئے،ویسے تو اس وکٹ کے گرنے سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑا تھا لیکن اس کے تھوڑی دیر بعد کریگ بریتھویٹ جس طرح اپنی حماقت سے رن آئوٹ ہوئے ،وہ منظر بھی دیکھنے والا تھا،97 رنز پر بیٹنگ کرنے والے بریتھویٹ کو کسی جلدی کی ضرورت نہیں تھی لیکن انہوں نے رسکی اسکور لیا اور براہ راست تھرو پر وہ رن آئوٹ ہوگئے،یہ ان کی بڑی حماقت تھی،ایک تو وہ سنچری سے محروم ہوئے اور دوسرا ویسٹ انڈیز کا اسکور سلو ہوا اور تیسرا مزید ایک اور نقصان ہوگیا،اب اس آئوٹ میں پاکستانی بائولرز کا کوئی کمال نہیں تھا،بس بات صرف اتنی تھی کہ نروس نائنٹیز کا شکار بریتھویٹ پزل ہوئے اور وکٹ گنواگئے.
حماقتیں اور خوشیاں رفوچکر
پاکستانی ٹیم نے ان کا آئوٹ دیکھ کر یہ سمجھا کہ اب ٹیل اینڈرز تو بس ایک اوور کی مار ہیں،بس پھر جس انداز مین عباس،شاہین اور یاسر نے بائولنگ کی ،ایسے تو وہ جیتا ہوا ٹیسٹ بھی ہار جائیں گے،ٹیل اینڈرز کے خلاف بھی ان کے پاس کوئی ورائٹی،سوئنگ یا اسپن نہیں تھی،نتیجہ میں حریف بیٹسمینوں نے آخری وقت کا مشکل سیشن گزار لیا.34 رنزکی سبقت لے لی اور 2وکٹیں بچالیں.کل تک 2 پر2 آئوٹ کرنے والے عباس نے کہا تھا کہ وکٹ بڑی مشکل ہے،ہم 150پر آئوٹ کرلیں گے،فہیم نے کہا تھا کہ اسکور بنانا نہایت مشکل ہے،اس پر 217 بھی بڑا اسکور ہے،یہ حماقتیں اور خوشیاں رفوچکر ہوگئی ہیں اور اب اس میچ کے دوسرے روز بننے والی درگت کے بعد شاہین شاہ آفریدی کچھ یوں کہتے ہیں ،
شاہین آفریدی کا سافٹ ویئر تبدیل
ہمیں آخری سیشن میں بہتر باؤلنگ کرنی چا ہئےتھی ،ٹیسٹ کرکٹ سیشنز کا کھیل ہوتا ہے، آخری سیشن میں بھی ویسٹ انڈیز 50 سے زائد رنز کے خسارے میں تھی .وکٹیں گرانے کے باوجود ہم زیادہ دیر دباؤ برقرار نہیں رکھ سکے .کوشش ہوگی کہ کل پہلے آدھے گھنٹے میں ویسٹ انڈیز کو آؤٹ کرلیں .ہمیں ویسٹ انڈیز کو پچاس سے کم کی لیڈ میں آؤٹ کرنا ہوگا .چوتھی اننگز میں بھی کم بیک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ویسٹ انڈیز کو جلد آؤٹ کرلیا تو ہمارے بیٹسمین اچھا اسکور بناسکتے ہیں.گویا وہ اب مان رہے ہیں کہ یہ ہونا چاہئے تھا اور وہ نہیں ہونا چاہئے تھا،اب دعوے ختم ہیں،اب کوشش کا لفظ ہے اور اندازا کریں کہ وہ ٹیل اینڈرز کو وقت دے رہے ہیں.یہ ہے پاکستانی ٹیم کا دون میں ملا جلا رنگ.
اگلی متوقع بے وقوفیاں
اب ویسٹ انڈیز سے تیسرے روز کی کیا حماقت ہوسکتی ہے،یہ کہ وہ لیڈ کے نشے میں آئیں اور جلد آئوٹ ہوں،چلیں ایسا بھی ہوسکتا ہے لیکن پھر وہ بائولنگ پر آئیں اور پاکستان کو چانسز دے کر کچھ اسکور بنوالیں اور پھر یہی نہیں بلکہ اچھا کرتے ہوئے 200 سے بھی کم ہدف سیٹ کروالیں.چوتھی اننگ میں پاکستانی فیلڈرز کی حماقتوں اور ان کے یٹسمینوں کےپزل ہونے کامنظر دیکھنے کو مل سکتا ہے.
لارڈز ٹیسٹ ففٹی ففٹی
ادھر لارڈز ٹیسٹ کے دوسرے روز کے کھیل پر پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ میچ ففٹی ففٹی ہوگیا ہے،انگلینڈٍ کے لئے ابھی بھی تھوڑا مشکل ہے لیکن اگر جوئے روٹ سنچری کرگئے تو پھر بھارت کو دوسری اننگ میں محنت کرنی پڑے گی،میرا خیال تھا کہ وہ دوسرے روز 500سےساڑھے 500 اسکور کر لیتے لیکن وہ جلد آئوٹ ہوگئے.
انضمام الحق کا موقف
بھارت نے انگلینڈ کے خلاف بڑے اسکور کا موقع گنوادیا لیکن اس کا کریڈٹ انگلینڈ کو جاتا ہے،جمی اینڈرسن کو سارا وزن جاتا ہے کہ انہوں نے اس عمر میں بھی کلاس دکھائی ہے لیکن بھارت کے حوالہ سے یہ کہوں گا کہ اس کا سارا بوجھ گزشتہ ایک سال سے نئے پلیئرز نےاٹھایا ہے،اب بھی جہاں ناکام ہوتے ہیں تو بھارت کے 3 پلیئرز پجارا 20 ماہ میں کوئی اسکور نہیں کرسکے،رہانے ایک سال سے 20 کی اوسط سے کھیل رہے ہیں.ویرات کوہلی بھی ایک سال یا اس سے بھی زائد وقت سے سنچری نہیں کرسکے تو اس کے باوجود بھارت جیتتا آیا ہے تو اس کی وجہ نئے پلیئرزکی کارکردگی ہے.یہی وجہ ہے کہ بائولنگ اور بیٹنگ میں نئے لڑکے آگے آرہے ہیں.
انگلینڈ کی آخری امید
انگلینڈ کی آخری امید جوئے روٹ ہیں،انہوں نے انگلینڈ کو پہلے ٹیسٹ میں بھی بچالیا تھا،ابھی وہ وکٹ پر موجود ہیں ،اس لئے انکی واپسی ہوسکتی ہے.بھارت کے ہاتھوں میں اب بھی میچ ہے لیکن اگر وہ پہلی اننگ میں زیادہ اسکور کرجاتے تو بہت آسان ہوتا لیکن اب بھی انگلینڈ کے لئے چوتھی اننگ میں اسکور کرنا مشکل ہوگا.لارڈز کے میدان میں اسے اگر 300 کا ہدف مل گیا تو بات مشکل ہوجائے گی.
رمیز راجہ کی پسند آج کچھ اور
ایک اور سابق کپتان رمیز راجہ کہتے ہیں کہ انگلینڈ کے پاس جوئے روٹ موجود ہیں اور اگر انہوں نے اپنا روٹ نہ چھوڑا تو پھر بھارت کے لئے مشکلات ہونگی کیونکہ وہ اپنی فارم میں ہیں ،بھارت کی پہلی اننگ کے حوالہ سے جمی اینڈرسن کی تعریف نہ کرنا غلط ہوگا،نہایت ہی سلجھے ہوئے بائولرہیں،باکمال ہیں،وکٹ لے کر بھی باوقار انداز میں جشن مناتے ہیں،بیٹسمینوں کو غلط اشارے نہیں کرتے،اس لئے نئے لوگوں کو ان سے سیکھنے کی بڑی ضرورت ہے.
یہ بھی دیکھیں
یوم آزادی پھیکا، پاکستان پہلی اننگ ہار گیا،ویسٹ انڈین برتری لے گئے

Leave A Reply

Your email address will not be published.