قلندرز ،سلطانز اور کنگز پی ایس ایل تاریخ کے پہلے چیمپئن کے امیدوار،دلچسپ ریکارڈز

قلندرز ،سلطانز اور کنگز پی ایس ایل تاریخ کے پہلے چیمپئن کے امیدوار،دلچسپ ریکارڈز

عمران عثمانی

پاکستان سپر لیگ فائیو کا نامکمل مرحلہ شروع ہونے کو ہے،ہفتہ14نومبر 2020کو اس کے پلے آف میچز شروع ہونگے اور 17نومبر کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں فائنل میچ کے ساتھ اس سال کی لیگ مکمل ہوجائے گی.اس طرح اس کے 5ایڈیشن پایہ تکمیل کو پہنچیں گے.
پی ایس ایل،ملتان سلطانز نے لاہور قلندرز کو ہرادیا
پاکستان سپر لیگ 2016میں شروع ہوئی،پہلے 2ایڈیشن میں 5 ٹیموں اسلام آباد یونائیٹڈ،لاہور قلندرز،پشاور زلمی،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز،کراچی کنگز نے شرکت کی جبکہ 2018سے اگلے 2ایڈیشن میں انکے ساتھ چھٹی ٹیم ملتان سلطانز کی بھی شامل ہوگئی ۔اسلام آباد نے2016میں پہلا اور 2018میں تیسرا ایڈیشن جیتا،2017میں چوتھی اور 2019میں تیسری پوزیشن لی لیکن اس کے لئے 2020کا یڈیشن بھیانک خواب ثابت ہوا جب ٹیم چھٹے اور آخری نمبر پر آئی،یہ اب تک کی اس کی ناکام ترین پرفارمنس بھی ہے.کراچی کنگز کی قسمت بھی لاہور قلندرز سے ملتی جلتی رہی ہے2016 کے پہلے اور 2019کے آخری ایڈیشن میں چوتھے جبکہ 2017 اور 2018میں تیسرے نمبر پر رہی،2020میں وہ ریس میں شامل ہے اور چیمپئن کی امیدوار ہے۔لاہور قلندرز پہلے 2میں 5ویں اور آخری 2میں چھٹے اور آخری نمبر پر رہی،پہلی بار اس سال اس نے فائنل 4میں رسائی پائی ہے اور امیدیں تو اس کی بھی زندہ ہیں ۔ملتان سلطانز کی دونوں مرتبہ 5ویں پوزیشن تھی لیکن اس سال پوزیشن ابھی تک تو اچھی ہے لیکن 5دن بعد دیکھیں کہ کہاں اس کا اسٹاپ ہوتا ہے،پشاور زلمی 2016میں تیسرے اور 2017میں ونر رہی جبکہ آخری 2 سال سے رنراپ پوزیشن پر ہے اور اس سال بھی ریس میں شامل ہے اورکوئٹہ گلیڈی ایٹرز پہلے 2ایڈیشن میں رنر اپ ،تیسرے میں چوتھے اور 2019کے آخری ایڈیشن میں چیمپئن رہے لیکن 2020میں دفاعی چیمپئن ٹیم اپنے دور میں 5ویں بدترین نمبر پر آکر باہر ہوچکےہیں.
پی ایس ایل ،غیر ملکی امپائر سمیت تمام آفیشلز کا اعلان
ایونٹ میں کامران اکمل کے1537رنزکے علاوہ بابر اعظم کے 1388،شین واٹسن 1361،شعیب ملک کے1088احمد شہزاد 1077کے ساتھ ہزار رنز مکمل کرنے والے 4کھلاڑی ہیں۔پی ایس ایل میں تیز ترین سنچری کا نیاریکارڈ اس سال ریلی روسونے ملتان کی نمائندگی کرتے ہوئے کوئٹہ کے خلاف قائم کیا انہوں نے 43بالز پر سنچری بنائی . سابقہ ریکارڈ اسلام آباد کی نمائندگی کرنے والے کیمرون دلپورٹ نے گزشتہ سال لاہور قلندرز کیخلاف نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں 49گیندوں پر تھری فیگر اننگ بناکر قائم کیا تھا ،اسی طرح تیز ترین ہاف سنچری کا ریکارڈ بھی بلے بازوں کے بیٹ پر ہے،گزشتہ سال بھی ریکارڈ بنتے بنتے برابر ہوگیا اسلام آباد کے آصف علی نے 17گیندوں پر لاہور کےخلاف کراچی میں ہاف سنچری مکمل کی تھی،یہ ریکارڈ 2018میں بنائے گئے پشاور زلمی کے کامران اکمل کے برابر تھا جو انہوں نے لاہور میں قائم کیا تھا ۔
پی ایس ایل،ٹیموں کی پریکٹس جاری، میچز کا آغاز
بائولنگ میں ہر سال مجموعی وکٹیں لینے کا ریکارڈ بہتر ہوا ہے ۔پہلے سیزن 2016میں آندرے رسل16وکٹ لیکر ٹاپ پر رہے ،2017میں کراچی کنگز کے سہیل خان 9میچزمیں 16وکٹ لیکر پہلے نمبر پر رہے 2018میں پشاور کیلئے وہاب ریاض ا ور اسلام آباد کے فہیم اشرف 18،18وکٹوں کے ساتھ چھائے رہے،2019میں پشاور کیلئےحسن علی 13میچزمیں28وکٹیں لیکر سابقہ ریکارڈ توڑ گئے اور اب 2020کیلئے بڑا چیلنج رکھ گئے ہیں ،2016میں کراچی کنگز کے لیئے کھیلنے والے انگلش پلیئر روی بوپارا نے بہترین انفرادی گیند بازی کا ریکارڈ لاہور کیخلاف قائم کیا انہوں نے 16رنزدیکر 6وکٹیں اڑائیں 2019میں فہیم اشرف نے اتنی وکٹوں کیلئے19 اور 2018میں عمر گل نے 24رنزدیدیئے،گویا بوپارا پہلے نمبر پر بدستور موجود ہیں،اس مرتبہ 6وکٹیں 16رنزسے کم میں یا پھر 6سے زائد وکٹ لیکر کسی بولر کو نیا ریکارڈ بنانا ہوگا جو قدرے مشکل ہے،بولنگ کے میدان میں بہترین اکانومی ریٹ لاہور کیلئے 2017سے 2018تک سنیل نارائن نے 6.22کے ساتھ قائم کیا جو آج بھی بہترین ہے ،شاہین آفریدی ویسے توان دنوں انٹر نیشنل کرکٹ میں چھائے ہیں لیکن پی ایس ایل میں گزشتہ سال ایک منفی ریکارڈ اپنے نام کرواگئے انہوں نے لاہور کی نمائندگی کرتے ہوئے اسلام آباد کیخلاف 4اوورز میں 62رنزدیئے یہ اب تک کی مہنگی ترین بولنگ ہے
پشاور زلمی کے کامران اکمل وکٹ کیپنگ ریکارڈ میں نمایاں ہیں انہوں نے56میچزمیں44 شکار کئے، ایک سیزن میں زیادہ شکار 12 کا اعزاز بھی انکو حاصل ہے جو 2017میں بنایا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں