طالبان کا ایک اور کرکٹ اقدام،3 ملکی کپ کی منظوری،افغان بورڈ کونیا ٹاسک بھی دے دیا

0 17

کرک سین تجزیاتی رپورٹ

اب یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ مستقبل کا افغانستان کیسا ہوگا۔دنیا آج مانے نہ مانے۔کل تسلیم کرے گی کہ بہت کچھ بلکہ سب کچھ بدل گیا ہے اور اس میں پاکستان کا بھی اہم ہاتھ رہا ہے۔اب یہ دیکھ لیں کہ اگست کے وسط میں جب طالبان نے افغانستان کا دوبارہ کنٹرول سنبھالا تھا تو کیا چل رہا تھا۔افغانستان کاکرکٹ مستقبل مخدوش،ورلڈ ٹی 20 سے آئوٹ۔وغیرہ۔کرک سین نے ایسی کوئی خبر نہیں لگائی تھی۔ہر جانب یہ سب چل رہا تھا۔پھر جمعہ کے روز طالبان کی نگرانی میں میں کابل میں جو فیسٹویل میچ کھیلا گیا،اس کی خبر بھی کرک سین نے دی۔یہ سب اقدامات یہ بتانےکو کافی ہیں کہ مستقبل روشن ہے۔اب ایک اور خبر آئی ہے۔دیکھا جائے تو2 خبریں ہیں۔ان میں سے ایک انٹر نیشنل کرکٹ کا افغانستان میں لانا ہے۔

ورلڈ ٹی 20سے قبل 3 ملکی کپ

افغانستان کرٹ بورڈ نے وہ کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کوئی اور ملک نہیں کرسکا ہے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔آج کے افغانستان کے تناظر میں آسٹریلیا جیسا ملک افغان کرکٹ بورڈ کی میزبانی والے ایونٹ میں شامل ہونے کی بات کرے تو کیا کہنے۔ایسا ہی ہوا ہے۔ورلڈ ٹی 20 کپ 17 اکتوبر سے یو اے ای میں کھیلا جائے گا۔اس سے پہلے اکتوبر کے پہلے ہفتہ می افغان کرکٹ بورڈ 3 ملکی کپ کروائے گا۔اس میں افغانستان کے ساتھ آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز شریک ہونگے۔یہ مقابلے شارجہ،دبئی،ابو ظہبی یا عمان میں سے کسی ایک جگہ پر ہونگے۔اس کی منظوری کیسے ہوئی۔یہ اہم سوال ہے۔

طالبان کااپنے بورڈ کو فری ہینڈ

طالبان نے اپنے ملکی کرکٹ بورڈ کو فری ہینڈ دے دیا ہے۔کابل سے کرک سین ذرائع کے مطابق طالبان نے افغان کرکٹ بورڈ سے کہا ہے کہ ملکی و غیر ملکی کرٹ کے لئے آزادی کے ساتھ کام کرے اورغیر ممالک کے تمام بورڈز سے مساوی تعلقات قائم کرے تاکہ کسی قسم کی جانبداری یا پسند ناپسند کا تاثر نہ ابھرے ۔ساتھ ہی ایک بہت بڑا ٹاسک دیا ہے جو بڑی بریکنگ نیوز کی شکل میں آئے گا۔یہ پلان اس سال کے آخر میں سامنے آسکتا ہے۔

افغانستان میں غیر ملکی ٹیموں کو لانے کاپلان

افغانستان کرکٹ بورڈ کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ 2022 کے آخر تک وہ یہ پلان کرے کہ کون سی غیر ملکی ٹیم کابل میں آکر افغان ہوم سیریز کھیل سکتی ہے۔ابھی کوئی بھی سیریز ان کے اپنے ملک میں نہیں ہوئی۔افغانستان ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت،عرب امارات اور دائیں ،بائیں کھیلتا آیا ہے ۔ایسا پہلی بار ہوگا کہ افغانستان اگلے سال سے اپنی ہوم سیریز اپنے ملک میں کھیلے گا اور پھر تسلسل کے ساتھ ساری سیریز وہاں ہوا کریں گی۔افغانستان کا کرکٹ کلینڈر دیکھا جائے ت تو کئی اہم ممالک کے ساتھ اس کی سیریز ہونی ہیں۔نتیجہ میں کئی ملک وہاں جائیں گے۔یہ فوری ممکن نہیں ہوگا۔پہلے افغان حکومت کا قیام ہے۔پھر حالات کا درست ہونا ہے۔پھر غیر ملکی دنیا کا اعتماد کرنا ہے۔شاید یہ سب 12 ماہ میں ہوجائے۔اسی لئے افغانستان بورڈ کو2022کے ٓآخر سے یہ سب کرنے کو کہا گیا ہے تاکہ حالات بہتر ہوسکیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.