مصباح الحق کا 2 سالہ دور،16 ٹیسٹ،11 ون ڈے اور 34 ٹی 20 میچز،کارکردگی کا کیا عالم،تفصیلی جائزہ

0 39

تجزیہ : عمران عثمانی

کرک سین کا یہ اعزاز ہے کہ اس نے 6 ستمبر 2021 کو حتمی انداز میں سب سے پہلے،سب سے آگے یہ خبر بریک کی کہ پاکستانی ٹیم منیجمنٹ اغوا ہوگئی۔اس کے تھوڑی دیر بعد پی سی بی نے پریس ریلیز میں ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بائولنگ کوچ وقار یونس کے مستعفی ہونے کی خبر جاری کی ۔کرک سین نے اسی خبر میں واضح اضافہ کیا کہ کوچز نظر انداز ہوئے۔ٹیم سلیکشن پر مشاورت نہیں ہوئی۔یہ اختلافات ان کے جانے کا سبب بنے ہیں۔اس کے بعد اس کے ضمیمے آتے رہے۔کرک سین اپنی سابقہ روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ جائزہ رپورٹ سب سے قبل شائع کر رہا ہے کہ مصباح کے ہیڈ کوچ کے دور میں پاکستان کی پرفارمنس کا کیا عالم رہا۔ٹیم کہاں کھڑی تھی۔کہاں آگئی۔کتنے میچز کھیلے،جیتے،ہارے۔کتنی سیریز میں فتح ملی اور ناکامی مقدر بنی۔اس کے ساتھ ہی تینوں فارمیٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔ساتھ میں وقار یونس کی بطور بائولنگ کوچ کارکردگی بھی سامنے ہوگی۔

مصباح الحق کی تقرری ورخصتی

پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے جائزے سے قبل یہ واضح کرتا چلوں کہ مصباح الحق کی بطور ہیڈ کوچ تقرری 4 ستمبر 2019 کو ہوئی تھی۔ساتھ میں انہیں چیف سلیکٹر کا عہدہ بھی ملا تھا۔ایسا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔تجربہ ناکام رہا۔نتیجہ میں 13 ویں ماہ اکتوبر 2020میں انہوں نے چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑ دیا۔یہ دونوں تقرری 3 سال کے لئے تھی۔مصباح چیف سلیکٹر 3کی بجائے ایک سال رہے اور ہیڈ کوچ کی مدت بھی ایک سال قبل ہی چھوڑنی پڑی۔جب 6ستمبر 2021 کو انہوں نے یہ عہدہ چھوڑ دیا۔اس طرح ایک دن کے اضافہ کے ساتھ انہوں نے بطور ہیڈ کوچ 24 ماہ پورے گزارے ہیں۔

سب سے قبل ٹیسٹ پرفارمنس کا جائزہ

مصباح الحق کی ہیڈ کوچ کی مدت 4ستمبر 2019 سے شروع ہوتی ہے۔وہاں سے لے کر اب تک پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر برابر یوں ہے کہ 16 ٹیسٹ میچزمیں سے پاکستان نے 7 جیتے ہیں۔6 ہارے ہیں اور 3میچز ڈرا ہوئے۔قومی ٹیم کی بیٹنگ اس عرصہ میں ایک بار بھی کسی اننگ میں 600 اسکور نہیں کرسکی۔کہنے کو تو ایک فتح زیادہ ہے۔اس کی حقیقت بڑی تلخ ہے۔قومی ٹیم یا تو ہوم گرائونڈ پر جیتی ہے اور یا پھر کمزور ٹیم کے خلاف۔اس کا اندازا اس بات سے لگالیں کہ نیوزی لینڈ میں 2 میچزکھیلے۔دونوں ہارے۔انگلینڈ میں 3میچزمیں سے ایک ہارا۔2 بارش کی وجہ سے ڈرا ہوگئے۔وہاں بھی جیت ممکن نہیں تھی۔آسٹریلیا میں 2 میچز کھیل کر سب میں ناکامی ہوئی اور تو اور ویسٹ انڈیز میں 2 میچز کھیل کر سیریز 1-1سے ڈرا کی۔اب اس کی فتوحات ویسٹ اندیز سے ایک ہوگئی تو پھر سری لنکا سے ہوم گرائونڈ پر 2میں سے ایک میچ جیت سکے۔ایک ڈرا رہا۔بنگلہ دیش سے ایک ہی ٹیسٹ ہوسکا،ہوم گرائونڈ پر جیتا۔زمبابوے میں کمزور ٹیم سے 2 ٹیسٹ جیتے اور جنوبی افریقا کے خلاف ہوم گرائونڈمیں 2 میچز جیتے۔7 فتوحات جنوبی افریقا،بنگلہ دیش،سری لنکا،زمبابوے اور ویسٹ انڈیز سے ملیں۔سب کا سٹیٹس نیچے کا ہے اور ناکامیاں کہاں سے ہوئی ہیں۔آسٹریلیا،انگلینڈ اور نیوزی لینڈ ،حتیٰ کہ ویسٹ انڈیز سے بھی شکست ہوئی۔اس اعتبار سے یہ مایوس کن کارکردگی تھی۔

اسی باب میں لگے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز کی گنتی کرلیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ہوا۔پاکستان نے 8 ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں۔جنوبی افریقا،زمبابوے اور سری لنکا سے جیتی۔بنگلہ دیش سے 2 میچزکی سیریز کا ایک ٹیسٹ ہوسکا،چلیں اسی پر یہ سیریز بھی شامل کرلیں تو 4 سیریز میں کمزور ممالک کے خلاف کامیابی حاصل کی۔3 میں ناکامی ہوئی،یہ اصل سیریز تھیں۔ایک سیریز ڈرا کھیلی۔ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تحت پاکستان کو اگست 2019سے جون 2021 تک 6 سیریز کھیلنی تھیں۔ان میں پاکستان نے زمبابوے سے ایک اضافی سیریز کھیلی جو چیمپئن شپ کا حصہ نہیں تھی۔اسی طرح گزشتہ ماہ ویسٹ انڈیز میں جو سیریز کھیلی وہ اگلی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2021سے 2023 کی تھی ،۔وہ بھی ڈرا رہی ہے۔گزشتہ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں 12 میچز کھیلے۔4 جیتے۔5 ہارے اور3میچز ڈرا کھیلے۔نتیجہ میں فائنل تو دور کی بات،پاکستان 5 ویں نمبر پر رہا۔ٹیسٹ میچز،حریف ٹیموں اور سیریز کی روشنی میں پاکستان کی تنزلی ہی ہوئی ہے اور ایک وقت ایسا بھی تھا کہ پاکستان بیرون ملک ٹیسٹ سیریز جیتے 18 ماہ گزار گیا۔

ایک روزہ کرکٹ کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم

مصباح کا دور تو ستمبر 2019 میں شروع ہوا۔آئی سی سی ورلڈ کپ سپر لیگ 2020 سے شروع ہوئی ہے۔اس میں قومی ٹیم کی کارکردگی ملی جلی ہے۔مصباح کی رخصتی تک 5 ویں پوزیشن تھی۔ایک بڑی فتح جنوبی افریقا میں ملی ۔جب ٹیم نے میزبان ٹیم کو اس کے گھر میں سیریز ہرادی۔انگلینڈ میں اس سال 3 میچزکی سیریز ہاردی۔زمبابوے میں 3میچزکی سیریز 2-1سے جیتی۔جنوبی افریقا میں بھی یہ نتیجہ تھا۔سری لنکا سے ہوم گرائونڈ میں 2میچزکی سیریز 0-2 سے اپنے نام کی۔پاکستان مصباح کے دور میں 4 سیریز کھیلا۔3 میں جیتا جب کہ ایک میں اسے شکست ہوگئی۔دیکھنے کو یہ کچھ بہتر نتیجہ ہے۔اجمالی طور پر یوں بیان ہوگا کہ 11 ایک روزہ میچزمیں سے 6 جیتے۔4 ہارے۔ایک میچ ٹائی رہا۔اہم بات یہ ہے کہ پاکستان جن سے جیتا،ان سے ہارا بھی اور وہ کمزور ممالک تھے جیسے زمبابوے۔انگلینڈ سے تینوں میچ ہارگیا۔آئی سی سی ورلڈ کپ سپر لیگ کے 9 میچز کھیل چکا ہے۔4جیتے ہیں تو 4 میں ناکامی ہے۔ایک میچ ٹائی ہے۔ایک روزہ کرکٹ کی پرفارمنس بد ترین نہیں ہے تو اچھی بھی ہر گز نہیں ہے۔اس لئے یہ فارمیٹ بھی ناکامی میں جائے گا۔

ٹی 20 کرکٹ میں کیا رہا

اب پاکستان کے پسندیدہ فارمیٹ کی جانب چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ کوچز اس میں کیا کرسکے۔اتفاق سے اسی کا ورلڈ کپ قریب ہے۔ورلڈ ٹی 20 اگلے ماہ کھیلا جانا ہے اور اس سے 40روز قبل ان کوچز کا اس طرح جانا بھی ٹھیک نہیں سمجھا جارہا ہے۔سب سے قبل قومی ٹیم کے مجموعی میچز دیکھ لیں۔34 میں قسمت آزمائی کی ہے۔صرف 16 فتوحات ملی ہیں۔اس کے قریب ترین 13 میں ناکامی کا داغ ماتھے کا جھومر بنا ہے۔یہ پسندیدہ فارمیٹ کیسے رہا،۔5 میچزکا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔پاکستان نے ان 34میچز کے لئے 11 سیریز کھیلی ہیں۔6 سیریز جیتی ہیں،زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ان میں سے 2 تو زمبابوے کے خلاف تھیں۔بنگلہ دیش اور جنوبی افریقا کو بھی ہوم سیریز میں شکست دی۔یہ 4 ہوگئیں۔اس کے بعد ایک سیریز جنوبی افریقا میں جیتی۔چھٹی اورآخری سیریز ویسٹ انڈیز میں یوں جیتی کہ4 میں سے 3میچز بارش کی نذر ہوگئے۔پاکستان کو آسٹریلیا،سری لنکا،نیوزی لینڈ اور انگلینڈ میں 4 سیریز میں ناکامی ہوئی۔انگلینڈ کے خلاف گزشتہ سال سیریز 1-1 سے برابر کھیلی تھی۔پاکستانی ٹیم نے زیادہ فتوحات 5،5 جنوبی افریقا وزمبابوے کے خلاف حاصل کیں۔16میں سے 10 تو یہ نکل گئیں۔سری لنکا اور آسٹریلیا سے 6میچزکھیلے۔سنگل بھی نہ جیت سکے۔نیوزی لینڈ کے خلاف 3میں سے ایک میچ جیتا تو 2 ہارے۔ایسے ہی انگلینڈ سے 6 میچز کھیل کر اگر 2 جیتے ہیں تو 3 میں ناکامی مقدر بنی ہے۔

تینوں فارمیٹ کا خلاصہ

پاکستان نے تینوں فارمیٹ میں 61 میچز کھیلے ہیں۔29 میں فتح ملی ہے۔تفصیل آپ دیکھ چکے ہیں۔کوئی بڑی سیریز نہیں جیتی۔کوئی بڑی پوزیشن نہیں ملی۔ٹیسٹ اور ایک روزہ فارمیٹ میں رینکنگ ہاف درجن پر ہے جو پہلے بھی وہیں تھی۔ ٹی 20 رینکنگ ایک زمانہ تک اچھی تھی۔اس میں دوبارہ بہتری نہیں آئی ہے،۔تینوں فارمیٹس میں پاکستانی ٹیم متعدد مسائل سے دوچار ہے۔مڈل آرڈر ناکام ہے۔بدستور خلا ہے۔اوپنرز ڈھنگ کے نہیں ہیں۔ٹیم گزشتہ 15 ماہ سے 2 پلیئرز بابر اعظم اور رضوان پر چل رہی ہے۔ڈھنگ کا اسپنر تراشا نہیں گیا ہے۔اسی طرح رائٹ ہینڈ فاسٹ بائولر تاحال تیار نہیں کیا جاسکا۔بات لے دے کے آصف سے حیدر،خوشدل سے نسیم شاہ اور محمد حسنین تک رہی ہے۔ان میں سے کوئی بھی مستقبل کا سپر اسٹار نہیں ہے۔پھر ٹیم کو دفاعی سوچ میں رکھا ہے،اٹیکنگ کرکٹ کھیلنی نہیں آتی ہے۔مصباح اور وقار کو جس انداز میں نکالا گیا ہے۔وہ زیادہ اچھا نہیں ہے لیکن ان دونوں کے ہوتے ہوئے پاکستان کرکٹ کی فنائی ہوئی ہے۔اس کا ذمہ دار کون ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.