پاکستان،ویسٹ انڈیز کا دوسرا ٹیسٹ آج سے،دو نئی باتیں پہلی بار

0 34

تجزیہ: عمران عثمانی
کیا یہ ممکن ہے کہ رواں صدی میں ویسٹ انڈیز 21 برس بعد پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیت جائے؟اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جی ممکن ہے.کرکٹ کے اصل فارمیٹ ٹیسٹ سیریز میں ویسٹ انڈیز آخری بار 2000میں جیتا تھا،جب اس نے ہوم گرائونڈ میں 3میچزکی سیریز 0-1 سے جیتی تھی.اس کے بعد کیا ہوا؟کیا سیریز کم ہوگئیں؟یا پاکستان ہی جیتا؟ڈرا سیریز کھیلی گئیں؟2000کے بعد سے 2017 تک 6 سیریز ہوئیں.ویسٹ انڈیز میں 2 سیریز 2005 اور 2011 میں ہوئیں.دونوں ڈرا رہیں.ادھر پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں 3 سیریز کھیلی گئیں.3پاکستان جیتا اورویسٹ انڈیز ناکام رہا تو سوال ہوگا کہ 2017 میں اپنے ملک تک میں ہارنے،2000سے اپنے ملک سمیت کہیں بھی پاکستان کے سامنے ناکام رہنے والی ٹیم اب کیسے جیت سکے گی؟

دفاعی حکمت عملی،شکست کا خوف

پاکستان کرکٹ پر اس وقت دفاعی سوچ کا غلبہ ہے.جیسا کہ دیکھا گیا،اظہر علی سمیت اوپنرز 20کے سٹرائیک ریٹ سے کھیل رہے ہیں.ایسا لگتا ہے کہ جیسے سب اپنی ذات میں گم ہیں.12 اگست 2021 سے جمیکا میں کھیلا گیا آخری ٹیسٹ اس کی تازہ مثال ہے.آخر ایسا کیا ہے کہ کچھ نہیں بدل رہا.گزشتہ اگست میں ٹیم انگلینڈ میں تھی،وہاں سے اب تک جتنی بھی سیریز ہوئیں.پاکستان دفاعی طور پر کھیلا،ہارا یا بری طرح پٹا.اس میں تبدیلی کیسے ممکن ہوگی.
تب ہوگی کہ جب ٹیم میں بہترین سلیکشن ہو.وکٹ کو دیکھا جائے،ٹیم اس کے مطابق سلیکٹ ہو.اسٹارازم سےنکلا جائے.تعلقات نبھانے کا فن دفن کیا جائے.پھر ہی جیت ممکن ہوگی.20اوورز بیٹنگ کرکے سیٹ ہوچکے،اس کے بعد تھک ٹھک کاکیا جواز ہوتا.چونکہ یہ بیماری موجود ہے.اسٹارازم کو پوجنا ہے،اس لئے پاکستان اب بھارت نہیں بن سکتا،جس نے 2 سیشن سے کم وقت میں لارڈز ٹیسٹ جیت لیا.اٹیک بھی تھا،اسپیڈ بھی تھی،جوش بھی تھا،صلاحیت بھی تھی.ورائٹی بھی تھی،پیس بھی تھی،سلو ڈلیوریز بھی تھیں اور یارکرزو بائونسرز بھی.
پاکستان کے پاس کیا تھا،فہیم اشرف؟
فہیم اشرف کیا ہیں،مانا کہ دونوں اننگز میں اچھی بیٹنگ کی لیکن بائولنگ میں ان کا کیا کردار ہے،سب سے پہلے تو یہ دیکھ لیں کہ وہ بیٹسمین ہیں یا بائولر،پھر بیٹسمین آل رائونڈر ہیں یا بائولرآل رائونڈر.ان کی اسپیڈ سامنے ہے،بائولنگ کی ورائٹی کسی سے چھپی نہیں.اسی طرح محمد عباس ہیں،جن سے بال نہیں پہنچتی.وہ میڈٍیم پیسر ہیں،شروع کے 10اوورز کے،کیونکہ بال نئی ہوتی ہے،اس کے بعد ان کی حالت بچوں کی سی ہوتی ہے کہ جن سے بال دوسرے اینڈتک جاتے جاتے زمین کو چوم رہی ہوتی ہے.یہ پاکستان کے 2 پیسرز ہیں،ان کے ساتھ ہم نے پہلا ٹیسٹ کھیلا،ان کی معاونت کے لئے مین بائولرز شاہین شاہ آفریدی تھے،اچھے بائولر ہں،ایک وقت تک کے لئے.وہ میچ ونر نہیں ہیں،وہ ٹیسٹ جتوا سکتے نہیں ہیں.پہلے ٹیسٹ سمیت ماضی کے تمام میچز گواہ ہیں.پھر حسن علی ہیں،یہ کیا ہیں؟آل رائونڈر ہیں تو کس بات کےِ؟اب تک کیا کیا ہے؟پاکستانی بائولنگ اٹیک کا یہ حاصل حصول ہے.ذرا سوچیں کہ وسیم اکرم،وقار یونس،عاقب جاوید،شعیب اختر،محمد آصف،محمد عامر سمیت کئی نام سامنے آئیں گے،تاریخ کو سوچتے ہوئے حال پر نگاہ ڈالیں اور سر پیٹیں کہ بائولزر کی پہچان رکھنے والے ملک کی طویل عرصہ سے کیا پلاننگ ہے اور اس کا صف اول کا دستہ کیا ہے،فاسٹ بائولرز کا نہیں بلکہ میڈیم پیسرز کا اور وہ بھی گھسا،پٹا.یہ ایک سچ ہے،اس سے انکار ممکن نہیں کیونکہ عباس کے 2 سالہ ریکارڈز اٹھالیں،ناکامیاں ہی ناکامیاں ہیں.
عباس سمیت سب کی 2 سالہ تفصیلی کارکردگی
یکم جنوری 2020سے اب تک محمدعباس کو دیکھا جائے تو انہوں نے7 ٹیسٹ کی 11 اننگز میں 222 اوورز کئے اور صرف 15 وکٹیں لیں،3 وکٹ سے زیادہ اننگ میں آئوٹ نہیں کرسکے.اس کے باوجود کھلائے جارہے ہیں.فہیم اشرف نے 6 ٹیسٹ میچز کھیلے اور صرف 8 آئوٹ کئے،ملاحظہ فرمائیں کہ ان 2 نے کیا تیر مارے ہیں اور کس بنیاد پر سلیکٹ ہیں.ایک اور دریافت تھی نسیم شاہ کی،6 میچزمیں 12 وکٹ کے ساتھ اب ان دنوں کیمپ میں سوتے ہوتے ہیں.شاہین شاہ آفریدی نے 11 ٹیسٹ کی 19 اننگز میں بائولنگ کی،19 اننگز کے بعد وہ 41 شکار کرسکے،یہ بہترین نہیں بس اوسط درجہ کی کارکردگی ہے.اسی طرح حسن علی کے 5 میچزمیں 30 شکار ہیں،یہ شاندار کارکردگی ہے لیکن اس میں بڑا حصہ جنوبی افریقا کے خلاف ہوم سیریز کا تھا،اس لئے اسے 100 فیصد اچھا نہیں کہا جاسکتا.یاسر شاہ کی 8 میچزمیں 26 وکٹیں،ابتدائی عرصہ کی بات ہے،مطلب گزشتہ 12 ماہ سے وہ آف ہیں.
شاہ نواز دھانی کیوں نہیں
کرک سین نے پہلے ٹیسٹ سے قبل بھی لکھا تھا کہ ٹیم میں شاہ نواز دھانی ہونے چاہیئں،اپنی اسٹوری میں لکھا تھا کہ سبائنا پارک کنگسٹن جمیکا کی پچ تیزہوتی ہے،انگلینڈ اور ویسٹ انڈیزکے 1998 ٹیسٹ کا حوالہ بھی دیا تھا کہ خراب اور تیز پچ کے باعث ٹیسٹ میچ چند اوورز بعد منسوخ کردیاگیا تھا،اگر یہ پچ اب کی بار اچھی پڑھی گئی ہوتی اور شاہ نواز دھانی کو پہلے ٹیسٹ میں ڈالا ہوتا تو ذرا سوچیں کیا نتیجہ نکلتا لیکن یہاں گھسے پٹے فارمولے چلتے ہیں،جیسا کہ اب ایک اور آرہا ہے ،چونکہ پہلے ٹیسٹ میں یاسر شاہ ناکام ہوگئے ہیں تو اب ان کی جگہ دوسرے اسپنر نعمان علی کو لایاجائے گا،کیا سلیکشن کا یہ پیمانہ ہوتا ہے،پچ نہیں دیکھی جائے گی،یہ نہیں سوچا جائے گا کہ اگر تیز ترین پچ ہوئی تو ایک پیسر اچھا ڈال دیا جائے،ایسا کیوں نہیں ہوسکتا.کیا یہ آزمودہ پیسرز جتوادیں گے.

دوسرے ٹیسٹ کا موسم،پہلے دن کی اچھی نیوز

محکمہ موسمیات کے مطابق کنگسٹن جمیکا میں یہ ٹیسٹ بھی بارش سے متاثر ہوگا لیکن پہلے دن جمعہ کے حوالہ سے اچھی خبر یہ ہے کہ موسم صاف رہے گا اور سارادن کھیل ممکن ہے،باقی دنوں میں کبھی کبھی بارش ہوگی لیکن دونوں ٹیموں کی ظاہری حالت دیکھ کر یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے باوجود میچ فیصلہ کن ہوگا.وکٹ پہلے ٹیسٹ میچ کی طرح فاسٹ ہوگی،پہلے روز بیٹنگ مشکل ہوگی،پہلا سیشن نہایت ہی اہم ہوگا.ٹاس جیتنے والی ٹیم فیلڈنگ کی جانب جاسکتی ہے.پاکستانی ٹیم میں اور کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے،اس لئے بیٹنگ لائن وہی ہوگی جس کوپہلے ٹیسٹ میں دیکھا گیا اور پیسرز بھی قریب وہی ہونگے،البتہ ایک اسپنرسے دوسرے اسپنر کی طرف جایا جائے گا،چاہے وکٹ کیسی بھی ہو.ویسٹ انڈیز ٹیم میں ایک تبدیلی متوقع ہے.کیرون پاول کی ناکامی کے بعد شائی ہوپ کی ٹیم میں انٹری ہوسکتی ہے،الزاری جوزف اور کمار ہولڈر میں سے ایک کھیلیں گے.
جمعہ کی رات 8 بجے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا دوسرا ٹیسٹ شروع ہوگا،ساڑھے 7 بجے ٹاس ہوگا.اس موقع پر حتمی الیونز سامنے آئیں گی.پاکستانی ٹیم کے لئے یہ شرمناک ہوگا کہ وہ ویسٹ انڈیز کی موجودہ ٹیم سے ٹیسٹ سیریز ہارجائے،جہاں چند ہفتے قبل جنوبی افریقا کی ٹیم جیت کر آئی تھی،چنانچہ سیریزکی شکست سے بچنے کے لئے اس دوسرے ٹیسٹ کا جیتنا ضروری ہے،ڈرا میچ بھی سیریز سے محروم کردے گا اور بابر اعظم الیون کے لئے کلنک کے اس ٹیکے سے اپنے آپ کو بچانا نہایت ضروری ہوگا.
یہ پڑھنا بھی مت بھولیں
پاکستانی ٹیم میں ایک تبدیلی مگر غلط،ایک اور ٹیم کی بھی رونمائی

Leave A Reply

Your email address will not be published.