مصباح الحق آج سلیم یوسف اور وسیم اکرم کی عدالت میں،کیا ہونے جارہا ہے

عمران عثمانی
Image By espncricinfo
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے وہی باتیں کی ہیں جو نیوزی لینڈ کے دورے کے آغاز میں انہوں نے14 روزہ قید کے اختتام پر کی تھیں کہ
ٹریننگ و پریکٹس کا وقت نہیں بچا،14 روزہ بندش کے بعد کھلاڑی درست پریکٹس نہیں کرسکے وغیرہ وغیرہ۔
ہیڈ کوچ نے بڑی صفائی کے ساتھ یہ بھی کہدیا کہ میں نیوزی لینڈ میں شکست کی معافی مانگنے نہیں آیا بلکہ حقائق بتانے آیا ہوں،انہوں نے ساتھ میں کیویز کی تعریف کی اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ میں نے اپنا کام درست کیا،لڑکوں نے پرفارم نہیں کیا،اس کی وجہ تلاش کرنی ہوگی،عامر نے ذاتی باتیں کیں،وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کریں ،میں ان کو ویلکم کروں گا۔نسیم شاہ پاکستان کا اثاثہ ہیں،انہیں سنبھال کر رکھنا ہوگا۔
مصباح کی باتیں سب پڑھ چکے ہیں،یہاں انہیں سمجھنے اور دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ دراصل کیا کہہ گئے ہیں اور آگے کیا ہونے جارہا ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ اس سیریز کے لئے سلیکشن بھی مصباح نے بطور چیف سلیکٹر کی تھی،وہ اپنی ہی سلیکٹ کردہ ٹیم کی سلیکشن پر کیسے سوال کرسکتے تھے،چنانچہ نہیں کیا۔
ایک ایسے دورے میں کہ جہاں بمشکل 2 فارمیٹ ہوں،5 میچز ہوں،وہاں 3،3وکٹ کیپر لے جائے گئے اور اوپنرز کا کوئی بیک اپ نہیں تھا۔فخرزمان آغاز سے ہی باہر ہوگئے جبکہ بابر اعظم جاتے ہی زخمی ہوگئے ،لے دے کے امام الحق بھی ان فٹ ہوگئے۔پاکستان نے پورا دورہ بغیر اوپنرز کے کھیلا۔
35رکنی کرکٹ اسکواڈ میں آپ کے پاس اگر تیسرا اوپنر نہیں نہیں تھا تو یہ سلیکشن کی نااہلی نہیں ہے؟
نسیم شاہ جیسے اثاثوں کو مصباح اور وقار نے تباہ کر دیا ہے،انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران معروف سابق فاسٹ بائولر و کمنٹیٹرمائیکل ہولڈنگ نے نسیم شاہ کے بارے میں کہا تھا کہ 16 یا 17 سال کا یہ لڑکا اس لیول کی کرکٹ کا سرے سے اہل ہی نہیں ہوا ہے،یہ جتنا بھی باصلاحیت ہے،اسے اپنے پرفارمنس سنٹر بھیج کر گروم کریں اور پالش کریں،ورنہ یہ اس عمر میں زور لگا لگا کر ختم ہوجائے گا۔اور پھر وہی کچھ ہوا۔انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی سیریز میں ناکامی و تباہی انکا مقدر بنی،اسپیڈ چلی گئی،3درجن نوبالز انہوں نے پھینکیں۔پورے دورے میں وہ حلوہ بائولر بنے رہے۔
ہیڈ کوچ صاحب کو اگر ہماری گزارشات سمجھ نہیں آتیں تو وہ مائیکل ہولڈنگ کو سن لیں،نسیم شاہ کی گزشتہ 15 ماہ میں آسٹریلیا،انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی سیریز میں کارکردگی چیک کرلیں،پھر بھی ضد ہے کہ وہ آپ کا اثاثہ اس حالت میں بھی ہیں تو قومی کرکٹ ٹیم کا اللہ ہی حافظ ہے۔
اسپیڈ کی بات کریں تو عباس کی اسپیڈ بھی ختم ہوکر رہ گئی ہے،وہ کس کھاتے میں مسلل تیسری ناکام سیریز کھیل رہے ہیں،محمد عامر کو تو آپ نے بول دیا کی اسپیڈ کم ہونے سے آپ کو مسئلہ ہوگا،نسیم اور عباس کو نہیں بتایا کہ آپ کی اسپیڈ کم ہونے سے پورے پاکستان کو مسئلہ نہیں مسائل کا سامنا ہے۔
اسی طرح مڈل آرڈر کی سلیکشن میں غلطیاں کی گئیں،اسی طرح سلیکشن در سلیکشن میں کوتاہیاں دیکھی گئیں۔
نیوزی لینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ میں ظفر گوہر کو یاس شاہ کی جگہ کھلانا غلط فیصلہ تھا،جب آپ سے 11 رکنی ٹیم کی سلیکشن درست نہیں ہوسکتی تو آپ 35 رکنی اسکواڈ کو کیسے بہتر بناسکتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی زبوں حالی کے ذمہ دار کون ہیں؟
دائیں ہاتھ کا فل فاسٹ بائولر گزشتہ10 سال سے پاکستان کو نہیں مل سکا جو تواتر کے ساتھ اپنی جگہ ومقام بناسکا ہو،اس کا ذمہ دار کون ہے؟مصباح الحق کی کپتانی کا یہی عرصہ رہا ہے۔
پھر دوسری اہم بات گیم پلان ہوتا ہے۔نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوتے ہوتے کیسے ہار گئے،انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ جیتتے جیتتے کیسے ہار گئے؟کیونکہ منیجمنٹ کے پاس سرے سے پلان ہی نہیں ہے جو پلان اے،بی اور سی کے تحت کام کرے،کپتان بھی پورے پورے ہیں اور بائولنگ اسکواڈ کی حالت یہ ہوتی ہے کہ سارے بائولرز کی وکٹیں حریف ٹیموں کے دوسرے نمبر کے بائولر سٹورٹ براڈ یا ٹم سائوتھی کے قریب تک نہیں پہنچ پاتیں۔
جواز سن لیں،کہانیاں سن لیں،لوگوں کے ظرف کی باتیں ان سے سن لیں،عامر کی ریٹامنٹ جیسے کوئی مسئلہ ہی نہیں،سادہ سا حل ان سے سن لیں۔
ان سے پلان پوچھیں کہ ایک سال کےبعد پاکستان کےکون سے اوپنرز اثاثہ کادرجہ رکھیں گے۔جواب ملے گا،فخرزمان۔
ان سے پوچھ لیں کہ ایک سال بعد پاکستان کا نمبرون بائولر کون بنے گا جو ایک اثاثہ کہلائے گا،جواب ملے گا کہ نسیم شاہ۔
دفاعی،ڈرپوک کرکٹ کھیل کھیل کر اب اسے بطور کوچ ٹیم میں انجیکٹ کرنے والے مصباح کو یہ بھی علم نہیں ہے کہ دفاعی کرکٹ کیا ہوتی ہے اور اٹیکنگ کرکٹ و پلان کیا ہوتا ہے۔
تھوڑا سابھی علم ہوتو تو پہلے ٹیسٹ کے آخری روز چائے کے وقفے کے بعد سیٹ بیٹسمین رضوان اور فواد عالم 6 اوورز6کی اوسط سے کھیل جاتے تو کیوی ٹیم کے ہوش اڑجاتے،ان کی اٹیکنگ بائولنگ ختم ہوچکی ہوتی،فیلصرز پھیل کر دفاع میں لگ جاتے اور بائولرز آف اسٹمپ سے باہر شاٹ پچ بالز کررہے ہوتے کہ انہیں علم ہوجا تا کہ اگر اگلے 6 اوورز میں 36 رنز اور بن گئے تو پاکستان 22 اوورز میں صرف 100رنزکی دوری پر ہوگا۔پلان کا بڑا اثر ہوتا ہے۔اگر ہو ہی نہ ہوتو پھر ایسی کرکٹ ہوتی ہے جو ہم کھیل رہے ہیں۔
پی سی بی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس آج ہورہا ہے،وہاں وسیم اکرم بھی ہیں اور سلیم یوسف بھی۔سلیم یوسف اور وسیم اکرم نے عمران خان کی قیادت میں اٹیکنگ کرکٹ کھیل رکھی ہے۔مصباح کے یہ جوابات اگر ان کے سامنے بھی ہوئے تو پھر انہیں انصاف سے دیکھنا ہوگا،ورنہ پاکستان کرکٹ کی تباہی میں یہ بھی برابر کے ذمہ دار سمجھے جائیں گے۔
مصباح کی اگر یہی باتیں ہیں تو کرکٹ کمیٹی فوری طور پر انہیں برطرف کرنے کی ایک ہی سفارش کرے اور ہیڈ کوچ صرف لگایا جائے ،باقی لیجنڈری پلیئرز جیسا کہ وقار یونس،یونس خان اور مشتاق احمد ہیں،انہیں فوری طور پر پرفارمنس سنٹر میں بھیج کر اگلی نسل کے کرکٹرز کی تلاش وتیاری کے لئے بھیجا جائے،انہیں 2023 کے ورلڈ کپ،2023کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا گول دیا جائے تاکہ پاکستان کرکٹ درست سمت پر گامزن ہوسکے.

اپنا تبصرہ بھیجیں