زیادہ وقت،کم اسکور،دفاعی کھیل،فواد کی سنچری،اننگ تاخیر سے ڈکلیئر،نتیجہ کیا

0 29

کوئی سوچ سکتا ہے کہ یہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم ہے.سب کا اتفاق ہےکہ سامنے ویسٹ انڈیز کی کمزور ترین ٹیم ہے.پاکستان نے سبائنا پارک میں جس طرح دوسرے ٹیسٹ کا دوسرا سیشن کھیلا.اس کا ایک ہی نتیجہ بنتا ہے.نہیں .نہیں .سامنے بڑی ٹیم ہے.ہم محتاط کھیل کر اچھا کر گئے.حقیت میں ایسا نہیں ہے.
ڈر پوک سوچ غالب
پاکستانی ٹیم کے پاس تھنک ٹینک نہیں ہے. بہترین پلانر بھی مفقود ہے. ڈر پوک سوچ غالب ہے.حکمت عملی کا فقدان ہے.نتیجہ سامنے ہے.ایسے میں جو بھی اصل نتیجہ نکالنا ہو.نکال لیں.پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ کا دوسرا روز جب ضائع ہوگیا تو ایک ہی بات لکھی تھی.جیتنے کے 2 اور ہارنے کا سنگل پلان.قومی ٹیم دونوں پلانز کی جانب نہیں گئی.یہ بھی لکھا تھاکہ باقی ماندہ 3 روز میں ایک سیشن ضائع ہوگیا تومزید تیز کرنا ہوگا.کیا ہی اتفاق ہوا کہ اتوار کو پہلا سیشن ہی ہاتھ سے چلا گیا.اس کی تفصیل آپ جان چکے.
پہلے 12 اوورز،6رنز،ایک وکٹ کا خسارہ
کھانے کے وقفہ کے بعد تھوڑی تاخیر سے دوسرا سیشن شروع ہوا. پاکستانی بیٹسمینوں سے مزیدتیزی کی توقع تھی.وہ کیسا کھیلے؟ایسا کہ سر پیٹ لیاجائے.شروع کے 12 اوورز میں6 رنزکےعوض 1 وکٹ کھودی.اندازا کریں.سیریزمیں خسارہ ہے.وقت کی کمی ہے.6 وکٹیں ہاتھ میں ہیں.تیز دھوپ نکلی ہے.سیٹ بیٹسمین آئے ہیں.حالات یہ ہیں کہ فہیم اشرف اور محمد رضوان ایسے کھیلے جیسے کچھ بھی نہ ہو.12 اوورز میں 6رنز.ایک وکٹ کا نقصان.فہیم اشرف 26 رنزکے لئے 78 بالیں کھیل گئے.
بزدلانہ کرکٹ میں یہی ہوتا
ایسی بزدلانہ کرکٹ میں یہی ہوتا ہے.اگلے 8 اوورز میں 13 رنز بنے.محمد رضوان 31 پر چلے گئے.رضوان نے اپنے مزاج کے خلاف اس کے لئے 115 گیندیں کھیل ڈالیں.231 کے ہی مجموعہ پر نعمان علی صفر پر گئے تو پاکستان 7 وکٹ کھوچکا تھا.یہ تو بھلا ہو فواد عالم کا.انہوں نے اس کے بعد سنچری مکمل کرلی.کیریئر کی 5ویں سنچری تھی.پاکستان کو 8واں نقصان 267پر ہوا.ایک نام نہاد آل رائونڈر حسن علی ہیں.28 بالیں کھیل کر 9 بناگئے.پاکستان کا اسکور چائے کے وقفہ تک 8وکٹ پر273تھا.فواد 111 اور شاہین 4پر تھے.
پاکستان نے کھویا ہی کھویا
سیریز بچانے کا چیلنج ہے.میچ بچانا نہیں جیتنا ہے.گرین کیپس نے بچ بچا والا کھیل رچایا.کھیلنے کو 29 اوورز ملے.4 وکٹیں گنوائیں.61 اسکور بنایا.یہ 2سے معمولی زیادہ کی اوسط تھی.کیا یہ وننگ ٹریک تھا.کیا فارمولہ تھا.ڈرتے ڈرتے کھیلنے کے 2 مقاصد ہوتے ہیں.پہلا وکٹیں ہاتھ میں رکھی جائیں،اس میں ناکامی ہوئی.دوسرا جب سیٹ ہوجایا جائے تو تیز کھیلا جائے.یہاں 100 سے زائد بالیں.28 گیندیں کھیلنے والے سیٹ تو ہوگئے.تیز نہیں کھیلے.اب ایسے کھیل کا اصل مقصد کیا تھا.کوئی مصباح سے پوچھے.نتیجہ کے طور پر ٹرافی بتائے گی.
تیسرے سیشن کا کھیل
قومی ٹیم کو یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اس بار وقت اور صرف ہوگیا.کچھ اسکور بھی مل گئے.ٹیم دورے میں پہلی بار 300 کا مجموعہ دیکھنے میں کامیاب ہوئی.شاہین آفریدی نے قدرے تیز بیٹنگ کی اور 33 بالز پر 19 کرنے میں کامیاب ہوگئے.پاکستان کو 9واں نقصان 302کے مجموعہ پر ہوا.ایک بات اور دیکھنے کو ملی.سنچری کرنے والے فواد عالم نے سٹرائیک اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش نہیں کی.نتیجہ میں اسکور بھی زیادہ نہ بنا.گویا چائے کے وقفہ میں بھی انہیں بتایا نہیں گیا.کہا ہی نہیں گیا.عام طور پر ایسے حالات ہوں.سیریز بچانا ضروری ہو.3 دن کا کھیل ختم ہونے والا ہو.پہلی اننگ چل رہی ہو.سیٹ بیٹسمین سٹرائیک کا بھوکا ہوتا ہے.تیز بیٹنگ کرتا ہے.ٹیم کو بہت اچھے مقام تک لے جانے کی کوشش کرتا ہے.یہاں ایسا نہیں ہوا.
اننگ ڈکلیئر
پاکستان نے تیسرے سیشن کے 6 اوورز کھیل لئے.302 رنز 9وکٹ پر اننگ ڈکلیئر کردی.فواد عالم 124 پر ناقبل شکست گئے.17 چوکے لگائے.213 گیندیں کھیلیں.کیریبین سائیڈ سے کیمار روچ نے 68 اور جیڈن سئیلز نے 31 رنز کے عوض 3،3 وکٹیں لیں.جیسن ہولڈر نے 46 رنز دے کر 2 آئوٹ کئے.9ویں کھلاڑی حسن علی رن آئوٹ ہوئے.ویسٹ انڈیز کو 29 اوورز کا وقت ملا.خراب روشنی کے باعث میچ نے پہلے ہی ختم ہوجانا ہے.
دن بھر پاکستان نے کیا کیا
اب اننگ دکلیئرکرنے پڑ گئی.یہی کچھ 24 گھنٹے قبل لکھا تھا کہ پاکستان ویسٹ انڈیز کو کھلائے گا،اس سے قبل خود کم سے کم 4 کی اوسط سے اسکور کرے اور 380 کے قریب جائے.اننگ تو ڈکلیئر کردی.نتیجہ کیا پایا.36 اوورز کھیلے.90 اسکور بنائے.5وکٹیں دیں.یہ اڑھائی کی اوسط بنتی ہے.مایوس کن ہے،دفاعی کھیل ہے اور جیتنے کی راہ نہیں ہے.
باقی ماندہ وقت سے کیا توقع
جو کرنا تھا،کردیا.پاکستانی بائولرز نئی بال،شام کے وقت میں فائدہ اٹھاسکتے ہیں؟کم سے کم 4وکٹیں لے لیں تو چوتھے روز امید بن سکتی ہے.چوتھے روز ویسٹ انڈیز اگر آدھا دن بھی گزار گیا تو بھی پاکستان کو 100کے آس پاس کی برتری ہوگی.اس کے بعد اسے دوسری اننگ میں 150اسکور درکار ہونگے .ویسٹ انڈیز کو آئوٹ کرنے کے لئے 2 سے زائد سیشن کی ضرورت ہوگی.یہ سب پلاننگ کےساتھ ممکن ہے.اٹیکنگ سوچ چلے گی تو علم ہوگا.صورتحال اگلے 90منٹ میں واضح ہوجائےگی.پاکستانی بائولرز نے اگر نتیجہ نہ دیا تو آج کی قومی بیٹنگ پر کڑا سوال ہوگا.36 اوورز کے کھیل میں 5 وکٹ کے عوض 90 رنزبناکر کیا کیا؟کس بات کی بنیاد رکھی.کدھر جانے کا ارادہ کیا.جس وقت یہ سطور لکھی جارہی تھیں.پاکستانی بائولر اسٹارٹ لینے کی تیاری میں تھے.عباس سے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگ جیسی 2 وکٹوں کی امیدیں تھیں.
یہ بھی دلچسپی میں اپنی مثال آپ ہوگی
مصباح اور بابر کے چہروں پر ہوائیاں کیوں،تیسرے دن کا کھیل ڈرامہ کے بعد آخر شروع

Leave A Reply

Your email address will not be published.