مصباح یاریاں،بابر دوستیاں نبھاتا رہا،شعیب اختر بد تمیز،پاکستانی آئوٹ آف کنٹرول،وسیم اکرم کے فائر، بڑا انکشاف بھی ساتھ

0 23

کرک سین رپورٹ

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم آسٹریلیا سے ان لوگوں پر برس پڑے۔تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے کہ ورلڈ ٹی 20 کے لئے درست سلیکشن ہوئی ہے۔ایک پلیئر کی بات پر اتنا نہیں بولنا چاہئے۔ہم کرکٹ سے پیارکرتے ہیں۔جذباتی ہوجاتے ہیں۔سوشل میڈیا پر عجیب و غریب باتیں لکھ دیتے ہیں۔میں نے غیر ملک میں ایسا نہیں دیکھا۔مصباح الحق بطور ہیڈ کوچ یاریاں نبھاتا رہا۔شعیب اختر میں تمیز ہی نہیں،اسے کون سنجیدہ لے گا۔فخرزمان کو ٹیم میں ہونا چاہئے تھا۔وسیم اکرم پاکستانی ٹی وی چینل اے آر وائی کے پروگرام میں بات کر رہے تھے۔

پاکستانی تمام ممالک سے زیادہ بد تمیز

وسیم اکرم کہتے ہیں کہ سری لنکا،بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک ہیں ۔کوئی ایسی بد تمیزی نہیں کرتا۔اگلے 2 سال میں 3 ورلڈ کپ ہیں۔اب ٹیم سلیکٹ ہوگئی ہے۔اسے سپورٹ کریں۔زیادہ تنقید اعظم خان اور آصف علی پر ہے2020سے اب تک زیادہ چھکے محمد حفیظ کے65،اعظم خان کے 60 اور خوشدل شاہ کے 56 ہیں۔پھر بھی ان پر بولا جارہا ہے۔اتنے کم وقت میں ٹیمم منیجمنٹ میں تبدیلیاں نہین ہونی چاہئے تھیں مگر ہوگئی ہیں تو کوئی بات نہیں۔اگر،مگر چلتا ہے۔ہر ایک کو خوش کرنا مشکل ہے،خاص کر پاکستانی۔ہر ایک کی اپنی ٹیم ہے۔ہمارے کسی کو علم ہی نہیں ہوتا کہ کیا ٹیم بنارہے ہیں۔تنقید کی بجائے حل بتائیں۔اعظم خان کے حوالہ سے یہ کہوں گا کہ ابھی ینگ ہے۔پاکستانی بچہ ہے۔اسے معافی دے دو۔پاکستانی بچہ ہے۔ہمسایوں کا نہیں ۔لوگوں یا پریس کے دبائو پر ٹیم سلیکٹ نہیں کرسکتے۔آصف علی کا اسٹرائیک ریٹ پی ایس ایل میں170 تھا۔اس سے پرفارمنس نہیں ہوئی ۔اسے سپورٹ کریں۔

سرفراز اور شعیب کا وقت ختم

وسیم اکرم نے کہا ہے کہ سرفراز احمد کا وب وقت ختم ہوگیا۔ہمیں مڈل آردڑ میں ہٹر درکار ہے۔جگہ خالی ہے۔شعیب ملک کے حوالہ سے چیف سلیکٹر کا دعویٰ درست تھا یا غلط۔وسیم اکرم کہتے ہیں کہ شعیب ملک بڑے کھلاڑی ہیں۔ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے۔شعیب ملک بڑے پلیئر ہیںمگر ان کی جگہ آصف علی آگئے ہیں۔سرفراز اور شعیب ملک کے حوالہ سے لانگ ٹرم پلان کرنا چاہئے۔وسیم اکرم کہتے ہیں کہ تلوار کی دھار ہوتی ہے۔جو لڑکا چلے گا۔وہ رہ جائے گا۔جو نہیں کرے گا ۔وہ باہر ہوجائے گا۔وسیم اکرم نے ایک بار پھر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔معین خان کسی کو کیا کہے گا کہ میرے بیٹے کو رکھ لو۔سی پی ایل میں اس نے ہاف سنچریز بنائی ہیں۔وہ اچھا پلیئر ہے۔وزن زیادہ ہے۔محمد رضوان اچھا پلیئر ہے۔اس ٹیم میں پرابلم یہ ہے کہ 2 ریگولر اوپنرز ہیں۔فخرزمان کا یو اے ای میں اچھا ریکارڈ ہے۔شرجیل کو اپنی فیلڈنگ بہتر کرنی ہوگی۔

پاکستانی ٹیم کا طریقہ کار غلط

اعظم خان کو اپنی فیلڈنگ بہتر کرنی ہوگی۔فخر کو اسکواڈ میں آنا چاہئے۔ٹیم میں 2 لیفٹ آرم اسپنر ہیں۔پاکستانی کرکٹ فین کے طور پر محمد عامر کو کھلانا چاہئے تھا۔پی ایس ایل میں اس نےا چھا کام کیا۔عامر اب دستیاب ہوجائیں تو ان کو کھلانا چاہئے۔اب عامر کے لئے واپسی مشکل ہے۔وقت کم ہے۔ٹیم کا اعلان ہوگیا ہے۔مصباح کے دور میں کسی کو علم نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے۔مصباح اپنے یار دوستوں کو ساتھ لے گیا۔کمزور ممالک سے جیت گیا۔اچھی ٹیموں سے ہار گیا۔ٹیم لیک ہوجاتی ہے۔اعلان نہیں کرتے۔یہ میچ سے ایک گھنٹہ پہلے ٹیم کا بتاتے ہیں۔یہ غلط طریقہ ہے۔

میاں داد اور شعیب اختر کے حوالہ سے انکشافات

سوئنگ کے سلطا ن وسیم اکرم نے کہا ہے کہ ٹیم کی سلیکشن میں ہیڈ کوچ کی حتمی رائے کی اہمیت نہیں ہے۔کوچ کا کام یہ ہے کہ وہ صرف کھلائے۔ڈیماند مت کرے۔بابر اعظم کو یہ سیکھنا پڑے گا کہ دوستیاں اور یاریاں چھوڑے۔اسے دیکھنا چاہئے کہ ٹیم کیسے جیت سکتی ہے۔اپنے لوگوں کے چکروں میں نہ پڑے۔گزشتہ 2 سال سے سینئرز جرنلسٹ سے سن رہا ہوں کہ وسیم اکرم ٹیم سلیکٹ کرتا ہے۔میں کیسے کسی کو کھلائوں گا۔وسیم اکرم نے کہا ہے کہ کراچی میں رہ کر یہ سیکھا ہے کہ اڑتا تیر نہیں پکڑنا چاہیے۔،غریب کی ہائے اور ایڈیٹ کی رائے کبھی نہیں لینا چاہئے۔پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کے لئے وہ ہو جو کرکٹ کے ساتھ 10 سال سے ٹچ ہو۔میں شعیب اختر کے حوالہ سے صرف اتنا کہوں گا کہ لوگ اسے سیریس کیوں لیتے ہیں۔جاوید میاں داد کوچ نہیں بن سکتے۔ڈائریکٹر بنادیں۔پاکستان میں ٹیم کی کوچنگ کے لئے کوئی نہیں ہے۔شعیب اختر کہتے ہیں کہ میں بطور چیئرمین پی سی بی سے کم کی جاب نہیں لوں گا۔صاف کہوں گا کہ جس بندے کو بولنے کی تمیز نہیں ہے۔اسے پھر کچھ پتہ نہیں ہے کہ زندگی میں کیا ہے۔یہ کہہ کر وسیم نے اونچی آواز سے قہقہے بھی لگائے ہیں۔

وسیم اکرم کی گفتگو کا نچوڑ

وسیم اکرم نےایک اعتبار سے چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ جوکہ ابھی بنے نہیں ہیں۔ان کی طرح کام کر رہے ہیں کی خفیہ حمایت کی ہے۔تمام فیصلوں کو سپورٹ کیا ہے۔ساتھ میں انہوں نے یہ بھی بتادیا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ میں انوالو نہیں ہیں۔ایسا لگتا ہےکہ وسیم اکرم مستقبل میں پاکستان کرکٹ سے کسی نہ کسی حوالہ سے جڑیں گے اور کرکٹ کمیٹی سےہٹ کر کسی پوسٹ پر ہونگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.