اوول ٹیسٹ،انگلینڈ نے 368 رنز کا چیلنج قبول کرلیا،پر اعتماد آغاز،آخری روز گھمسان کا رن متوقع

0 29

عمران عثمانی کے خصوصی تجزیہ کے ساتھ میچ رپورٹ

یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ٹیسٹ میچ جیتنے اور سیریز اپنے نام کرنے کے لئے 368 رنزبنانا۔چوتھی اننگ ہو۔وکٹ مشکل ہورہی ہو۔اسپنرز کی صلاحیتیں نکھرنی والی ہوں،ایسے میں اتنے بڑے ہدف کا تعاقب آسان نہیں ہوگا۔انگلینڈ کو یہ ہدف مل گیا ہے۔بھارت نے اسے مجبور کیا ہے کہ وہ چوتھی اننگ میں آئے۔ہدف کے لئے کھیلے اور جیتے۔اب کیا 368 رنزکی تکمیل سے فتح ممکن ہوگی؟

انگلش ٹیم کی جوابی اننگ کا خلاصہ

انگلش ٹیم نے جوانی اننگ میں بلا کی کلاس دکھائی ہے اور ایسا اعتماد دکھایا ہے کہ بھارتی بائولرز اور فیلڈرز آخر میں پریشان دکھائی دیئے۔حالانکہ ابھی بڑا مسئلہ نہیں ہوا۔رائے برنز اور حسیب حمید نے اچھا آغاز لیا ہے۔حسیب حمید کے پاس سپر ہیرو بننے کا سنہری موقع ہے۔4 برس قبل بھارت ہی میں اپنا کیریئر شروع کرکے وہ جیفری بائیکاٹ کی کاپی کہلائے تھے۔انجری اور خراب فارم کی وجہ سے باہر ہوگئے۔ایسا لگا کہ کہ کیریئر تمام ہوگیا ہو۔اتفاق سے ایک بار پھر بھارت کے خلاف کرکٹ سے واپسی ہوئی ہے۔اس بار اپنا ہوم گرائونڈ ہے۔حسیب نے اگر ایک سنچری جڑ دی اور روٹ نے اپنی سابقہ روش بحال رکھی کہ ہر ٹیسٹ میں ایک سنچری بنانی ہے تو پھر بھارت کی شکست پکی ہے اور یہ ایک ناقابل یقین بات ہوگی۔انگلینڈ نے چوتھے روز کے خاتمہ پر 77رنزبنالئے تھے اور اس کا کوئی کھلاڑی آئوٹ نہیں ہوا تھا۔حسیب حمید 43 اور رائے برنز 31 پر کھیل رہے تھے۔کل پیر کو آخری روز قریب 98 اوورز میں انگلینڈ کو جیت کے لئے مزید291 رنز درکار ہونگے۔اس کی تمام 10 وکٹیں باقی ہیں۔اسپنر تا حال بے اثر ہیں۔سیشن کے 32 اوورز میں سے جدیجہ نے 13 اوورز کئے۔وکٹ نہیں لے سکے۔اسی طرح تمام بھارتی گیند بازوں نے کوشش کی ،کامیابی نہ ملی،کوہلی ایک ریویو بھی ضائع کرگئے۔

ٹیسٹ تاریخ کے بڑے ہدف کا کامیاب تعاقب

اب تک ٹیسٹ تاریخ میں سب سے بڑا ہدف ویسٹ انڈیز نے حاصل کیا ہے۔آسٹریلیا کے خلاف اس نے 418 رنزمکمل کرڈالے تھے۔جنوبی افریقا نے آسٹریلیا کو 414رنز،آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 404 اور بھارت نےویسٹ انڈیز کو 403کے کامیاب ہدف کو مکمل کرکے ہرایا ہے۔پاکستان نے سری لنکا کے خلاف378 کا ہدف مکمل کیا تھا۔انگلینڈ کی تاریخ کو دیکھاجائے تو اس نے کبھی بھی اتنا بڑا ہدف مکمل نہیں کیا۔آسٹریلیا کے خلاف 360رنزکا ہدف وہ 9 وکٹ پر مکمل کرپایا تھا۔اس بار اس سے بڑا 368 کا چیلنج ہے۔گویا نئی تاریخ رقم ہوسکتی ہے۔اس کے لئے انگلینڈ کو ہمت دکھانی ہوگی۔

انگلینڈ کی شروعات میں اعتماد

یہ بات دیکھنے لائق ہے کہ اتوارکو اوول ٹیسٹ کے چوتھے روز کے آخری سیشن میں انگلش اوپنرز اعتماد سے اترے۔ایسا لگتا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ کی شکست سے سیکھا گیا۔انگلینڈ جب 2 سیشن میں میچ ہارگیا۔زور دفاعی سوچ پر تھا۔اس بار یہی پلان لگتا ہے کہ ہمت پوری کرنی ہے۔اس میں ایک اہم بات اور بھی ہے۔اوول پچ اب اتنی مشکل بھی نہیں رہی ہے۔انگلینڈ کے اوپنرز رائے برنز اور حسیب حمید نےکھیل کر ثابت بھی کیا ہے۔دونوں نے ہاف سنچری کی شراکت دے کر بتادیا کہ شام کے سائے اور نئی بال کوئی مسئلہ نہیں۔بھارتی اسپنرز بھی مشکل نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اوپنرز نے 32 اوورز کی لمبی بیٹنگ کر لی۔کرک سین تجزیہ کے مطابق اتنے اوورز میں 20 اسکور مزید ہونے چاہئے تھے۔اس سے ایک تو اعتماد بحال ہوتا اور 3 کے قریب کی اوسط سے ظاہر ہوتا کہ فتح کی جانب حقیقی پیش قدمی ہے۔نتیجہ میں بھارت مزید دبائو میں آتا۔

بھارتی اننگ بھی یہی ظاہر کرتی رہی

اس سے قبل چوتھے ٹیسٹ کے چوتھے روز کا جب کھیل شروع ہوا تو انگلینڈ نے پہلے سیشن میں 3 کھلاڑی ڈھیر کرکے میچ میں واپسی کرلی۔اس میں ویرات کوہلی کی وکٹ بھی تھی جو44رنزبناکر معین علی کا شکار بنے۔ان سے قبل رویندرا جدیجا 17 اور اجنکا رہانے صفر پر وکٹ دے گئے تھے۔بھارتی اننگ کے تمام ہونے کے خطرات بڑھ رہے تھے۔پھر وہ ہوا،جس کا کسی کو گمان نہ تھا۔رشی پنت اورشردول ٹھاکر نے 7 ویں وکٹ پر 100رنزکی شراکت قائم کرکے بھارت کو خطرات سے نکال دیا۔ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھادیا۔312رنز کے مجموعہ سے ان کا گٹھ جوڑ ہوا۔412 کے اسکور تک رہا۔دونوں نے ففٹیز بنائیں۔شردول نے جارحانہ بیٹنگ کی اور72 بالز پر 60 بنائے۔انہوں نے پہلی اننگ میں بھی 57 رنزکئے تھے۔رشی پنت 57 کرگئے۔جاتے جاتے امیش یادھیو 25اور جسپریت بمراہ 24رنز بٹور گئے۔بھارتی ٹیم 149 اوورز میں 466رنزبناکر آئوٹ ہوئی۔اس طرح اسے 367 رنزکی لیڈ تھی۔کرس واکس نے 3 اور معین علی،اولی رابنسن نے2،2 آئوٹ کئے۔

اوول ٹیسٹ کا مختصر خلاصہ

بھارتی ٹیم پہلی اننگ میں 191پر گری تھی۔انگلینڈ نے 290 رنزکرکے 99 کی لیڈ لی تھی۔بھارت اس سےدبائو میں نہیں آیا اور 466رنزبناگیا۔اسے 367 کی برتری ہوئی۔انگلینڈ کو 368 کا ہدف ملا۔یہ ہدف اگر کامیابی سےحاصل ہوا تو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا 10 واں بڑا کامیاب تعاقب ہوگا۔انگلینڈ کی تاریخ کا پہلا ہوگا۔بھارت پہلی بار اتنے رنزکے ہوتے ہارے گا،اس سے قبل اسے آسٹریلیا نے 340کے ہدف کا تعاقب کرکے ہرایا تھا۔اس طرح بھارت ہارا،انگلینڈ جیتا تو دونوں ضانب نئے ریکارڈز ہونگے۔انگلینڈ ہارا تو بھارت سیریزمیں ناقابل شکست ہوجائے گا اور انگلینڈ کے پاس سیریز بچانے کے لئے واحد راستہ مانچسٹر کا ٓآخری میچ جیتنا ہوگا۔اوول ٹیسٹ ڈرا بھی ہوسکتا ہے۔امکانات خاصے کم ہیں۔

اوول میں بھارت 50 سال سے ناکام

کرک سین پہلے بھی یہ رپورٹ کرچکا ہے کہ اوول میں بھارت کا ٹیسٹ ریکارڈ نہایت ہی خراب ہے۔وہ1971کے بعد یہاں ٹیسٹ میچ نہیں جیت سکا،اکلوتی فتح بھی کوئی بڑی بات نہیں ہے۔کیا یہ نصف صدی کا منفی ریکارڈ اس کا تعاقب چھوڑدے گا۔بہت مشکل ہے۔کرک سین کا مشکل ترین اور رسکی تجزیہ ہے ہے کہ انگلینڈ اب بھی میچ جیت سکتا ہے۔یہ کوئی آسانی سے نہیں کہے گا۔اب بھارت جیتا تو فتح تاریخی ہوگی۔ہارا تو ڈبل تاریخ رقم ہوگی۔اس پر تفصیلی تجزیہ کل میچ کے بعد پیش کیا جائے گا۔یہ ایک عجب شو ہوگا،انگلینڈ اب 300 رنزکی نفسیاتی گرہ سے باہر نکل گیا ہے۔291رنزکی دوری پر ہے۔ایک سیشن میں 99 رنزبنانے ہونگے۔یہ مشکل بھی نہیں۔میزبان ٹیم جانتی ہے کہ دفاعی کھیل اسے بیک فٹ پر لے جائےگا،نتیجہ میں ہار ہوسکتی ہے۔کرک سین کے مطابق کل انگلینڈ پہلے سیشن میں80 اسکور ضروبنائے گا۔دوسرے سیشن میں 90 سے 100 کے درمیان اور آخری سیشن میں 100 سے 110 اسکور بنانے کوئی مشکل نہیں ہونگے۔ٹیسٹ تاریخ کا ایک سنسنی خیز ٹیسٹ میچ کا کلائمکس ڈے آنے والا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.