انضمام الحق بھی کر کٹ کمیٹی سے ناخوش،ٹیم سلیکشن میں پابندی کی خبریں فضول قرار،حقائق کیا

عمران عثمانی
Image By greenteam92
پاکستان کرکٹ بورڈکی کرکٹ کمیٹی اور اس کے انداز واطوار مذاق بن کر رہ گئے ہیں،حالانکہ نئے چیئرمین سلیم یوسف نے حال ہی میں چارج سنبھالا ہے اور صرف ایک ہی اجلاس کیا ہے لیکن اس ایک اجلاس کے فوری بعد اس پر تنقید بڑھتی جارہی ہے۔سوشل میڈیا صارفین سمیت سابق کرکٹرز اور مبصرین نے پہلے اجلاس کی کارروائی کو ڈارمہ قرار دیا ہے اور اب اس میں پاکستان کے 2 سابق کرکٹرز نے وزن ڈال کر صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے۔پہلے شعیب اختر بولے تھے اور آج ہی کے دن انضمام نے بھی سنجیدہ سوالات اٹھادیئے ہیں۔
شعیب اختر کے بعد سابق کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ مجھے اس ساری صورتحال کی سمجھ نہیں آرہی،ایک اجلاس کرکے اب کہتے ہیں کہ جنوبی افریقا سیریز کے بعد دوسرا اجلاس ہوگا،اس کا کیا مطلب ہوا؟ایک ہی اجلاس جنوبی افریقا سیریز کے بعد بلالیتے کیونکہ ہر سیریز کے بعد تو کوچنگ کے لئے جائزہ اجلاس نہیں بنتا،اس سے لگتا ہے کہ معاملہ میں گڑ بڑ ہے،پھر وہ افواہیں درست ہی لگتی ہیں کہ جنوبی افریقا سیریز سے قبل تبدیلی ممکن نہیں تھی اور اسے اگلی سیریز کے بعد کرنی ہے،اس لئے اجلاس بھی سیریز کے ساتھ مشروط کردیا۔
شعیب اختر کی عمران خان ،پی سی بی اور مصباح پر گولہ باری،نئے کوچ کی تقرری کا دعوٰی
انضمام کہتے ہیں کہ ویسے کمیٹی کے پاس کسی کو رکھنے یا ہٹانے کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے،وہ صرف سفارشات ہی کرسکتی ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے،مجھے اندازا ہے۔کمیٹی نے جوکچھ بھی کیا ہے ،وہ درست ہوسکتا تھا،اگر اگلی سیریز کے بعد جائزہ اجلاس کی شرط نہ لگائی جاتی تو صورتحال مشکوک نہ ہوتی،اب لگتا ہے کہ مصباح اور ان کے ساتھیوں پر تلوار لٹک رہی ہے۔مصباح،وقار،یونس اور مشتاق لیجنڈری پلیئرز ہیں،ان کی عزت نہایت ہی ضروری ہے۔اجلاس میں مصباح کے ساتھ جب وقار کو بلایا تھا تو یونس کو بھی بلالیتے،وہ بھی بیٹنگ کوچ ہیں،کوئی اچھی رائے مل جاتی۔
انضمام الحق نے ایک اور بات بھی کی ہے کہ یہاں دو ایک دن سے یہ خبریں چلائی جارہی ہیں کہ مصباح کے اختیارات کم ہوگئے،ان سے فائنل سلیکشن کی اتھارٹی واپس لے لی گئی ہے،اب صرف کپتان بابر ہی یہ فیصلہ کریں گے۔انضمام کہتے ہیں کہ یہ ایک فضول سی بات کی گئی ہے کیونکہ مصباح اس سے قبل چیف سلیکٹر بھی تھے،ابتدائی اسکواڈ چیف سلیکٹر منتخب کرتا ہے،وہ بھی کرتے تھے۔ پھر 16 یا 20 کھلاڑیوں میں سے 11 رکنی ٹیم کی سلیکشن مصباح پہلے بھی نہیں کرسکتے تھے تو پابندی کیسی۔انضمام نے بتایا ہے کہ جب بھی 11رکنی ٹیم فائنل ہوتی ہےتو کاغذ پر دستخط اکیلے کپتان کے ہی ہوتے ہیں،ہیڈ کوچ یاکوچنگ اسٹاف کے نہیں ہوتے۔مصباح زیادہ سےزیادہ کپتان کو رائے دے سکتے ہیں اور وہ اب بھی دیں گے،وقار بھی رائے دے سکتے ہیں،حتمی فیصلہ کپتان ہی کوکرنا ہے،اس لئے یہ کہنا کہ مصباح پر 11 رکنی ٹیم سلیکشن کی پابندی لگ گئی یا انہیں محدود کردیا گیا،ایک فضول سی بات لگتی ہے۔
انضمام نے اور بھی چھوٹی چھوٹی باتیں کی ہیں لیکن یہاں سے کرک سین انضمام الحق کی توجہ ایک اہم بات کی جانب کروانا چاہتا ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ جہاں سے یہ خبر نکلی ہے،وہ بے معنی نہیں ہے،اس لئے کہ وہاں سے ہمیشہ ہی مستند خبریں آتی ہیں اور آتی رہیں گی۔اس خبر کا وہ مطلب نہیں ہے جو انضمام الحق نے لیا ہے بلکہ اس خبر کے2مطلب ہیں۔
پہلا یہ کہ مصباح اب تک 11رکنی ٹیم سلیکشن میں زبردستی اپنی رائے اور فیصلے کو شامل کروارہے تھے۔پی سی بی نے انہیں سختی سے روک دیا ہے۔
دوسرامطلب یہ ہے کہ مصباح کی رخصتی ان یقینی ہوگئی ہے اور پی سی بی نے یہ خبر خود نکلوائی ہے تاکہ ہیڈ کوچ کی عزت افزائی ہوسکے اور وہ ویسے ہی ہورہی ہے کہ جیسے پی سی بی نے چاہا تھا،ورنہ یہ خبر باہر نہ نکلتی اور مصباح کو خاموشی سے روک دیا جاتا۔
انضمام الحق خبر پر رد عمل دینے کی بجائے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیں کہ وہ لیجنڈری کرکٹرز کو ذلیل کرنے کا پرانا طریقہ چھوڑ دے اور جسے رکھنا ہے،عزت کے ساتھ رکھے اور جسے رخصت کرنا ہے،اسے بھی اہتمام کے ساتھ خدا حافظ بولیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں