مصباح سے پہلے مصباح کی تقرری کرنے والوں کی رخصتی ،دیگر اہم انکشافات

عمران عثمانی
Image By Skysports
پاکستان کرکٹ حلقوں میں ہیڈ کوچ مصباح الحق کی چھٹی کی خبریں عام ہیں،نیوزی لینڈ میں قومی ٹیم کی شرمناک شکست کے بعد میڈیا پر تو یہ خبریں عام ہوگئی ہیں کہ ان کی جگہ غیر ملکی کوچ رکھاجارہا ہے اور اس کے لئے چند نام بھی سامنے آئے ہیں ۔زمبابوے کے اینڈی فلاور اور جنوبی افریقا کے گیری کرسٹن وغیر ہ کے نام لئےگئے ہیں۔
مصباح الحق پہلے چیف سلیکٹر بھی تھے،دورہ انگلینڈ سے واپسی کے ساتھ ہی ان سے ایک عہدہ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور پھر انہوں نے ایک روز چیف سلیکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا،نیوزی لینڈ جانے والی ٹیم کا انتخاب بھی مصباح نے کیا تھا،نئی سلیکشن کمیٹی محمد وسم کی زیر نگرانی اپنی پہلی ذمہ داری جنوبی افریقا کے خلاف ہوم سیریز کے لئے ٹیم کے انتخاب کے ساتھ سر انجام دینے والی ہے،چنانچہ چیف سلیکٹر سے ہیڈ کوچ کے عہدے سے فراغت تک کے درمیان ایک ہی سیریز آئی اور وہ مصباح پر بھاری پڑی ہے۔جنوبی افریقا کے خلاف سیریز میں مصباح ہی ہیڈ کوچ ہونگے ،اس کے بعد نئے ہیڈ کی تقرری کی جائے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق کو بیک وقت 2 عہدے کیا سوچ کر دیئے اور سفارشات کس کی تھیں؟پھر ایک عہدہ واپس لے کر دوسرے عہدے پر رکھنے کا فیصلہ کس کا تھا ؟اور اب اگر انہیں تبدیل کیا جارہا ہے تو یہ فیصلہ کس کا ہوگا؟
کرک سین نہایت ذمہ داری کے ساتھ یہ واضح کر رہا ہے کہ اب سے 4ماہ قبل اس کے پاس یہ خبر موجود تھی کہ نئےسال کے آغاز تک مصباح کا سایہ بھی پی سی بی پر نہیں ہوگا لیکن یہ ایک ناقابل یقین بات تھی،اس لئے اتنی آسانی کے ساتھ اس پر یقین کرنا ممکن نہیں تھالیکن اب نیوزی لینڈ کے دورے میں ناکام پرفارمنس کے بعد مصباح کی رخصتی یقینی ہے۔مصباح کے ساتھ دیگر اراکین وقار یونس،یونس خان اور مشتاق احمد بھی موجود ہیں۔جب 4 ،4 تھنک ٹینک جمع ہونگے تو یہ فائدہ سے زیادہ نقصان دہ بات ہوتی ہے۔ہر ایک اپنی رائے کو موخر اور دوسرے کی رائے کو اہمیت دینے پر لگا ہوتا ہے یا شرماشرمی میں پلان نہیں کرسکتا۔ویسے میں بھی ایک نیام میں 4،4 لیجنڈری سجانے کے یہی نتائج نکلتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ ذمہ دار بھی چیک کئے جائیں کہ جنہوں نے یہ تحفے ٹیم کے ساتھ سجائے تھے۔کیا سوچ کر یہ سب کیا گیا تھا؟مصباح ایک دفاعی کپتان اور ایک دفاعی بیٹسمین تھے۔2011سے چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے پاکستان کرکٹ کے لئے کونسی ٹیم تیار کی،سامنےہے۔پھر پی سی بی نے ان کی ریٹامنٹ کے تیسرے سال ہی 2،2 عہدے کیسے دے دیئے،کرکٹ کمیٹی میں شامل نامی گرامی ناموں کی پوجا کی جائے یا ان کے فیصلوں کا ثمر کھایا جائے؟
2 سال میں پاکستان 2 ٹیسٹ میچ جیتا ہے۔یہ پرفارمنس ہے۔
مصباح کو فارغ کرنے سے پہلے اس سوچ اور ان ذمہ داروں کاتقرر کیا جائے اور انہیں نمونہ عبر ت بنایا جائے جنہوں نے یہ سب کیا تھا،اس کے بعد شوق سے تبدیلی کریں۔مصباح کو بدلنے سے پہلے ان کی تقرری کرنے والوں کو نمونہ عبرت بنایا جائے۔
باقی یہ سوچ تو نہایت ہی گھٹیا،پاگل پن اور خالی الذہن کی ہے کہ ایک 16 سال کے پیسر کو ایک بکواس،نہ دیکھی گئی کارکردگی کی بنیاد پر 5دن کی ٹیسٹ کرکٹ کھلادی جائے،ایک نااہل بیٹسمین کو محض اس لئے مسلسل کھلایا جائے کہ وہ جی حضوری اچھی کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں