بھارتی ٹاپ آرڈر کی زبردست مزاحمت،اوول ٹیسٹ میں نیا موڑ

0 29

لندن سے کرک سین رپورٹ

اوول ٹیسٹ میں ڈرامائی موڑ،میچ نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل،انگلش کیمپ کے لئے تھوڑی پریشانی بڑھ گئی۔بھارتی کرکٹ ٹیم ڈرائیونگ سیٹ پر آگئی ہے۔اگر کسی کو یاد ہو تو اسی میچ کے ٹاس کے فوری بعد کرک سین نے انگلش کپتان کے فیصلے پر ایک عنوان قائم کیا تھا۔آپ کی یاد دہانی کے لئے یہں اس عنوان کا ذکر ضروری ہے۔کرک سین نے لکھا تھا کہ اوول ٹیسٹ میں ٹاس انگلینڈ کا،فیصلے میں غلطی۔غلطی یہ کہ چوتھی اننگ میں اگر انگلینڈ کو بیٹنگ کرنی پڑگئی تو اسپت ہوتے ٹریک پر ہدف مشکل ہوجائے گا اور ایسا اب ہونے جارہا ہے۔

تیسرے روز کا احوال

بھارت اور انگلینڈ کے درمیان 5 میچزکی سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز بھارتی بیٹنگ کھڑی ہوگئی۔پورے دن میں اس نے صرف 3 وکٹیں گنوائیں اور اپنے ٹوٹل کو اتنا اونچا کردیا ہے کہ اب 99 رنزکا خسارہ بھی برا نہیں لگ رہا۔ہفتہ کو کھیل کے اختتام پر ویرات کوہلی الیون نے 3 وکٹ پر 270 اسکور بنالئے تھے۔اب اس کی برتری 171 رنزکی ہوگئی ہے اور 7 وکٹیں باقی ہیں۔میچ میں مکمل2 دن رہ گئے ہیں۔ویرات کوہلی وکٹ پر موجود ہیں اور جب تک وہ ہیں،انگلینڈ کی پریشانی دیکھنے لائق ہوگی۔ایک سنچری بھی بنوائی گئی ہے جو ان حالات میں نہایت یادگار ہوگئی ہے۔انگلش پیسرز اور اسپنرز بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔

پہلا سیشن امید ونا امید میں

انگلش بائولرز نے جب دن کا آغاز کیا تو امید تھی کہ نئی صبح فائدہ ہوگا۔اس کا تھوڑا اثر اس وقت ہوا جب 83 کے مجموعہ پر اسے پہلی کامیابی مل گئی۔کے ایل راہول46 رنزبناکر جمی اینڈرسن کا شکار بنے ۔نتیجہ پھر بھی اچھا نہ رہا کیونکہ بھارت نے حریف بائولرز کو ناامید کردیا۔اس کا سہرا روہت شرما کے سرجاتا ہے۔کھانے کے وقفہ پر مزید کوئی وکٹ نہ گری اور اسکور 1 وکٹ پر 108 تھا۔

دوسرا سیشن مایوسی میں

انگلش ٹیم کے لئے دوسرا سیشن نہایت مایوس کن تھا۔ایک بھی کامیابی نہ ملی اور اسکور 199 ہوگیا۔یہ انگلینڈ اور اس کی عوام نے نہیں سوچا تھا۔روہت شرما اپنی سنچری مکمل کرچکے تھے اور یہ نہایت خطرناک الارم تھا کیونکہ وہ پوری سیریزمیں ناکام جارہے تھے۔ان کا بھر پور ساتھ چتشور پجارا دے رہے تھے۔یہ اس لئے بھی اہم بات تھی کہ انگلش ٹیم کی برتری ختم ہوئے بڑی دیر ہوچکی تھی اور اب بریک تھرو کی سخت ضرورت تھی۔

آخری سیشن میں 2 کامیابیاں لیکن

بال کی تبدیلی کے ساتھ ہی گویا انگلش بائولرز میں جان آگئی۔نئی بال پر پہلی ہی ڈلیوری میں سیٹ بیٹسمین روہت شرما کی بڑی وکٹ مل گئی۔یہ اعزاز رابنسن کو ملا جن کی بال پر کرس واکس نے کیچ پکڑا۔روہت شرما256 بالز پر 127کرنے میں کامیاب ہوئے۔بھارت کا اسکور اس وقت236 تھا۔اس طرح دوسری وکٹ کی شراکت میں بننے والے 153 رنز کو اسٹاپ لگا۔اسی اوور کی آخری بال پر رابنسن نے دوسرے سیٹ بلے باز چتشور پجارا کاشکار کرلیا،ان کا کیچ معین علی نے لیا۔وہ 127 بالز کھیلنے کے بعد 61کی قیمتی اننگ کھیل گئے۔

نئی بال سے 11 اوورز کا حملہ پسپا

انگلش بائولرز کو امیدیں تھیں کہ نئی بال سے 2 سیٹ بیٹسمین شکار ہوگئے۔اب دن کے اختتامی لمحات میں وہ مزید وکٹیں لیں گے۔ایسا نہ ہوسکا۔ویرات کوہلی نے نہایت سجھداری سے اوورز کھیلے۔رویندرا جدیجا نے بھی33 بالیں کھیل لیں،اگر چہ صرف 9 رنزبنائے لیکن وکٹ بچانے میں کامیاب رہے۔کوہلی نے37 بالز پر 22 رنزکے ساتھ اچھی کامیاب مزاحمت کی۔کم روشنی کے باعث کھیل جب پہلے ختم ہوا تو بھارت کا اسکور 3 وکٹ پر 270 تھا۔171کی سبقت اس کی جیب میں تھی۔7 وکٹیں ہاتھوں میں ہیں۔اولی رابنسن 67 رنز دے کر 2 اور جمی اینڈرسن 49رنزکے عوض ایک وکٹ لینے میں کامیاب ہوسکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.