پاکستانی کھلاڑی کورونا وائرس کہاں سےنیوزی لینڈ لائے،کیوی ڈائریکٹرصحت نے بتادیا

عمران عثمانی

ایک ایسے وقت میں کہ جب قومی کھلاڑی نیوزی لینڈ میں 14 روزہ قرنطینہ،5کووڈ ٹیسٹ دے کر اب آزاد ہوچکے ہیں تو ایسے میں نیوزی لینڈکی ڈائریکٹرصحت نے واضح الفاظ میں بتادیا ہے کہ مثبت آنے والے کووڈ ٹیسٹ کیوں آئے،آدھے درجن سے زائد کھلاڑی کورونا کاوائرس کہاں سے لئے ان کے ملک میں داخل ہوئے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی ڈائریکٹر صحت عامہ ڈاکٹر کیرولین میک ای لین نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ آنے والے پاکستانی کھلاڑی اپنے ملک پاکستان سے وائرس لائے تھےا ور یاپھر دوران سفر انہیں یہ مرض لاحق ہوا ہے۔
پاکستانی اسکواڈ نے 14روزہ قرنطینہ والا شہر چھوڑدیا،کھلاڑی کھل اٹھے
میکلے نے اس بات کو تسلیم کیا کہ نیوزی لینڈ کا سفر کرتے ہوئےکھلاڑیوں کو وائرس لگا ہو کیونکہ اسکواڈ نے پرواز سے قبل پاکستان میں تمام ضروریات کو پورا کرلیا تھا۔ انہوں نے کہا یہ بھی ممکن ہےکہ یہ بیماری پاکستان میں تازہ تازہ لگی ہو کیونکہ اس بیماری کے پیدا ہونے اور موثر ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے جو کووڈ ٹیسٹ کے وقت ظاہر نہیں ہوتا۔ روانگی سے پہلے کی جانچ پڑتال سے ان افراد کی شناخت کرنے میں مدد ملتی ہے جن کو انفیکشن ہے لیکن اس سے ان لوگوں کا پتہ نہیں چل پاتاجنہیںتازہ تازہ وائرس ہوا ہو۔
پاکستانی اسکواڈ کوپی سی آر ٹیسٹ لینے کی ضرورت تھی۔اسکواڈ لاہور سے دبئی کے راستے نیوزی لینڈ روانہ ہوا جہاں انہوں نے اپنے طیارے بدلے۔ طیارہ ایندھن کے لئے کوالالمپور رکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں