غیر ملکی ٹیمیں کم وقت کا بہانہ کر رہی ہیں،انگلینڈ پاکستان کی کرکٹ کیسے باہر منتقل کرسکتا،اہم تفصیلات

0 52

رپورٹ و تجزیہ : عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے موقف واضح اپنایا ہے۔بات بھی اچھی کی ہے۔کرنے کو شاید کچھ ہے نہیں،اس لئے کرکٹ فینز اور عوام کی تسلی نہیں ہورہی ہے۔پی سی بی چیف ایگزیکٹو وسیم خان نیوزی لینڈ بورڈ کو خط لکھ چکے ہیں۔تفصیل بتانے سے گریزاں ہیں۔کیوی بورڈ کو کیا لکھا ،بتا یا تو نہیں گیا۔یہ ضرور ہوا ہے کہ اندازا کیا جاسکتا ہے کہ کہانی کیا چل رہی ہے۔پی سی بی کا ایک ہی موقف ہے کہ سکیورٹی الرٹ کی تفصیلات دی جائیں۔

پاکستان کا موقف مضبوط

پاکستان کرکٹ بورڈ کا موقف بہت مضبوط ہے،عالمی سطح پر اس کو پذیرائی مل رہی ہے۔تمام غیر ملکی کرکٹرز وشخصیات پاکستان کرکٹ بورڈ اور ملک کے حق میں بول رہے ہیں۔تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک اس پر خاموش ہیں۔کسی بورڈ نے آفیشل کو ئی رائے نہیں دی ہے۔الٹا اور قیاس آرائیاں ہیں کہ فلاں ملک آرہا ہے۔فلاں ملک نہیں آرہا۔پی سی بی کو کیوی بورڈ سے یا حکومت پاکستان کو اعلیٰ پیمانے پر سکیورٹی ایجنسیز کی معلومات در کار ہیں جسے نیوزی لینڈ چھپا رہا ہے۔سوال یہ ہوتا ہے کہ چارج شیٹ لگتی ہے۔تفصیلات سامنے رکھی جاتی ہیں اور اس کے بعد فیصلے ہوتے ہیں۔یہان نیوزی لینڈ نے بھی کسی ایک ایسی حرکت والے ملک کی نقل کی ہے۔الٹا خراب ہوگیا ہے۔

پاکستان کے پاس ممکنہ آپشنز

پاکستان کے پاس اب ممکنہ آپشنز کیا ہیں۔اس کے لئے بغور جائزہ لیا جائے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ آئی سی سی کا پلیٹ فارم۔اس پر پاکستان سے بہت سے لوگوں کو تحفظات لاحق ہیں اور ہونے بھی چاہئیں۔آئی سی سی ایک عرصہ سے اپنی غیر جانبداری کھو چکی ہے اور اب بھی اس کی ایتھکس کمیٹی کیا کرے گی۔دونوں فریق کے موقف سنی گی۔پھر دونوں کو اس کے حل کی بات کرے گی اور آخر کار درمیانہ راستہ نکالنے کی بات کر ے گی۔درمیانہ راستہ پاکستان کے زخموں کو مندمل نہیں کرسکتا۔

ورلڈ ٹی 20 یا نیوزی لینڈ میچ کا بائیکاٹ

یہ اتنا آسان عمل نہیں ہوگا۔آئی سی سی کا ایونٹ ہے،اس کے لئے کچھ قوانین ہیں۔باہمی سیریز کے معاملات آپس کے ہوتے ہیں۔آئی سی سی ایونٹ اپنا مقام رکھتا ہے۔وہاں ایسی کی بھی حرکت کا الٹا نقصان ہوگا۔پاکستان کوورلڈ ٹی 20 کھیلنا ہوگا اور نیوزی لینڈ سے اس کا میچ بھی ہوگا۔پاکستانی عوام کی خواہش یہ ہے کہ پلیئرز اچھا کھیلیں اور جیتیں ،تاکہ پرفارمنس سے اس کا جواب دیا جاسکے۔

نیوتڑل مقام آپشن

نیوٹرل مقام کی آپشن پاکستان کرکٹ کے لئے نہایت خطرناک ہے۔پاکستان اس پر نہیں جائے گا،اسی بات سے نکلنے کے لئے ہی تو پی سی بی اور حکومت نے اتنی محنت کی۔نتیجہ میں ایک مشکوک سکیورٹی الرٹ کی بنیاد پر پاکستان سے کرکٹ بساط کیسے لپیٹی جاسکتی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ اس پر نہیں جائے گا۔ممکن ہے کہ انگلینڈ اپنے 2میچزکی ایسی ہی کوئی تجویز لے آئے۔یہ پاکستان کے لئے نہایت نقصان دہ ہوگی۔

دیگر غیر ملکی ٹیموں سے رابطہ

اطلاعات کے مطابق پی سی بی نے دیگر غیر ملکی ٹیموں سے بھی رابطہ کیا ہے۔ان میں بنگلہ دیش اور سری لنکا شامل ہیں۔بدقسمتی سے دونوں ممالک نے کم وقت کو بنیاد بناکر کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔کسے آپ اپنا مخلص دوست کہہ سکتے ہیں۔ایک ہفتہ میں 2،2 میچز کھیلنے یہ ٹیمیں آسکتی ہیں۔کوئی مصروفیات بھی نہیں ہیں،اس کے باوجود کم وقت کو جواز بنایا گیا ہے۔ایک اور حل موجود ہے۔ورلڈ ٹی 20 کے بعد ان 2 ممالک کو پاکستان کا سفر کروادیں۔ایک ایک ہفتہ کے دورے میں 3،3 میچز شیڈول کرلیں۔اصل مقصد سیریز نہیں ہے۔اصل معاملہ پاکستان کرکٹ کامستقبل،ساکھ کی بحالی ہے جو دائو پر لگی ہے۔

رمیز راجہ کا کیا کام

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ کو فوری طور پر پی سی بی پیٹرن انچیف عمران خان سے ملاقات کرنی چاہیئ اور وہ اتفاق سے وزیر اعظم بھی ہیں۔حکومتی سطح پر ایک ٹھوس موقف لینے کے بعد اس کی تفصیلات عوام سے شیئر کرنی ہونگی۔پھر اس معاملہ میں حکومت پاکستان کیس لڑے اور کیوی حکومت سے یہ پوچھ کر رہے کہ سکیورٹی الرٹ کی کیا تفصیلات ہیں۔

مائیکل وان کی فضول تجویز

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان کے بیان کو یہاں پاکستان میں کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں نے مثبت انداز میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔عقل مند افراد کو پہلے سمجھنا چاہئے کہ وہ کیا بول رہے ہیں ۔کیا اپنے ملک کی سفارتکاری تو نہیں کر رہے کہ تھوڑی دیر بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ بڑے فخر سے یہ اعلان کردے کہ ہم پاکستان سے سیریز منسوخ نہیں کر رہے۔بس اتنا چاہتے ہیں کہ یہ سیریز پاکستان کی بجائے عرب امارات میں کھیل لی جائے۔یہی مائیکل وان کہہ رہے ہیں۔یہ پاکستان کی دوسری موت ہوگی۔انگلینڈ بورڈ اپنی جانب سے بظاہر ہمدرد بن رہا ہوگا۔حقیقت میں پاکستان کرکٹ پر وار کے بعد اس کی کرکٹ ملک سے باہر منتقل کرنے میں پیش پیش ہورہا ہوگا تو کیا مائیکل وان کا یہ بیان بہتر ہے کہ اسے یہ عنوان دیا جائے کہ وہ پاک انگلینڈ سیریز کے حامی،وہ سیریز کے التوا کے مخالف وغیرہ وغیرہ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.