حفیظ اور پی سی بی،بھارت اور انگلینڈ،کیا ہونے جارہا،پاکستانی آل رائونڈرکی کامیابی کا راستہ یہ

0 98

تجزیہ : عمران عثمانی

یہ بات تو اب سوال سے آگے نکل گئی۔گزشتہ رات کرک سین نے اپنے تجزیہ میں واضح لکھا تھا کہ مانچسٹر ٹیسٹ کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی۔ڈرامہ کیسا چلا۔اب تو جواب میں انگلش پلیئرز نے بھی توپ چلادی ہے ۔آئی پی ایل کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔یہی نہیں انگلینڈ بورڈ نے آئی سی سی کو خط بھی لکھ ڈالا ہے کہ مانچسٹر ٹیسٹ کے سٹیٹس کا وہ فیصلہ کرے۔کرک سین نے 24 گھنٹے قبل ساری سٹوری نتائج اور متوقع اقدامات کے ساتھ پہلے ہی بریک کردی تھی۔اب اس سے آگے کی جانئے اور دھیان رہے کہ ایسا ہی ہونے جارہا ہے۔

آئی سی سی کا متوقع فیصلہ

انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کی کمیٹی دونوں ممالک کو اس بات پر لانے کی کوشش کرے گی کہ یہ میچ باہمی محبت کے ساتھ ری شیڈول کرلیں۔ایسے میں انگلینڈ اپنے اب کے 40 ملین پائونڈز کے نقصان کو نہیں بھولے گا۔اس لئے یہ بات طے ہے کہ کمیٹی کی بیٹھک بھی دھماکا خیز ہوگی۔آئی سی سی کا بھارتی ٹیم کے خلاف فیصلہ آنا بھی آسان امر نہیں ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پہلی ترجیح درمیانہ راستہ ہے۔ای سی بی سے بھولنے والا نہیں ہے۔اس کے میڈیا،سابق کرکٹرز کا شدید دبائو ہے۔یہی نہیں موجودہ ٹیم بھارت سے سخت ناراض ہے۔اسی وجہ سے آئی پی ایل سے دوری کا آغاز ہوچکا ہے۔یہاں ایک بات بریکنگ نیوز ہوگی۔آئی سی سی نے اگر انصاف کے مطابق فیصلہ کیا تو انٹر نیشل،خاص کر ٹیسٹ کرکٹ کی بقا کے لئے اچھا ہوگا۔حسب سابق لیپا پوتی کی۔اس میں انگلینڈ نے بھی معاون بننے کی کوشش کی تو پھر ٹیسٹ کرکٹ کامستقبل اتریک سمجھیں۔یہی نہیں بلکہ انٹر نیشنل کرکٹ کو فیوچر بھی تباہ سمجھیں۔پھر صرف ڈومیسٹک لیگ اہم رہ جائیں گی،اس کا رونا گزشت کئی سالوں سے رویا جارہا ہے۔ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔کرکٹ گلوبل باڈی کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ درست سٹینڈ لے کر ایک بار انٹر نیشنل کرکٹ کے وقار میں فیصلہ دے۔

آئی پی ایل کتنا متاثر

آئی پی ایل سے پاکستان پہلے ہی آئوٹ ہوچکا ہے۔اب انگلینڈ کے پلیئرز 50 فیصد تک بھی نکل گئے تو بڑا دھچکا ہوگا۔اگلے معاہدوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونگے۔گلوبل باڈی نےا گر اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تو پھر یاد رکھیں کہ انفرادی سطح پر کچھ ممالک انگلینڈ اور کچھ بھارت کے قریب ہونگے،ایسے میں نئی صف بندی ہوگی اور نئے محاذ کھلیں گے۔انگلینڈ کا آئی سی سی کے پاس جانا،اسے جلد فیصلے کا کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ زخم نہایت ہی گہرے ہیں اور کرک سین کا 24 گھنٹہ پرانا تجزیہ 1000فیصد درست ہے۔اب سے ٹائٹ شیڈول کی آڑ میں لے کر معاف نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے کہ یہ شیڈول ترتیب ہی کس نے دیئے اور ایسے ٹائٹ کس لئے سیٹ کئے۔

ایک اور جنگ،ایک اور محاذ

انٹر نیشنل سطح پر ڈرامہ چل رہا ہو۔پاکستان میں کچھ نہ ہو۔یہ ہونہیں سکتا۔تازہ ترین خبر کے طور پرکٹا کھلا ہے۔محمد حفیظ کو ویسٹ انڈیز سے جلد طلب کرنے پر فلم شروع ہوچکی ہے۔نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی 20 اسکواڈ میں شامل حفیظ کو آج 12 ستمبر تک واپس آنے اور بائیو سیکیور ببل جوئن کرنے کا کہا گیا ہے۔اسی لیگ میں شامل پاکستان کے دیگر کرکٹرز کو 17 ستمبر تک کی چھوٹ ہے۔حفیظ کا سوال یہ ہے کہ مجھے کیوں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اب ان کے پاکستان اترنے کے فوری بعد ان کی جانب سے سخت پریس کانفرنس یا انٹر ویو دیئے جانے کی پیش گوئیاں کی جارہی ہیں۔کل کا کسی پتہ۔نتیجہ میں یہ سوچنا آسان ہے۔اس پر عمل درآمد مشکل ہے۔پی سی بی انتظامیہ بھی موجود ہے اور لیپا پوتی ،مصلحت کے لبادے لے کر پہنانے والے بھی کافی ہیں۔حفیظ کا بولنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔پی سی بی کوڈ آف کنڈیکٹ لگائے گا۔کہے گا کہ حفیظ کی عمر زیادہ ہے۔احتیاطی تقاضا تھا۔عماد وسیم شروع کے 3میچزکے پلان میں نہیں تھے۔حفیظ کو تمام 5 میچز کھلانا تھے۔وغیرہ۔

حفیظ کے لئے بہتر راستہ کیا

پاکستان کے تجربہ کار کرکٹر نے اگر یہاں آکر نئی جنگ شروع کی تو یا خود ٹیم سے باہر ہونگےیا کردیئے جائیں گے۔دونوں صورتوں میں نقصان کس کا ہوگا۔ریٹائرمنٹ لیں گے۔نئے چیئترمین رمیز راجہ کو پی سی بی ٹاپ سیٹ کا عہدہ سنبھالنے کے روز انہیں ایک تمغہ دیں گے۔بطاہر سراہے جائیں گے۔نقصان کسے ہوگا۔اس سے بہتر ہے کہ صبر کرلیں۔خاموشی اختیار کرلیں۔ورلڈ ٹی 20 میں پاکستان کو فرنٹ فٹ سے لیڈ کرتے دکھائی دیں۔فیلڈ میں ایسے ایکتو دکھائی دیں کہ جیسے پس منظر کے کپتان یہ ہوں۔بیٹ سے ایسا غصہ نکالیں جو گزشتہ سال نکالا تھا۔پاکستان اور پنے کیریئر کے اس موڑ پر اپنے لئے وہ کرجائیں کہ دنیا ہمیشہ یاد رکھے۔اس کے بعد جو کچھ کہنا ہو۔کہدیں۔سراہے جائیں گے۔ہیرو بنیں گے۔ہمیشہ کے لئے تاریخ کا سنہرا باب بن جائیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.