انضمام الحق کا انگلینڈ کے خلاف 2005کی سیریز میں پولیس اور پیر سے مدد لینے کاانکشاف

عمران عثمانی

پاکستان کے سابق کپتان اورورلڈ کپ 1992کے ونر کھلاڑی انضمام الحق نے اپنےدور میں انگلیند سے سیریز کے دوران پیر کی دعائوں ومدد کا انکشاف کیا ہے اور پنجاب پولیس کی اہم شخصیت اس کے لئے متحرک رہی ،امپائر ڈیر ل ہیئر کی پاک دشمنی کا بھی پردہ چاک کیا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئےکہاہے کہ میرے لئے ایک یادگار ٹیسٹ بھی ہے،تھوڑامتنازعہ بھی ہے،انگلینڈ کے خلاف فیصل آباد میں 2005میں یہ ٹیسٹ کھیلا جارہا تھا،میرے لئے اس میںا عزاز والی بات یہ تھی کہ دونوں اننگز میں سنچریزبنائیں۔
انضمام نے کہا ہے کہ جس وقت میں کھیلتا تھا تو سارے ریکارڈ ہی میاں داد کے سامنے ہوتے تھے،میرے لئے وہ بڑااہم دن تھا کہ جاوید میاں داد کی 24سنچریزکاریکارڈ توڑنا تھا،پھر پہلی اننگ میں میں نے کیریئر کی 24ویں سنچری بناکر ریکارڈ برابر کردیا،اگلی اننگ میں 25ویں سنچری بناکر ریکارڈ بہتر کرلیا،میں نے اپنے کیریئر میں ان سے بہت سیکھا،ریکارڈ توڑنے سے میاں داد چھوٹے نہیں ہوگئے بلکہ وہ بڑے ہی ہوتے ہیں۔
انضمام نے کہا ہے کہ اس میچ میں امپائر ڈیرل ہیئرسے ہمیں پرابلم شروع تھی،امپائر نے سلمان بٹ کو شارٹ رن کا کہہ کر اسکور نہیں دیا اور اسے واپس بیٹنگ کے لئے بھیجا،پھر یونس خان کومتنازعہ آئوٹ دیا،میچ ہمارے لئے اہم تھا،میں بیٹنگ کرنے آیاتو میں نے امپائر سے ملنے کا فیصلہ کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا مسئلہ چل رہا ہے۔اسی میچ میں مجھے آئوٹ بھی دیا گیاتھا،رن آئوٹ کی تھرو پر رن آئوٹ دیا گیا تھا،کافی متنازعہ باتیں ہورہی تھیں،میچ ریفری روشن ماہنامہ نے میرے اور امپائر کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ میٹنگ بھی کی تھی،اس میں میں نے کہا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اس سے پوچھیں کہ ان کو کیا مسئلہ تھا۔اس سے پہلے آسٹریلیا میں کھیل رہے تھے،ہم نے وہاں ویڈیو بنائی تھی کہ امپائرز کے 27غلط فیصلوں میں سے 23ہمارےخلاف گئے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ چیئرمین پی سی بی شہریار نے آئی سی سی کو لکھا کہ آئندہ اسے ہماری سیریز میں نہ لگایا جائے لیکن اس کے باوجود وہ آیا،2006میں انگلینڈ میں اوول ٹیسٹ کا تنازعہ بھی اسی امپائرکی وجہ سے ہوا۔
انضمام کہتے ہیں کہ 2005کے فیصل آباد ٹیسٹ سے آسٹریلوی امپائر کو ہم سے کوئی مسئلہ ہوگیا تھا،اس میچ میں ایک اور مزیدار بات بھی ہے کہ فیصل آباد کے ایک پولیس آفیسر تھے،ڈی آئی جی تھے،کرکٹ کے شوقین تھے،ایک دن وہ میرے پاس آئے کہ ہم نے ایک پیرصاحب کوبلایا ہے،پیر صاحب پڑھیں گے تو ہم جیت جائیں گے،انہوں نے ہم سے آخری دن بات کی تھی۔اس میچ میں آخری دن ہم نے انگلینڈ کو 250کے قریب کا ہدف دیا تھا،لنچ اور چائے کےدرمیان ہم نے انگلینڈ کے 4آئوٹ کردیئے تھے اور ہمیں لگ رہا تھا کہ ہم جیت جائیں گے۔
چائے کے وقفہ میں انہوں نے مجھ سے کہا کہ دیکھا پیر صاحب کا کمال،میں نے کہا کہ جی باالکل ایسا ہی ہے۔یہ ہے اور وہ ہے۔
چائے کے بعد جب ہم کھیلنے گئے تو ایک بھی آئوٹ نہیں کرسکے اور میچ ڈرا ہوگیا،گرائونڈ سے باہر آکر میں نے پولیس آفیسر سے پوچھا کہ کیا ہےیہ؟
انہوں نے کہا کہ پیر صاحب زورلگاتے لگاتے تھک گئے تھے،پس انہوں نے اب زور ہی نہیں لگایا۔
میں نے کہا کہ اچھا،ٹھیک ہے،پھر ہمارا انگلینڈ سے لاہور میں میچ تھا،پھر وہ آئوٹ نہیں ہوئے۔میں نے پوچھا کہ اب کیا ہے تو وہ بولے کہ پیر صاحب پہلے زور لگاکرتھک جاتے ہیں ،تمہارے لڑکے بعد میں زور نہیں لگاتے۔میں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔
اگلے میچ میں جب میں جانے لگا تو میچ سے پہلے میں نے کہا کہ پہلے والے 5آئوٹ میرے اور لاسٹ5یپر صاحب کے ذمہ ہونگےتو وہ ہنسنے لگ گئے کہ کیا باتیں کررہاہوں۔
انضمام کہتے ہیں کہ یہ ٹیسٹ میچ میرے لئے یادگار تھا،کئی چیزیں ہوئیں اس لئے اسے بھلا نہیں سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں