انضمام نے وسیم اکرم کو کھری کھری سنادیں،مزید بڑی تبدیلیوں کا اشارہ

0 42

کرک سین اسپیشل

یہ ایک حیران کن منظر ہے،۔ایسا تاریخ میں پہلی بارہوا ہے۔جب 2 لیجنڈری کرکٹرز نے ایسے موضوع پر ایک دوسرے کے خلاف لب کشائی کی ہے۔جب پورے ملک میں موضوع گرم ہے۔یہ وہ منظر بھی نہیں ہے کہ ٹیم ہار کر آئی ہو۔یہ وہ سین بھی نہیں ہے کہ پاکستان بھارت سے عبرتناک انداز میں مار کھاچکا ہو۔ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔صرف اتنا تھا۔ورلڈ ٹی 20کے لئے ٹیم کا اعلان ہوا۔اس پر وہ کچھ بولا گیا۔لکھا گیا۔کہا گیا۔ہر جانب جیسے طوفان بدتمیزی ہو۔اس پر کئی سابق کرکٹرز بولے لیکن وسیم اکرم نے تو پاکستانی فینز،تبصرہ نگار اور تنقید کرنے والوں کو تمام ممالک کی عوام سے زیادہ بد تمیز قرار دے دیا،یہی نہیں بلکہ انہوں نے فارغ ہونے والے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور موجودہ کپتان بابر اعظم پر الزامات لگائے کہ یہ یاریاں،دوستیاں بنھاتے رہے۔اس بات کو 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ ایک اور سابق کپتان انضمام الحق نے بھی مورچہ سنبھال لیا اور تاک تاک کر وسیم اکرم سمیت سب پر وار کئے۔یہی نہیں ،انہوں نے تو اور بھی فراغت ناموں کا مطالبہ کردیا ہے۔

یاریاں نبھانے کے طعنے دینے والے پاکستان سے مخلص نہیں

سابق پاکستانی کپتان انضمام الحق کہتے ہیں کہ نیوزی لینڈ سیریز سمیت ورلڈ ٹی 20 کے لئے ٹیم کا اعلان ہوا۔پہلی بات یہ ہے کہ اسکواڈ میں ابھی بھی تبدیلی ہوسکتی ہے۔نیوزی لینڈ ٹیم آنے والی ہے۔فوکس سیریز اور ورلڈ کپ پر ہونا چاہئے۔یہاں یہ خبریں چل رہی ہیں کہ بابر اعظم کو ٹیسٹ کپتانی سے ہٹادیا گیا۔یہ خبریں کہاں سے آرہی ہیں۔کون پھیلا رہا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کون سا ٹیسٹ میچ ہونے والا ہے۔یہاں 7 ٹی 20 میچ،3 ون ڈے اور اس کے بعد ورلڈ ٹی 20 ہونا ہے تو ٹیسٹ کپتانی کدھر سے آگئی ہے۔ٹی وی پر بیٹھ کر بہت سے لوگ بولے جارہے ہیں۔کیا طبعیت ٹھیک ہے۔یہاں یہ بھی کہا گیا کہ مصباح اور بابر دوستیاں نبھاتے رہے ہیں۔یہ کیا بات ہوئی۔یہ وقت ہے۔ایسی باتوں کا۔یہ کیا ہورہا ہے؟بابر اعظم کو دبائو کا شکار کیا جارہا ہے۔ملک کے ساتھ جو مخلص ہوں،وہ ایسی بات نہیں کرسکتے۔وہ ہمارا بنیادی بیٹسمین ہے۔کپتان ہے۔ورلڈ کپ کھیلنے جارہا ہے۔اب ٹیم بن گئی۔ایک رائے سب کی آگئی،اب اس ٹیم کو سپورٹ کریں۔پنجے مت ماریں۔

انضمام الحق نے براہ راست وسیم اکرم کا نام تو نہیں لیا لیکن صاف صاف سنادیا،ان کو بھی بہت کچھ بول دیا جو حد سے زیادہ تنقید کئے جارہے ہیں۔ایسے لوگوں کو ملکی کرکٹ کا مخلص قرار نہیں دیا ہے۔

پی سی بی میں بیٹھے لوگوں کو نکالنے کا اشارہ

سابق چیف سلیکٹر کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے پیچھے رہنا چاہئے۔پھر یہ باتیں بھی آرہی ہیں کہ ٹیم رمیز راجہ نے بنائی ہے۔میرا خیال ہے کہ انہوں نے صرف رائے دی ہوگی۔انضمام نے رمیز سے ایک بڑا اور خطرناک مطالبہ کیا ہے کہ بورڈ کے لوگوں کو دیکھی جو کرکٹ چلا رہے ہیں۔ٹی وی پر صرف کھیلنے والے دکھائی دیتے ہیں۔پیچھے کام کرنے والے نظر نہیں آتے۔ان کو بھی اب بدلنے کا وقت ہے۔میں کرکٹر کے طور پر کہوں گا کہ یہاں جو لوگ بیٹھے ہیں،پالیسی بناتے ہیں۔ان کا ٹھیک ہونا ضروری ہے۔فرسٹ کلاس کرکٹ کا سسٹم ٹھیک ہونا چاہئے۔یہ ٹھیک ہوگا تو پاکستانی ٹیم میں پلیئرز اچھے آنے شروع ہونگے۔زیادہ کام اس جگہ پر کرنے کی ضرورت ہے۔سسٹم ہی اچھے پلیئرز اوپر لائے گا۔رمیز راجہ اس پر بھی کام کریں۔مجھے امید ہے کہ رمیز اس پر کام کریں گے۔

کرک سین کا ماننا ہے کہ انضمام نے اس حصے میں انکشاف کردیا ہے۔برسوں سے بورڈ میں بیٹھے پرانے لوگوں کی رخصتی کا وقت آگیا ہے۔اب مکمل نئے لوگ ہونگے۔ایسا ہوا تو یہ بھی ایک بڑا دھماکا ہوگا۔پی سی بی میں بعض پوسٹس پر ایسے لوگ بیٹھے ہیں کہ دنیا ادھر سے ادھر ہوگئی۔انہیں کوئی ہلا نہیں سکا ہے۔یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔

عامر،شرجیل اور عمر اکمل کا کیریئر ختم

جواری،فکسرز پلیئرز اب ٹیم میں نہیں آسکیں گے۔رمیز راجہ سخت ہیں۔میں ان کو جانتا ہوں۔ایسے پلیئرز کے حق میں بولنے والے بولتے رہیں۔رمیز اپناکام کریں گے اور میرا خیال ہے کہ اب ایسے پلیئرز نہیں کھیل سکیں گے۔میں مزید یہ بھی کہوں گا کہ بابر کو سپورٹ کریں۔بابر کو کیسے قابو کرنے کے لئے ٹیسٹ کی کپتانی لینے کی بات کی گئی۔ہم ون ڈٖے اور ٹی 20 کھیل رہے ہیں۔درمیان میں ٹیسٹ کرکٹ کہاں سے آگئی ہے۔

انضمام نے یہاں بھی اگر چہ کسی کا نام نہیں لیا۔ان کی مراد شرجیل خان،عمر اکمل اور محمد عامر جیسے پلیئرز ہیں،جو سپاٹ فکسنگ میں سزا کاٹ چکے ہیں۔ان میں سے عامر جس وجہ سے ریٹائر تھے ۔وہ وجہ دور ہوگئی ہے۔اس کے باوجود وہ خاموش ہیں۔جانتے ہیں کہی واپسی کا اعلان سود مند نہیں ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.