نیوزی لینڈ کا فیصلہ کچھ لوگوں کا پلان،آئی سی سی فوری ایکشن لے،انضمام الحق کا رد عمل آگیا

0 94

رپورٹ : عمران عثمانی

نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان کا ختم کرنا زیادتی کی بات ہے۔ایسا کوئی بھی ملک کسی ملک کے ساتھ نہیں کرسکتا۔ایسی کوئی دھمکی تھی تو ہم سے بات کرتے۔دکھاتے تو سہی۔یہ کیا بات ہوئی کہ اچانک اٹھے اور چل دیئے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے حق ادا کردیا۔کیوی ٹیم،بورڈ اور اس کے فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل سے از خود نوٹس لینے اور کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔جمعہ کو کیوی ٹیم نے عین میچ کے وقت سکیورٹی الرٹ کے نام نہاد بہانے کے ساتھ پاکستان میں کھیلنے سے انکار کیا اور وزیر اعظم پاکستان کی درخواست تک مسترد کردی گئی۔

باب وولمر مرگئے،،ورلڈ کپ مکمل ہوا

سابق چیف سلیکٹر انضمام الحق نے اپنے یو ٹیوب چینل پر تازہ ترین تبصرے میں کہا ہے کہ یہ انتہائی زیادتی کی گئی ہے کہ ملک کے منتخب وزیر اعظم کی بات تک نہیں سنی گئی۔ان ٹیموں کو ایسی سکیورٹی دی جاتی ہے جیسے کسی ملک کے سربراہ کو ملتی ہے۔اس کے بعد کیا جواز بنتا ہے۔میں اس پر مطمئن نہیں ہوں۔اگر ایسی کوئی چیز ہوتی تو وہ ضرور دکھاتے۔7 دن سے ہر روز پریکٹس پر جارہے تھے تو اچانک کیا ہوگیا۔ایسا کسی بھی ملک کے ساتھ آپ کر ہی نہیں سکتے۔ورلڈ کپ کے دوران باب وولمر مر گئے تھے۔وہ کسی ملک کا بھی تھا۔سب انکوائری مکمل ہوئی۔ایونٹ مکمل ہوگیا۔

ہماری قربانی دیکھیں،اپناعمل ملاحظہ کریں

انضمام الحق نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ مجھے صاف لگتا ہے کہ جیسے کچھ لوگوں نے پلان کر رکھا تھا کہ عین وقت پر دورہ ختم کردو۔کوئی رولز ہوتے ہیں۔کوئی اخلاقیات ہوتی ہیں۔آپ نے سب کچھ کراس کردیا۔پرائم منسٹر ایک بات کر رہا ہے،اس کا اثر کیوں نہیں ہورہا۔کوئی شکایت ہوتی تو بتاتے نا۔ہمیں زیادہ فکر ہوتی،ہماری محنت اور قربانی تو دیکھیں۔آپ ایسے نہیں کرسکتے۔آئی سی سی کو ابھی ایکشن لے۔ابھی ٹیم پاکستان میں ہے،ایسی کیا چیز ہے۔کون سی دھمکی ملی ہے ۔میں کیویز جیسے ملک سے ایسی توقع نہیں کرسکتا تھا۔

نیوزی لینڈ فیصلے پر نظر ثانی کرے

پاکستان جیسے ملک نے ہر ایک سے زیادہ قربانی دی۔1996 ورلڈ کپ میں ہم سری لنکا میں کھیلے۔کوئی نہیں گیا تھا۔سری لنکا میں ہم کئی بار کوچ میں نہیں گئے۔بسوں میں سفر کیا۔سکیورٹی ساتھ تھی۔ایسا کہیں نہیں ہوا کرتا۔کوئی ملک آکر بغیر کسی وجہ کے ایک دم ایسا کہنا غلط ہے۔میں ابھی بھی کیوی ٹیم سے مطالبہ کروں گا کہ وہ فیصلے پر نظر ثانی کرے۔جو بھی نیوزی لینڈ کے ساتھ یہ سب کروارہا ہے اور وہ ہے۔ایسا نہیں ہے کہ نیوزی لینڈ نے اپنی جانب سے ایسا فیصلہ کیا۔ابھی بھی میں یہی کہوں گا کہ سیریز مکمل کرو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.