مصباح اور بابر کے چہروں پر ہوائیاں کیوں،تیسرے دن کا کھیل ڈرامہ کے بعد آخر شروع

0 32

ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرا ٹیسٹ خراب موسم،خراب گرائونڈ کی نذر ہونےلگا.پاکستانی کوچ اور کپتان کی مایوسی دیکھنے والی تھی.ویسٹ انڈین کوچ اور کھلاڑی بظاہر مایوس مگردل میں مطمئن تھے.اتوار کو کنگسٹن جمیکا میں ڈرامہ ہوا.جیسا کہ پیش گوئی کی گئی تھی.میچ اوقات میں بارش کا کوئی امکان نہیں ہے.ایسا ہی ہوا.نتیجہ کے طور پر میچ شروع ہونا بنتا تھا.میچ وقت پر شروع نہ ہوسکا.گرائونڈ گیلا تھا.اس پر تاخیر ہوئی.آخر میچ شروع ہوا تو پاکستانی کیمپ نے سکون کا سانس لیا.ابھی 8 بالیں ہی ہوئیں تھی.ایک اسکور بھی نہ بناتھا.ویسٹ انڈین کپتان بھاگے بھاگے امپائرز کے پاس جا پہنچے.پاکستانی بیٹسمین ھیرانگی سے دیکھ رہے تھے.پھر ایک بحث چھڑ گئی .سب سٹیک ہولڈرز شامل ہوگئے.دونوں ٹیموں کے کوچز فل سمنز اور مصباح الحق شامل تھے.کپتان بابر اعظم اور برتھویٹ بھی ساتھ تھے.دونوں امپائرز بھی شریک تھے.میچ ریفری لیڈ کر رہے تھے.طویل مشاورت کے بعد ایک فیصلہ ہوا.
بائولرز کے لئے دلدل
گزشتہ روز اور رات کی بارش سے گرائونڈ کی حالت خراب تھی.آئوٹ فیلڈ اتنی نرم تھی کہ بائولرز کے پائوں دلدل میں گھس رہے تھے.اسپنرز کی آپشن دی گئی.ویسٹ انڈیز نے مسترد کردیا.مصباح اور بابر کی کوشش بے کار گئی.میچ روک دیا گیا.پھر امپائرز نے کہا کہ گرائونڈ ٹھیک ہونے کا انتظار کرو.پاکستانی کیمپ مایوسی کی حالت میں پلٹا. ویسٹ انڈین پلیئرز ہنسی مذاق کرتے پائے گئے.امپائرز نے مقامی وقت کے مطابق پھر ایک بجے میچ شروع کرنے کا اعلان کیا.
پاکستانی ٹیم کیوں پریشان تھی.نتیجہ کا علم ہے.پہلا میچ ہار چکے ہیں.اس میچ کا تیسرا دن بھی نکل رہا.ابھی ایک اننگ تک مکمل نہیں ہوئی.میچ کیسے جیتا جاسکے گا.یہ پریشانی کھائے جارہی ہے.پہلا ٹیسٹ ہارنے کا مطلب کیا تھا.سیریز سے دستبرادری.اس میچ میں جیتنے سے دوری کا مطلب بڑی بدنامی.مصباح الحق انجام سے واقف ہیں.
ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ 19 ویں صدی میں
ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کا حال پتلا ہے.ایسا لگتا ہے کہ 19 ویں صدی سے باہر نہیں نکلے.کئی گھنٹے قبل رکنے والی بارش کے بعد بھی میدان کیوں تیار نہیں.ظاہر ہے کہ جدید سہولیات موجود نہیں.آئی سی سی کو اس کا نوٹس لینا چاہئے.کھیل کی بنیادی سہولیات مہیا کرنا میزبان بورڈ کا کام ہوتا ہے.ایسے میں تو ایک نیا آئیڈیا ملا ہے.شکست سے بچنے کے لئے ایسی کوشش ہرایک کرے گا.تاخیری حربے استعمال کئے جاتے رہتے ہیں.پاکستان جیسا ملک اس موقع پر ہیلی کاپٹر کال کرتا ہے.دنیا کا ہر ملک وقت کو قیمتی بناتا ہے.یہاں عجب مثال دیکھنے کو ملی.
سب پریشان،کچھ خوش
پاکستان نے جس طرح 8 بالیں کھیلی ہیں.یہ کسی طرح بھی پلان اے یا بی والی کہانی نہیں ہے.منیجئمنٹ ابھی بھی دفاعی لائن پر ہے.ایسے یہ میچ نہیں جیتا جاسکے گا.پاکستان کو تو اب کم سے کم 5 رنزکی اوسط سے کھیلنا ہوگا.4 گھنٹے کے قریب اگر کھیل ممکن ہوتا ہے تو قومی ٹیم 150 اسکور جوڑنے کی کوشش کرے.پھر کریز کیریبین کے حوالہ کردے.کل بھی لکھا تھا کہ بچنے کا نسخہ ایک ہی ہے اور اٹیکنگ گیم کرے.دفاعی لائن سے باہر آئے.موڈ بنانے.چہرے سجانے اور مایوسی دکھانے سے کچھ نہیں ملے گا.
ایک اچھی بات ہوئی ہے.پاکستانی وقت کے مطابق رات 11 جب کہ جمیکا کے وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے کھیل شروع ہوگیا.مزید کوئی رکاوٹ نہ آئی تو 63 اوورز کے قریب کا کھیل ممکن ہوگا.یہ ایک اچھا موقع ہوگا.ہیڈ کوچ مصباح الحق تھکے تھکے لگے.ایسا لگتا تھاکہ جیسے رات بھر سو نہیں سکے.ان کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ بیٹسمینوں کو فرنٹ لائن سے کھیلنے کا کہیں.پھر بائولرز سے بہتری کی بات کریں.
پاکستانی ٹیم 62 میں سے 30اوورز بھی کھیلے.5کی اوسط سے اسکور کرے تو 400کے قریب مجموعہ بنتا ہے.یہ تب ہی ہوگا جب بیٹسمین اٹیک کریں.کچھ اچھا اسکور بنائیں.ابتدائی 7 اوورز میں صرف 5 رنزبنائے گئے ہیں.یہ کہانی بھی عجب ہے.فہیم اشرف اور رضوان کو بہت جلد اپنے بازو کھولنے کی ضرورت ہوگی.کھیل کو اچھا کرنا ہی کامیابی ہوگی.
یہ بھی کچھ اسی سے متعلق ہے.
دوسرا دن ضائع،3 دن میں پاکستان کی جیت کے 2 اور ہارنے کا ایک پلان،بریکنگ نیوز

Leave A Reply

Your email address will not be published.