نیوزی لینڈ بدری کا خطرہ، پی سی بی چیف کا کرکٹرزکو سخت وٹس ایپ وائس میسج

عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے تصدیق کی ہے کہ نیوزی لینڈ حکومت نےپاکستانی ٹیم کی ملک بدری کی بات کردی ہے۔
کرک سین نے چند گھنٹے قبل انضمام الحق کے تجزیہ میں واضح لکھا تھا پاکستان کو ملک بدری کی باقاعدہ دھمکی دی جاچکی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کےچیف وسیم خان کو نیوزی لینڈ کی حکومت نےبتادیا ہے کہ پاکستانی اسکواڈ نیوزی لینڈ کے کوویڈ 19 پروٹوکول کی ایک اور خلاف ورزی کے نتیجے میں ملک بدر کردیا جائے گا۔
پاکستانی اسکواڈ نیوزی لینڈ میں تین ٹی20اور دو ٹیسٹ کھیلنے کے لئے آکلینڈ میں اترا اور کرائسٹ چرچ چلا گیا ، جہاں انہیں 14 دن کی سخت تنہائی سے گزرنا پڑےگا۔دورے کا آغاز تباہ کن ہوا ہے۔
نیوزی لینڈ کی پاکستانی ٹیم کو وطن واپس بھیجنے کی دھمکی،انضمام نے اور بھی راز بتادیئے
جمعرات کی صبح کرکٹرز کے کووڈ ٹیسٹ رپورٹ کے بعد 6کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت رپورٹ ہوئے جبکہ کچھ پلیئرز کی جانب سےکورونا رولزکی خلاف ورزی کی شکایات اور وارننگ کی خبریں سامنے آئی تھیں۔بعد میں پی سی بی سی ای او نے کیوی حکومت وبورڈ حکام سے رابطہ کرکے صورتحال سنبھالی ہے۔وسیم خان نے پھر کھلاڑیوں سے بھی رابطہ کیاہے۔ایسے ہی کھلاڑیوں کے وٹس ایپ گروپ میں انہوں نے ایک وائس پیغام دیا ہے جس میں صاف سناجاسکتا ہے کہ وسیم خان نے اپنے کھلاڑیوں کو صاف طور پرکہا ہےکہ انہیںپاکستان واپس بھیجنا انتہائی شرمناک ہوگا۔
نیوزی لینڈ میں پاکستان کے 6کرکٹرزکو کورنا،رولز توڑنے پر وزارت صحت کی آخری وارننگ
وسیم خان نے صاف آواز میں کہا کہ
لڑکو!!!!میں نے نیوزی لینڈ حکومت سے بات کرلی ہےاور انہوں نے ہمیں بتایا ہےکہ پروٹوکول کی تین یا چار خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔زیرو ٹالیرنس پالیسی کی وجہ سے وہاںسختی ہے اور انہوں نے ہمیں
آخری وارننگ دے دی ہے۔
وسیم خان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آپ کے لئے مشکل وقت ہے ، اور آپ انگلینڈ میں بھی ایسے ہی حالات سے گزرے ہیں۔ یہ واقعی آسان نہیں ہے لیکن یہ قوم کے احترام اور ساکھ کا سوال ہے۔
14 دن کا قرنطینہ برداشت کریں اور پھر آپ ریستوران جائیں اور آزادانہ طور پر گھومیں،پھریں،مکمل آزادی ہوگی۔وسیم نے کھلاڑیوں سے کہا ہے کہ نیوزی لینڈنے مجھ سے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر ہمارے کھلاڑیوں نےایک اور خلاف ورزی کی تو وہ آپ کوواپس گھر بھیج دیں گے۔
نیوزی لینڈ میں سخت ترین 14 روزہ قرنطینہ کے بعد گھومنے پھرنے کی مکمل آزادی ہے کیونکہ ملک میں کورونا کے کیسز نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں