بطور کپتان کون بڑا،آئی سی سی کا عمران خان کاکوہلی ودیگر سےمتنازعہ موازنہ،فیصلہ فینز پر چھوڑدیا

عمران عثمانی
Image By Twitter/ICC
انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم اور سابق کپتان عمران خان کو عظیم کپتان اور فتح گر لیڈر کہا ہے لیکن ساتھ ہی ایک ایسا سوال کیا ہے کہ جس میں مطابقت موجود نہیں اور نہ ہی اصل فارمیٹ کے اعدادوشمار موجود ہیں۔
آئی سی سی نےکرکٹ ورلڈ کپ 1992 کی فتح کا بطور خاص ذکر کیا ہے اور بطور کپتان انکی کارکردگی کی ایک جھلک بھی پیش کی ہے۔آئی سی سی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ آخر کار 1992ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان ہی تھے۔آئی سی سی نے اپنے ٹیگ میں کرکٹ ورلڈ کپ فتح کو شامل کیا ہے لیکن ساتھ ہی شیئر کی جانے والی تصویر میں عمران خان کی ٹیسٹ پرفارمنس کا 2اعتبار سے ذکر کیا ہے،ایک وہ پرفارمنس دکھائی ہے جس میں وہ بطور کھلاڑی کھیل رہے تھے اور ایک وہ پرفارمنس کہ جس میں وہ بطور کپتان کھیلے ہیں۔
آئی سی سی کے دیئے گئے اعدادوشمار کے مطابق جب وہ کپتان نہیں تھے اور بطور کھلاڑی ٹیسٹ کھیلا کرتے تھے تو ان کی بیٹنگ اوسط ساڑھے 25 سے بھی کم تھی۔کسی بھی آل رائونڈر کے لئے شاید یہ کافی ہو لیکن بڑے آل رائونڈر کے مطابق نہیں تھی،اسی طرح بائولنگ میں وہ ساڑھے 25 سے زائد کی اوسط سے وکٹیں لے رہے تھے اور یہ پرفارمنس بری ہر گز نہیں تھی لیکن دیگر ہم عصر بائولرز سے مہنگی تھی۔
آئی سی سی کے مطابق عمران خان جب ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بنے تو ان کی پرفارمنس میں نکھار آگیا اور دونوں شعبوں میں انہوں نے کلاس دکھائی اور شاندار مثال پیش کی۔کپتان کے طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں ساڑھے 52 کے قریب کی اوسط سے اسکور بنائے اور 20 کی اوسط سے ٹیسٹ وکٹیں اپنے نام کیں۔
آئی سی سی نے ویرات کوہلی کی بھی بطور کپتان کارکردگی کی جھلک دکھائی،انہوں نے عام کھلاڑی کی حیثیت سے ون ڈے کرکٹ میں 51 اور بطور کپتان 74کے قریب کی اوسط سے بلے بازی کی ہے۔اے بی ڈی ویلیئرز کی اوسط 46 اور64 کے قریب رہی ،یہ بھی ون ڈے کی تاریخ ہے۔آسٹریلیا ویمنز ٹیم کی کپتان میک لیننگ کی ون ڈے اوسط بطور کھلاڑی44 اور بطور کپتان 61کے قریب رہی ہے۔
آئی سی سی کے مطابق کپتانی نے کچھ کھلاڑیوں کی پرفارمنس میں نکھار پیدا کیا ہے ،انہوں نے اپنی اوسط میں کمال بہتری پیدا کی ہے ۔
آئی سی سی نے اپنی آخری ٹویٹ میں کرکٹ شائقین سے کہا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ کون سا قائد بطور کپتان اپنی پرفارمنس میں نکھار لایا ہے۔
کرک سین اس چارٹ میں عمران خان کے مدمقابل کھلاڑیوں کے قد کاٹھ و دیئے گئے سوال میں کوئی مطابقت نہیں سمجھتا،اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف ایک آل رائونڈ کارکردگی کا تذکرہ ہے تو دوسری جانب صرف ایک شعبہ یعنی بیٹنگ کی پرفارمنس موجود ہے،یہاں جھول ہے،برابر کی ٹکر نہیں بنتی۔
دوسری جانب کرکٹ کا اصل فارمیٹ ٹیسٹ کرکٹ کو سمجھا جاتا ہے ،عمران خان کی کارکردگی ٹیسٹ کرکٹ کی ہی پیش کی گئی ہے لیکن حریف کپتانوں کی ون ڈے پرفارمنس کا ذکر ہے اور یہ بھی دیئے گئے سوال سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں