وقار یونس کے تابڑ توڑ بائونسرز،محمد عامر کو جواب دے دیا،کئی باتیں کھل کربتادیں

عمران عثمانی
Image By deccanherald
پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی خراب ہی رہی،کوئی جواز دینے نہیں آیا کہ ایسا کیوں ہوگیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ بہت سی باتیں اور واقعات ایسے ہوئے ہیں جس سے ٹیم کی کارکردگی پر اثر پڑا ہے۔محمد عامر نے جو رویہ اختیار کیا،وہ افسوسناک ہے،سلیکشن کے حوالہ سے اختیارات کے محدود ہونے کی باتیں اخباری ہیں،کوچز بھی پرفارمنس بنیاد پر چل سکتے ہیں،مجھ سے بہتر اٹیکنگ کرکٹ کا کسے علم ہوگا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے بائولنگ کوچ وقار یونس بدھ کی صبح لاہور میں ہونے والی پریس کانفرنس میں کھل کر گرگے اور برسے ہیں،انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے لئے 100 ٹیسٹ کھیل کر بھی اگر مجھے یہ نہیں علم کہ اٹیکنگ کرکٹ کیسی ہوتی ہے تو بڑی عجب بات ہوگی ،مجھے نہیں علم ہوگا تو کسے علم ہوگا،میں نے ساری زندگی اٹیکنگ کرکٹ ہی کھیلی ہے،چنانچہ یہ الزام درست نہیں ہے۔
دورہ نیوزی لینڈ میں ٹیم کی کارکردگی خراب رہی ہے،اس کا مجھے بھی افسوس ہے لیکن 14 روزہ قید وانجریز مسائل بھی ایک حقیقت ہیں،میں یہ بات جواز کے طور پر پیش کرنے نہیں آیا ہوں لیکن جو سچ ہے وہ بھی سامنے رکھنا چاہئے۔ٹیم میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں،انہوں نے بڑھ کر پرفارم کیا ہے،نسیم شاہ باصلاحیت بائولر ہیں،جنوبی افریقا کے خلاف سیریز اگر ہمارے لئے آخری موقع ہے تو کوئی بات نہیں جیسے کرکٹرز کے لئے پرفارمنس اہم ہوتی ہے،اگر ناکام جارہے ہوں تو ٹیم سے نکل کر ڈومیسٹک کرکٹ میں جاتے ہیں تو کوچز کے لئے بھی یہ پیمانہ ہونا چاہئے۔
وقار یونس کہتے ہیں کہ ٹیم سلیکشن کے حوالہ سے مصباح یا کسی دیگر کوچ کی رائے حتمی نہیں رہی،یا سلیکشن میں محدود رائے ہوگئی ہے یا سرے سے رائے کی اہمیت ہی نہیں رہی ہے۔یہ تمام خبریں اخباری ہیں،اس لئے ان کا میں کوئی جواب نہیں دوں گا۔محمد عامر کے حوالہ سے وقار یونس کہتے ہیں کہ مجھے ان کی ریٹائرمنٹ کی خبر سن کر دکھ ہوا اور انہوں نے ہمارے بارے میں جو باتیں کیں ،وہ ششدر کردینے والی تھیں،آج میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ سزا کے بعد عامر کو واپس لانے والوں میں میں بھی شامل تھا اور اس وقت کے چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی سے آگے بڑھ کرلڑا،انہیں واپس لانے کے لئے کھل کر لڑائی کی تو محمد عامر کو دوسرا موقع دینے والوں میں پیش پیش تھا۔ٹیم سے ڈراپ ہونے کی وجہ ان کی فارم و فٹنس تھی،مصباح الحق اس کی وضاحت دے چکے ہیں،اس لئے زیادہ نہیں بولوں گا،اتناکہوں گا کہ عامر نے اچھا نہیں کیا۔میں اب بھی کہتا ہوں کہ وہ باصلاحیت بائولر ہیں اور پاکستان کی نمائندگی ضرور کریں۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستانی ٹیم کی یہ غیر ملک میں مسلسل تیسری ناکامی ہے آسٹریلیا،انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی شکست کے بعد بائولنگ کوچ وقار یونس خود کہتے ہیں کہ وہ جواز نہیں دے رہے ہیں لیکن ٹیم کی پرفارمنس نہایت ہی خراب ہے،چنانچہ وہ دیکھ چکے ہیں کہ اگر جنوبی افریقا سے ہوم سیریز میں شکست ہوگئی تو ان سمیت تمام کوچز گھر ہونگے.پی سی بی نے قیب یہ شرط لگادی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں