ٹی 20ورلڈ کپ سلیکشن،کپتان مستعفی،بابر اعظم کے لئے نہایت اہم سبق،کیا محسوس ہوا

0 38

کرک سین رپورٹ

پاکستان میں کمپرومائز کیا جاتا ہے۔لیپا پوتی کی جاتی ہے۔جھوٹ بولا جاتاہے۔جھوٹ بلوایا جاتا ہے۔یہ پاکستان ہے ۔یہاں ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ایسا ہی چلے گا۔دوسرے ممالک،حتیٰ کہ ہمسایہ ممالک میں ایسا نہیں ہوتا۔افغانستان کاکرکٹ میں کوئی مقام ہی نہیں ہے۔اس کے باوجود اس کے کپتان راشد خان نے مثال قائم کردی۔پاکستانیوں کو درس دے دیا۔ایک سچ بولا۔کپتانی سے استعفیٰ دیا۔یہ جا،وہ جا۔

بابر اعظم مذاق،پی سی بی تماشا گاہ

سچ کہوں تو بابر اعظم کہنے کو کپتان ہیں۔حقیقت میں ایک مذاق بلکہ ایک مزاحیہ کریکٹر سے کچھ بڑے نہیں ۔اب تو ایک ایسے کریکٹر ہیں جن پر ہنسا جائے۔نہ کہ جو لوگوں کو ہنسائے۔لوگوں کو ہنسانے والا پھر بھی اداکار ہوتا ہے۔آرٹسٹ ہوتا ہے۔اس کی عزت ہوتی ہے۔یہاں الٹی مثال ہے۔گنگا الٹی بہتی ہے۔ٹیم کا اعلان ہوا۔ورلڈ ٹی 20 جیسا ایونٹ ہے۔بڑا کپ ہے۔بابر اعظم سے نیوزی لینڈ سیریز تک کی مشاورت نہیں کی گئی۔ورلڈ ٹی 20 کے لئے مشاورت ضرور ہوئی۔تبدیلیوں اور مسترد کئے گئے پلیئرز پر اعتماد میں نہیں لیاگیا۔پوری دنیا میں خبریں چل گئیں۔اس کے بعد کیا ہوا۔ایک فارمیٹ سے کپتانی لینی کی خبریں چلیں۔چلتی گئیں۔پی سی بی کو پھر ہوش آیا۔24سے 48 گھنٹوں بعد سنگینی محسوس کرکے لیپا پوتی کی گئی۔کہا گیا کہ بابر سے مشاورت ہوئی ہے۔بابر خود خاموش تھے۔

خبریں جھوٹی تھیں تو کپتان کو کیوں چپ لگی رہی

سوال ہوگا کہ بابر اعظم کے حوالہ سے ٹیم سلیکشن کی چلتی خبریں اگر جھوٹی تھیں تو وہ چپ کیوں رہے۔2 گھنٹے کے اندر میڈیا پر آجاتے۔ایک منٹ میں ایک ٹویٹ کردیتے۔نتیجہ میں وہ چپ رہے۔اس لئے کہ یہ خبر بھی انہوں نے کود ہی لیک کروائی ہوگی۔جوبھی تھا ۔وہ خاموشی سنگین جرم تھا یا کھلا اعتراف کہ مجھ سے اس کی مشاورت نہیں کی گئی۔پھر جب لیپا پوتی ہوئی تو بابر اعظم ایک بار پھر وہی بنے جو کبھی مصباح یا وقار ہوا کرتے تھے۔پہلے ذکر کیا نا کہ یہ پاکستان ہے۔اب دھماکے دار خبر پڑھیں،سر دھنیں۔آخر میں بابر اعظم سے پوچھوں گا کہ چہرے پر کوئی حدت محسوس ہوئی۔کوئی آواز سنی۔کوئی درد محسوس ہوا۔

افغان کپتان عدم مشاورت پر مستعفی

افغانستان کرکٹ ٹیم کے کپتان راشد خان ہیں۔بڑا نام ہے۔بڑے اسپنر ہیں۔دنیا بھر میں بڑی مانگ ہےاب کمال دیکھیں۔جمعرات کو افغانستان کرکٹ بورڈ نے جمعرات کو ورلڈ ٹی 20 کے لئے اسکواڈ کا اعلان کیا۔اعلان ہونے کے چند منٹ کے اندر راشد خان نے کپتانی سے استعفیٰ دے دیا۔ساتھ ہی کہا کہ بورڈ اور سلیکٹرز نے میگا ایونٹ اسکواڈ کے اعلان سے قبل مجھ سے مشاوت نہیں کی۔کپتان کے طور پر میں نتائج کا ذمہ دار ہوں۔اس لئے چونکہ میری مشاورت لی ہی نہیں گئی۔اس لئے کپتانی سےا ستعفیٰ دیتا ہوں۔اس کا اطلاق اعلان کے ساتھ ہی ہوگا۔اب آپ دیکھ لیں کہ دنیائے کرکٹ کے ٹاپ اسپنر نے یہ بھی کہا ہےکہ افغانستان کے لئے کھیلنا اعزاز ہے۔کھیلتا رہوں گا۔

راشد خان نے بابر اعظم جیسے کریکٹرز کو کیا سکھایا

افغان کپتان راشد خان بابر اعظم جیسے کریکٹرز کو سکھاگئے ہیں کہ سچ بولو۔سامنے آکر بولو۔پردے کے پیچھے سے اپنی شکایات نہ بیان کرو،جب وہ شکایات ایک آواز بننے لگیں تو اداروں یا شخصیات کے سامنے سرنڈر مت کرو،اس ورلڈ کپ میں بابر نے یہ کرلیا۔ہاریں یا جیتیں۔الگ بحث ہے۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان کے ناکام کپتان بننے کی بنیاد رکھ گئے ہیں اور کرک سین اپنی خبر پر قائم ہے کہ ایک فارمیٹ سے کپتانی چھینی جائے گی۔بس چند ہفتے،گنتی کے چند ماہ صبر کرلیں۔افغان کپتان کےا علان کو ذرا سنیں۔دیکھیں اور چہرے پر ہاتھ ملتے ہوئے اپنے آپ سے پوچھیں کہ کہیں درد محسوس ہوا۔کہیں آواز سنی،کہیں نشان پڑا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.