آسٹریلیا اور جنوبی افریقا سے 2 نئے کوچز،دونوں ٹی20 سے آئوٹ،کوچنگ سے نابلد،ایک کم عمر،ہوش ربا حقائق

0 107

تجزیہ : عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نومنتخب چیئرمین رمیزراجہ ایک جانب یہ اعلان کر رہے ہیں کہ وہ کلیئر سوچ کے ساتھ رائٹ ڈائریکشن پر فیصلے کرنے آئے ہیں اور ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان کرکٹ کا جی پی سسٹم خراب ہے۔اسے درست جگہ لگانا ہے۔یہ بھی کہتے ہیں کہ رائٹ جاب فار دا رائٹ پرسن۔باتیں بہت ہی پیاری ہیں۔انمول ہیں۔بات یہ ہے کہ فیصلے اور نتائج ان کے ویژن کی عکاسی کریں گے۔انہوں نے پی سی بی چیئرمین کے طور پر جو سب سے بڑی خبر جاری کی۔وہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ غیر ملکی کوچز کی تعیناتی تھی۔ورلڈ ٹی 20 کے لئے ایک کوچ انہوں نے آسٹریلیا سے لیا ہے۔دوسرا کوچ جنوبی افریقا سے ہے۔ایک بیٹسمین ہے تو دوسرا فاسٹ بائولر۔کرک سین یہاں مختلف زاویوں سے یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کرے گا کہ کیا رائٹ جاب کے لئے درست افراد منتخب کئے گئے ہیں۔

ٹی 20 کرکٹ میں آسٹریلیا کا ریکارڈ

آپ جب کسی بھی ملک کے کھلاڑی کو بطور کوچ منتخب کرتے ہیں تو چند باتیں اہم ہوتی ہیں،جن سے آپ متاثر ہوتے ہیں۔کسی ایک اسپیشلٹی کی وجہ سے اس کا انتخاب ہوتا ہے۔ٹاپ پرفارم ملک کو اہمیت ملتی ہے۔پھر اس کے ٹاپ پرفارمر کو دیکھا جاتا ہے۔پھر اس کی اپنی اسکلز پرکھی جاتی ہیں اور پھر اس کی کوچنگ کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔پھر ہی انتخاب ہوتا ہے۔اب چونکہ ورلڈ ٹی 20 ہے۔تیز فارمیٹ ہے۔اس میں سب سے قبل آسٹریلیا کی اپنی ٹیم کا قد کاٹھ دیکھتے ہیں۔انتہائی افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ کرکٹ کے مختصر فارمیٹ میں آسٹریلیا کا ریکارڈ مثالی نہیں ہے۔اب تک اس نے جو 146 ٹی 20 انٹر نیشنل میچز کھیلے ہیں۔73 جیتے ہیں تو اس کے قریب 68 میچز ہی ہارے ہیں۔گویا ففٹی ففٹی پرسنٹیج ہے۔اس سے اچھی پرفارمنس نیوزی لینڈ،انگلینڈ حتیٰ کہ خود پاکستان کی ہے۔یہ واضح ہوا کہ ایک ایسے ملک کے کرکٹر کا انتخاب کیا گیا ہے جس کا اس فارمیٹ میں اپنا کوئی قابل ذکر ریکارڈ نہیں۔اس ملک کا کوچ پاکستانی بیٹنگ لائن کو سکھائے گا۔

ورلڈ ٹی 20 میں آسٹریلیا کی کارکردگی

اس سے آگے بڑھیں ۔ورلڈ ٹی 20 کی کتاب کھولیں۔اس میں دیکھیں کہ کیا ہے۔ورلڈ ٹی 20کی تاریخ میں آسٹریلیا نے جو 29 انٹر نیشنل میچز کھیل رکھے ہیں۔ان میں سے 16میں اسے کامیابی ملی۔اس کے قریب ہی 13میچزمیں ناکامی بھی مقدر بنی۔نیوزی لینڈ نے 30 میں سے 15جیتے اور 13ہارے ہیں۔خود پاکستان نے 34 میچزمیں سے19 جیت رکھے ہیں ۔ویسٹ انڈیز نے31میں سے 17جیتے ہییں۔سری لنکا کا ریکارڈ تو اور بھی اچھا ہے۔35میچوں میں 22 میں فتح نام کی اور صرف 12 میں شکست ہوئی۔آسٹریلیا کا ریکارڈ اس باب میں بھی اعلیٰ نہیں ہے۔پاکستان ایک بار ٹی 20 چیمپئن بنا ہے۔آسٹریلیا کبھی نہیں بن سکا۔پاکستان نے زیادہ بارناک آئوٹ مراحل تک رسائی پائی۔آسٹریلیا اس سے پہلے ہی باہر ہوتا رہا۔سوال ہے کہ ٹی 20 انٹر نیشنل ،ورلڈ ٹی 20میں آسٹریلیا کا ریکارڈ پاکستان سے بد تر ہے۔ایسے میں اس ملک کے کھلاڑی کا انتخاب کیوں ہوا۔

میتھیو ہیڈن کا بطور کرکٹر کوئی طویل ٹی 20 ریکارڈ نہیں

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے بیٹسمین میتھیو ہیڈن کا ٹی20 انٹر نیشنل کیریئر مختصر ہے۔9میچزمیں 308 اسکور 51کی اوسط سے بنائے ہیں۔سٹرائیک ریٹ 143 ہے۔103 ٹیسٹ اور 161 ایک روزہ میچز کا تجربہ ضرور ہے۔14800 کے قریب اسکور بنائے ہیں۔50 سالہ ہیڈن کا ٹی 20 کیریئر 2005سے 2007 تک کا ہے۔ٹیسٹ کیریئر1994سے 2009 اور ون ڈے کیریئر 1993 سے 2008 تک کے درمیان کا ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ جدید کرکٹ کے کھلاڑی کیسے ہوگئے۔پھر بطور کوچ ان کا پروفائل قابل ذکر نہیں ہے۔اس طرح یہ پوائنٹ بھی ان کے حق میں نہیں جاتا۔یہ کہنا کہ آسٹریلین جارحیت سے کھیلتے ہیں ،عجب بات ہے۔نتائج کہاں ہیں؟دراصل وہ جارحیت سے نہیں بلکہ تھوڑے اور انداز میں کھیلتے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو یاد رکھنا چاہیے تھا۔

ٹی 20 کرکٹ میں جنوبی افریقا کہاں

اسی طرح ایک اور ملک جنوبی افریقا ہے۔اس کا بھی ایک کوچ بائولرز کے لئے لیا گیا ہے۔ٹی 20 انٹر نیشنل میں جنوبی افریقا کاریکارڈ اچھا ہے۔اس نے اوو آل اپنی برتری ثابت کر رکھی ہے۔پھر بھی پاکستان سے اچھا ریکارڈ نہیں ہے۔141 میچز میں سے 80 جیتے ہیں تو 59میچزمیں ناکامی بھی مقدر بنی ہے۔وننگ اوسط کم ہے۔اس لئے یہ کہنا کہ ایک ایسے ملک کا کوچ لیا جائے جس کا اپنا قد اس فارمیٹ میں اچھا ہے۔زیادتی ہوگی۔

ورلڈ ٹی 20 میں پروٹیز کہاں تک پہنچ پائے

پروٹیز کے میچزکی بات کی جائے تو ورلڈ ٹی 20 میں پرفارمنس بری نہیں رہی۔30میچز میں سے وہ 18 جیتے ہیں ۔12میں ان کو ناکامی ہوئی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ وہ بھی کبھی ورلڈ ٹی 20 چیمپئن نہیں بن سکے۔مزے کی بات یہ ہے کہ انہیں بڑے ایونٹ کا چوکرز کہا جاتا ہے۔جس ٹیم کے کھلاڑی خود اپنی نبض کو کنٹرول نہ کر پائیں۔وہ دوسرے ملک کے کرکٹرزکے لئے کیامعاون ہونگے۔ان کے لئے کیسے حوصلے کا سبب بنیں گے۔یہ ٹیم چیمپئن تو کیا کبھی فائنل نہیں کھیل سکی۔یہ سائیڈ آئی سی سی کا کوئی ایونٹ تاحال اپنے نام نہیں کرسکی۔

ویرنن فلینڈر کا اپنا کیریئر کیا

کمال ہوگئی ہے۔36 سال اور 83دن کے پیسر ویرنن فلینڈر زندگی میں پہلی بار کوچ بنبے ہیں۔وہ بھی پاکستان کے۔36 سال کے بائولرٹی 20 فارمیٹ میں پاکستانی بائولرز کی کوچنگ کریں گے۔ایک اور کمال یہ ہوگئی ہے کہ جنوبی افریقا کی تیز اور بائونسی پچز پر بال کرنے والے عرب امارات کی کنڈیشن سمجھیں گے اور سمجھائیں گے بھی۔ایک اور بات تو مزیدار ہوگئی ہے کہ موصوف نے 7 ٹی 20 انٹر نیشنل میچزمیں 114 رنزکے عوض 4 وکٹیں لے رکھی ہیں اور بیٹ سے 14 اسکور بنائے ہیں۔2011 سے کیریئر شروع ہوا۔2020تک ٹیسٹ کرکٹ کھیلے۔64میچزمیں 224 وکٹیں ہیں۔2007 سے 2015کے درمیان 30 ایک روزہ میچزمیں 41 وکٹیں لیں۔اگلی بات تو اس سے بھی دلچسپ اور شاید مسکرانے والی ہوگی۔پاکستان کے بائولنگ کوچ ویرنن فلینڈر نےٹی 20 کا ڈیبیو ستمبر 2007میں کیا۔کرکٹ جنوبی افریقا نے ان کی نااہلی 90دن میں بھانپ لی۔دسمبر 2007 تک مطلب اسی سال 100 دن سے پہلے پہلے ان کے ٹی 20 انٹر نیشنل کیریئر پر فل سٹاپ لگادیا۔اس کے بعد وہ گزشتہ سال تک ٹیسٹ کرکٹ تو کھیلتے رہے۔ٹی 20کے قابل ہی نہ جانا گیا۔ایک روزہ کرکٹ چھوڑے بھی 6 سال ہوگئے۔یہ جدید کرکٹ کے کوچز ہیں؟یہ کیسے کوچز ہیں جن کے اپنے کیریئر کے یہ حالات ہیں۔وہ پاکستان جیسی ٹیم کی کیا کوچنگ کریں گے۔

سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کے چیئرمین رمیز راجہ نے غیر ملکی کوچز لانے ہی تھے۔ایسا لگتا ہے کہ عجلت میں جو ملے ،آگئے۔ان کے کیریئر سامنے ہیں۔یہ طویل فارمیٹ کے اچھے بائولر اور بیٹسمین ہیں۔ایسا ہر گز نہیں ہے کہ سالہا سال قبل یہ فارمیٹ چھوڑنے والے اور طویل فارمیٹ کھیلنے والے ٹی 20 میں اچھے کوچ بن سکیں۔پھر 36 سالہ فیلنڈر کا کوچنگ میں کیا ریکارڈ ہے۔آخر کیا سوچ کرلایا گیا ہے۔کیا یہ بہترین جاب کے لئے بے مثال تقرری ہے؟سوال کا جواب آپ دیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.