رمیز راجہ کا اثر واضح،چیف سلیکٹر کے قہقہے،ٹیم منیجمنٹ اغوا ہوگئی

0 22

رپورٹ : عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعلان ہوگیا۔نیوزی لینڈ،انگلینڈکے خلاف سیریز کے ساتھ ورلڈ ٹی 20 کے لئے یہی اعلان کردہ پلیئرز کھیلیں گے۔اس کے حوالہ سے کرک سین تفصیلی خبر دے چکا ہے۔یہاں کچھ سائیڈ سٹوری کے ساتھ ساتھ کرک سین خصوصی تبصرہ پیش کرے گا۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈراپ پلیئر آصف علی کی اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔اسی طرح اعظم خان کی موجودگی پر سوالات اٹھے ہیں۔شر جیل خان کے ڈراپ کئے جانے پر سخت رد عمل آیا ہے۔سرفراز احمد کل تک ریزرو وکٹ کیپر تھے۔آج باہر نکل گئے ہیں۔اعظم خان ہی دوسرے وکٹ کیپر بنادیئے گئے ہیں۔

اگلے چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کا اثر

چیف سلیکٹر محمد وسیم کی ٹیم دیکھی جائے تو صاف لگتا ہے کہ آنے والے نئے چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کی چھاپ ٹیم پر لگی ہے۔جن پلیئرز کو وہ تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔وہ ڈراپ ہوگئے ہیں۔جن کی تعریف کیا کرتے تھے۔وہ سلیکٹ کر لئے گئے ہیں۔اس حوالہ سے جب محمد وسیم سے براہ راست پوچھا گیا تو انہوں نے صاف اعتراف کیا ہے کہ یہ ٹیم رمیز راجہ سے شیئر کی گئی ہے۔اب سوال ہوگا کہ رمیز راجہ کا انتخاب 13 ستمبر کو ہونا ہے،ان سے کس حیثیت سے مشاورت کی گئی ہے اور پھر ان کی من چاہی ٹیم کیوں مبنتخب کی گئی ہے،یہ حیران کن باتیں ہیں۔

محمد وسیم کو کس بات پر ہنسی آگئی

چیف سلیکٹر محمد وسیم ٹیم کا اعلان کرتے وقت ماضی کی طرح پر اعتماد نہیں تھے۔پہلے جب بھی ٹیم منتخب کی ہے۔بڑے اعتماد کے ساتھ بات کیا کرتے تھے۔اس بار صاف لگا ہے کہ وہ صرف ذمہ داری نبھارہے تھے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ نیا بورڈ آرہا ہے۔کیا چیف سلیکٹر کے طور پر ان کا آخری فریضہ ہے۔محمد وسیم کا اس بات پر قہقہ نکل گیا۔کافی دیر تک ہنستے رہے۔پھر انہوں نے کہا ہے کہ مستقبل کا کسے علم۔ابھی میرا جو کام ہے کر رہا ہوں۔مجھے کہا جائے گا کہ کام کرنا ہے تو کروں گا۔کہا جائے گا کہ چھٹی کرو۔میں گھر چلا جائوں گا۔اس پر سب مسکرا پڑے۔

ٹیم منیجمنٹ کون

پی سی بی نے پاکستان اسکواڈ کے اعلان کے ساتھ ٹیم منیجمنٹ کا اعلان نہیں کیا ہے۔اس سے شبہات جنم لینے لگے ہیں۔پی سی بی نے ایک جملہ بولا ہے کہ اس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔سوال یہ ہے کہ کیوں؟ اس کا اعلان بعد میں کیوں ہوگا۔ابھی کیوں نہیں کیا گیا۔اس کا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے اور ورلڈ ٹی 20سے قبل ہی بہت کچھ بدلا جاسکتا ہے اور یہ حیران کن بات ہوگی۔اس طرح ہیڈ کوچ مصباح الحق اور وقار یونس پر ابھی سے تلوار لٹک گئی ہے اور یہ حیران کن بات اس لئے ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سر پر ہے۔پھر میگا ایونٹ بھی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ پی سی بی نے ٹیم منیجمنٹ اغوا کرلی ہے۔

پاکستان اسکواڈ میں غلطیاں

آصف علی ،اعظم خان کی سلیکشن کس بنیاد پر کی گئی ہے۔یہ سوال اپنی جگہ کھڑا ہے۔بابر اعظم کو کپتان اور شاداب خان کو نائب کپتان رکھا گیا ہے۔نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی 20 سیریز اور انگلینڈ کے خلاف 2 میچزکے لئے ٹیم میں یہی لوگ ہونگے۔یہ ایک رسکی بات ہے۔ورلڈ ٹی 20 کھیلنے والے 15 پلیئرز ہی اگر یہ 7 میچ کھیل گئے۔پھر عرب امارات مین کوئی مسئلہ ہوا تو بیک اپ کیا ہوگا۔آج کے متبادل پلیئرز کیا پھر فرنٹ فٹ پر ہونگے۔پی سی بی نے یہ غلط روش اپنائی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.