طالبان کا نیا اعلان، افغانستان کرکٹ پر پابندی،آئی سی سی بورڈ میٹنگ طے،پاکستان 6 سال بعد انگلیڈ سے آئوٹ

0 41

عمران عثمانی کی خصوصی رپورٹ و تجزیہ

یہ ایک خطرناک بات ہے۔افغانستان کرکٹ کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے۔آئی سی سی کی جانب سے پابندی کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔یہ سب طالبان کے ایک اعلان کے بعد ہوا ہے۔آئی سی سی کا رد عمل بھی آگیا ہے اور اس حوالہ سے بورڈ میٹنگ کےا یجنڈے میں یہ حساس معاملہ رکھ دیا گیا ہے۔آگے بڑھنے سے قبل کچھ تذکرہ ان خبروں کا بھی ہو جو گزشتہ 16 گھنٹوں میں نمایاں رہی ہیں۔

بنگلہ دیش کا طبل جنگ،ورلڈ ٹی 20منزل

جیسے بنگلہ دیش کا نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی 20سیریز جیتنا،مسلسل 2 ماہ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے بڑے ممالک کے خلاف ٹی20 سیریز جیت کر اس نے اگلے ماہ شیڈول ورلڈ ٹی20 کے لئے خطرے کا الارم بجادیا ہے۔کیویز کےخلاف ابھی بھی 5واں اور آخری میچ باقی ہے۔اس نے 4 میچزمیں سے 3 جیت کر پہلے ہی ٹرافی پر قبضہ کرلیا ہے۔ بنگلہ دیش کا طبل جنگ،ورلڈ ٹی 20منزل ہوگیا ہے۔

پاکستان 6 سال بعد انگلش سر زمین سے آئوٹ

یہ اب عجب بات لگے گی۔6 سال کم نہیں ہوتے۔پاکستان کرکٹ ٹیم 2016 سے 2021 تک مسلسل انگلش سر زمین پر موسم گرما کا کرکٹ سیزن گزارتی آئی ہے اور یہ ایک ورلڈ ریکارڈ بھی بن گیا تھا۔ایک ٹیم نے مسلسل 6 سال انگلینڈ کا ایسا دورہ کیا ہو کہ درمیان میں ایک بار بھی وقفہ آیا ہو۔ایسا نہیں ہوا تھا۔اس بار ہوگیا ہے۔2022 کے کرکٹ سیزن میں پاکستان انگلینڈ سے آئوٹ ہوگیا ہے۔اس کی جگہ بھارت اور نیوزی لینڈ نے لے لی ہے۔بھارتی ٹیم اس وقت بھی ٹیسٹ سیریز کھیل رہی ہے اور اگلے سال بلکہ 10 ماہ بعد 3 ون ڈے اور 3 ٹی 20 میچزکے لئے انگلینڈ کا دورہ کرے گی۔اسی طرح کیویز ٹیم ہے۔اس سال اس نے جون میں 2 ٹیسٹ میچزکی سیریز کھیلی تھی۔اگلے سال جون سے ہی 3 میچز کی ٹیسٹ سیریز کھیلے گی۔جولائی اور اگست میں جنوبی افریقا کی ٹیم ٹیسٹ،ٹی 20 اور ون ڈے سیریزکے لئے انگلینڈ کا دورہ کرے گی۔پاکستان کا ریکارڈ 6 سال سے آگے نہیں بڑھ سکا۔پھر بھی یہ ریکارڈ شاید ہی کوئی توڑے۔

دھونی کے بعد پاکستان بھی ایک ہیرو کا سوچ رہا

جیسا کہ آپ نے جان لیا ہوگا کہ ورلڈ ٹی 20 کے لئے بھارتی ٹیم، کا اعلان ہوگیا ہے۔ایم ایس دھونی بھی دستے کا حصہ ہونگے۔بطور کھلاڑی نہیں بلکہ بیٹنگ مینٹور کے طور پر ساتھ ہونگے۔اس تازہ ترین مثال کو پاکستان کیسے لے گا،یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔امکان ہے کہ بیٹنگ کوچ مینٹور کے طور پر انضمام الحق،محمد یوسف اور عامر سہیل میں سے کوئی ایک سلیکٹ ہوسکتا ہے۔یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان بھی اپنے کوچنگ کیمپ میں ایسا ایک نام ضرور رکھے گا۔کوئی بعید نہیں ہے کہ بائولرز کے لئے بھی کوئی سلیکٹ ہوجائے۔ادھر انگلینڈ بھی بین سٹوکس سے مستقل محروم ہوچکا ہے۔آل رائونڈر اس سال اپنا ہوم سیزن نہیں کھیل پارہے۔وہ ورلڈ ٹی 20سے بھی باہر ہونگے۔انگلش کیمپ اس حوالہ سے بیک اپ پلان کرچکا ہے۔

افغانستان کرکٹ ٹیم کاسٹیٹس خطرے میں ،پابندی کی تیاری

اس آرٹیکل کے اصل عنوان کی جانب رخ کرتے ہیں۔افغانستان کرکٹ کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے۔اس کا اس سال نومبر میں آسٹریلیا میں شیڈول ٹیسٹ میچ بھی منسوخ ہونے کےقریب ہے۔ایسا کیا ہوگیا ہے۔پہلے بڑی خبر کی جانب چلتے ہیں۔پھر آئی سی سی کے رد عمل کی طرف آئیں گے۔پھر آئی سی سی کے پلان کا جائزہ لیں گے۔قانون کو دیکھیں گے۔پھر اس پر تبصرہ ہوگا کہ کیا ہونے جارہا ہے۔اصل اعلانیہ خبر یہ ہے کہ افغانستان میں قائم ہونے والی نئی طالبان حکومت نے خواتین کو کرکٹ کھیلنے سے روک دیا ہے۔ترجمان کے مطابق خواتین کرکٹ ضروری نہیں ہے۔ملک میں اس کی اجازت نہیں ہوگی۔اس طرح افغانستان کی خواتین کرکٹرز اب کسی بھی صورت ملک میں یا ملک سے باہر کھیل نہیں سکیں گی۔مردوں کی ٹیم کو اجازت ہے۔طلبان نے گزشتہ جمعہ کو ایک خیرسگالی میچ بھی کابل میں کروایا تھا اورا س کی بڑی پذیرائی ہوئی تھی۔طالبا ن کا یہ اعلان آئی سی سی رولز کے خلاف ہے۔قوانین کا جائزہ لیں تو اس میں درج ہے کہ آئی سی سی کے فل ممبرز اپنی خواتین کرکٹ ٹیم بنانے کے پابند ہونگے۔تب ہی ان کا مکمل ٹیسٹ سٹیٹس برقرار ہوگا۔اگر ایسا نہ کیا تو ٹیسٹ سٹیٹس کا درجہ لے لیا جائے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کے اہل نہیں ہوگا۔آئی سی سی کے12 ٹیسٹ ممبرز ہیں،افغانستان کو 2017 میں ٹیسٹ درجہ ملا تھا۔اس وقت وہاں خواتین کرکٹ نہیں تھی۔یقین دہانی پر درجہ ملا۔پھر اس پر کام بھی شروع ہوگیا۔ملک میں خواتین کرکٹ کے فروغ پر کام کیا گیا۔

آئی سی سی کا تازہ ترین رد عمل،قانون

کرکٹ کی گلوبل باڈی آئی سی سی نے رد عمل دے دیا ہے کہ ہماری افغان حالات پر نگا ہ ہے۔طالبان کا یہ اعلان ہم سن چکے ہیں۔ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔صورتحال ایسی ہی رہی تو اس پر پابندی لگ جائے گی اور اس کے لئے آئی سی سی کی بورڈ میٹنگ نومبر میں شیڈول ہے۔اس کے ایجنڈے میں یہ ایشو بھی ہوگا۔جہاں تمام بورڈ ممبران سے مشاورت ہوگی۔قانون کے مطابق کسی بھی ملک پر پابندی کے لئے 2 تہائی اکثریت درکار ہے۔آئی سی سی کے بورڈ ممبران کی تعداد 17 ہے۔12 فل ممبران کے ساتھ 3 ایسوسی ایٹ ممالک کے ممبرز اور 2 آزاد رکن۔پابندی کے لئے 12 ووٹ درکار ہونگے۔میٹنگ چونکہ نومبر میں ہے،افغان ٹیم اکتوبر میں شروع ہونے والے ورلڈ ٹی 20 میں حصہ لے گی۔اسے کوئی خطرہ نہیں ہے۔نومبر میں اس کا آسٹریلیا کا دورہ ہے،جہاں ٹیسٹ میچ شیڈول ہے۔اسے خطرہ لاحق ہے۔اس حوالہ سے فیصلہ میں تاخیر ہوئی تو عبوری حکم نامہ بھی جاری ہوسکتا ہے۔

کرک سین کا تبصرہ

ان حالات میں ،جب کہ افغانستان تعمیر نو سے گزر رہا ہے،اسے ان ایشوز پر خاموشی اختیار کرنی چاہئے تھی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے پہلے بھی ٹیسٹ سٹیٹس یہ شرط مکمل کئے بغیر ہی ملا تھا،یقین دہانی ہی جواز تھا،اس پر 4 سال گزر گئے تھے۔ملکی سطح پر ہلکی پھلکی خواتین کرکٹ ٹریننگ جاری تھی۔اسے نارمل حالات سے مشروط کیا جاسکتا تھا،اس کے بعد اسے آگے دیکھاجاتا اور بہتر پوزیشن لے کر موقف اپنایا جاتا۔کل تک بھارت افغانستان کے ساتھ تھا۔آج نہیں ہے اور آئی سی سی میں اس کی لابی مضبوط ہے۔ایسے میں پاکستان جیسے ممالک اس کی فل سپورٹ حاصل کرنہیں پائیں گے تو افغانستان کرکٹ پر پابندی بڑا نقصان ہوگی۔باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم ہے۔سب ممالک کے خلاف بھر پور ایکشن میں ہوتی ہے۔اس وجہ سے پابندی خطرناک ہوگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.